قومی زبان

ہجر کی شام آخری تو نہیں

ہجر کی شام آخری تو نہیں میری ہے کون وہ مری تو نہیں بات میری ہے کہ بچھڑتے ہیں مانتا ہوں مگر کہی تو نہیں تم کو جانا ہے تو چلی جاؤ آنکھیں کھولیں ہیں تو گئی تو نہیں کیا تھا وہ ہیر کی کہانی میں جو یہاں پہ ہوا وہی تو نہیں مسکراتے ہو میری غربت پر یہ کسی پر سدا رہی تو نہیں یہ جو چلتی ہے ...

مزید پڑھیے

خوشیاں یاد نہیں ہیں اور غم یاد نہیں

خوشیاں یاد نہیں ہیں اور غم یاد نہیں کیسا ہمدم ہے جس کو ہم یاد نہیں ایک عرصے سے بھولا ہوا ہوں میں اس کو ہوئیں تھیں میری آنکھیں کب نم یاد نہیں ہم تو ازل سے تنہا تھے سو تنہا ہیں غم وہ ملے ہیں خوشی کا عالم یاد نہیں جس میں پھول کھلا کرتے ہیں الفت کے کیا تم کو وہ پیار کا موسم یاد ...

مزید پڑھیے

سوچتے ہیں یار کے ہی سر پہ وار دیں تجھے

سوچتے ہیں یار کے ہی سر پہ وار دیں تجھے زندگی گزارنے کو ہم گزار دیں تجھے ہم تو چاہتے ہیں تجھ کو دل میں ہی اتار دیں دل تو چاہتا ہے اپنا اور پیار دیں تجھے کیوں بدل گیا ہے تو کیا ہوا ہے یار جی دل سے اپنے آج ہم کیوں اتار دیں تجھے رک ہمارے پاس تو دو گھڑی کے واسطے مل ہماری زندگی ہم سنوار ...

مزید پڑھیے

سلیقہ بولنے کا ہو تو بولو

سلیقہ بولنے کا ہو تو بولو نہیں تو چپ بھلی ہے لب نہ کھولو خموشی کا کوئی تو بھید کھولو جو لب کھلتے نہیں آنکھوں سے بولو عداوت کوئی پیمانہ نہیں ہے محبت کو محبت ہی سے تولو قیادت کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ جو آگے ہو اس کے ساتھ ہو لو بہت سے غم چھپے ہوں گے ہنسی میں ذرا ان ہنسنے والوں کو ...

مزید پڑھیے

مرے وجود کو پامال کرنا چاہتا ہے

مرے وجود کو پامال کرنا چاہتا ہے جو حادثہ ہے مجھی پر گزرنا چاہتا ہے وہ جنبش اپنے لبوں کو نہ دے یہ بات الگ ادا ادا سے مگر بات کرنا چاہتا ہے کماں سے چاہے نہ نکلے کسی کا تیر نظر مگر یہ لگتا ہے دل میں اترنا چاہتا ہے گماں یہ ہوتا ہے تصویر دیکھ کر تیری کہ عکس سے ترا پیکر ابھرنا چاہتا ...

مزید پڑھیے

خود کسی سطح پہ آنے میں بڑا وقت لگا

خود کسی سطح پہ آنے میں بڑا وقت لگا اپنی پہچان بنانے میں بڑا وقت لگا خواہش دید کے اظہار میں بھی دیر لگی ان کو بھی پردہ اٹھانے میں بڑا وقت لگا گھر سے ہجرت پہ نکل جانا تھا لمحوں کا عمل پھر کہیں بسنے بسانے میں بڑا وقت لگا تعزیت کیجیے اب وقت عیادت تو گیا آپ آئے مگر آنے میں بڑا وقت ...

مزید پڑھیے

غم دل کو زمانے سے چھپانا بھی نہیں آتا

غم دل کو زمانے سے چھپانا بھی نہیں آتا ہمیں تو ٹھیک سے آنسو بہانا بھی نہیں آتا سجا کر کس طرح رکھی ہیں کمرے میں تری یادیں اگرچہ ٹھیک سے ہم کو سجانا بھی نہیں آتا رہوں گا کس طرح خواہش کی بستی میں اکیلا میں کروں گا کیا مجھے پیسہ کمانا بھی نہیں آتا بنیں گے کیا شکاری ہم تمہارے سامنے ...

مزید پڑھیے

افسوس تری یاد نے رستہ نہیں بدلا

افسوس تری یاد نے رستہ نہیں بدلا ورنہ تو مرے گاؤں میں کیا کیا نہیں بدلا جو موم کا پتلا تھا وہ پگھلا نہیں اب تک جو آگ کا دریا تھا وہ دریا نہیں بدلا موسم کی طرح روز بدلنا نہیں آتا بچپن سے اسی واسطے چہرہ نہیں بدلا اب تک وہ مرے خون کا پیاسا ہے مرا یار اب تک مرے دشمن کا وہ لہجہ نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی مٹائے پھرتا ہوں

اپنی ہستی مٹائے پھرتا ہوں رنج کیا کیا اٹھائے پھرتا ہوں شب گزرتی ہے اس کی یادوں میں سارا دن لڑکھڑائے پھرتا ہوں اب تو عادی ہوں درد سہنے کا اب تو بس سر جھکائے پھرتا ہوں عمر لمبی ہو میری آنکھوں کی خواب تیرے سجائے پھرتا ہوں آخری فرد ہوں قبیلے کا دل میں یادیں بسائے پھرتا ...

مزید پڑھیے

اشکوں نے سمندر میں اک آگ لگائی ہے

اشکوں نے سمندر میں اک آگ لگائی ہے پانی پہ ستم گر کی تصویر بنائی ہے اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے اس دل نے مجھے پھر سے وہ یاد دلائی ہے یہ کیسی جدائی ہے جو ختم نہیں ہوتی یہ کیسی اداسی ہے اس دل پہ جو چھائی ہے میں نے ہی محبت کا اظہار کیا پہلے میں نے ہی اسے جا کر یہ بات بتائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 409 سے 6203