دانستہ کر کے ترک سفر رو پڑے ہیں ہم
دانستہ کر کے ترک سفر رو پڑے ہیں ہم کس کو ہمارے غم کی خبر رو پڑے ہیں ہم سمجھے تھے اہل بزم کہ ہم مسکرائیں گے یہ بھی ہے اک فریب نظر رو پڑے ہیں ہم ذکر غم حیات پھر اک بار چھڑ گیا محفل میں تیری بار دگر رو پڑے ہیں ہم آنکھوں کے سامنے وہی منزل ہے دار کی یاد آئی تیری راہ گزر رو پڑے ہیں ...