قومی زبان

یاد آیا نہ کرو دل کو جلانے والے

یاد آیا نہ کرو دل کو جلانے والے ہم نہیں اب کے ترا ہجر منانے والے غم سنانے کے لیے میں بھی چلا جاؤں گا لوگ مل جائے اگر اشک بہانے والے نیند اس بار مرا ساتھ نہیں دے گی کبھی خواب اس بار نہیں ہاتھ میں آنے والے آ کسی روز مرے سامنے اک بار کہیں خواب میں آ کے مری نیند چرانے والے میں رہا ...

مزید پڑھیے

عشق جائی کہاں سے آئی ہے

عشق جائی کہاں سے آئی ہے یہ جدائی کہاں سے آئی ہے جب گئی تھی جوان لڑکی تھی بوڑھی مائی کہاں سے آئی ہے میں نکما ہوں مانتا بھی ہوں کامیابی کہاں سے آئی ہے اس محبت کو خود ہی چھوڑا تھا جا چکی تھی کہاں سے آئی ہے میں تمہارے بغیر مر جاؤں اتنی ہستی کہاں سے آئی ہے عشق کرتی ہے تو نمازوں ...

مزید پڑھیے

میں تو سمجھا تھا مرا کردار ہی مارا گیا

میں تو سمجھا تھا مرا کردار ہی مارا گیا اس کہانی میں کہانی کار ہی مارا گیا دشمنی کرنے کا پھر کیا فائدہ ہے تو بتا میں ترے ہاتھوں اگر بے کار ہی مارا گیا میں خیال یار کی سوچوں کو سوچوں کس طرح میں خیال یار میں سو بار ہی مارا گیا پھر محبت ہو گئی ہم کو تمہاری یاد سے پھر دل بسمل دل بیمار ...

مزید پڑھیے

بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیا

بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیا اک تیر تھا کہ صاف جگر سے نکل گیا خود رفتگی ہی چشم حقیقت جو وا ہوئی دروازہ کھل گیا تو میں گھر سے نکل گیا محو جمال رہ گئے ہم کچھ خبر نہیں آیا کدھر سے یار کدھر سے نکل گیا کیسا ہوا ہوا مرے رونے کو دیکھ کر دامان ابر دیدۂ تر سے نکل گیا رونے سے ہجر یار ...

مزید پڑھیے

دل پر داغ باغ کس کا ہے

دل پر داغ باغ کس کا ہے دیدۂ تر ایاغ کس کا ہے مے کدہ صحن باغ کس کا ہے ساغر گل ایاغ کس کا ہے داغ چمکا چلی نسیم بہار یہ ہوا میں چراغ کس کا ہے کیوں کہیں زلف یار کو سنبل یاں پریشاں دماغ کس کا ہے دل پر داغ کی یہی ہے بہار نہ کھلے خانہ باغ کس کا ہے ناصحا مغز کیوں پھراتا ہے چل ترا سا دماغ ...

مزید پڑھیے

آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگا

آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگا ہم ہوں گے یار ہوگا جام شراب ہوگا نالوں سے اپنی اک دن وہ انقلاب ہوگا دم بھر میں آسماں کا عالم خراب ہوگا دکھلائیں گے تجھے ہم داغ جگر کا عالم منہ اس طرف کبھی تو اے آفتاب ہوگا اے زاہد ریائی دیکھی نماز تیری نیت اگر یہی ہے تو کیا ثواب ہوگا وہ رد خلق ...

مزید پڑھیے

یہ جل جاتے ہیں لب تک آہ بھی آنے نہیں دیتے

یہ جل جاتے ہیں لب تک آہ بھی آنے نہیں دیتے مدد کے واسطے آواز پروانے نہیں دیتے کہیں پر ذکر ان کا بھی نہ آ جائے اسی ڈر سے وہ روداد محبت ہم کو دہرانے نہیں دیتے مرے بچے بھی میری ہی طرح خوددار ہیں شاید خیال مفلسی مجھ کو کبھی آنے نہیں دیتے چلے ہو مے کشو پینے مگر تم ہوش مت کھونا کسی کو ...

مزید پڑھیے

ڈر موت کا نہ خوف کسی دیوتا کا تھا

ڈر موت کا نہ خوف کسی دیوتا کا تھا وہ فتح یاب یوں تھا کہ بندہ خدا کا تھا پہلے بھی حادثات ہوئے زندگی کے ساتھ لیکن جو آج دیکھا وہ منظر بلا کا تھا لو وہ بھی گر گیا مرے آنگن کا پیڑ آج ہر وقت جس سے آسرا تازہ ہوا کا تھا سن کر جسے پہاڑوں کے سینے دہل گئے یہ بھی کرشمہ دوستو اپنی صدا کا ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں بھائی کا بھائی کھل کے دشمن ہو گیا

جانے کیوں بھائی کا بھائی کھل کے دشمن ہو گیا گھر میں دیواریں اٹھانا اب تو فیشن ہو گیا ایک مفلس کو سڑک پر گالیاں دینے کے بعد وہ سمجھتا ہے ہمارا نام روشن ہو گیا آج تو آئے ہمیں کس کی قیادت پر یقیں کل جو اپنا رہنما تھا آج رہزن ہو گیا دیکھ کر بچوں کو بھی اب یاد آتا ہی نہیں محو کچھ ایسا ...

مزید پڑھیے

نفس نمرود ہے کیا ہونا ہے

نفس نمرود ہے کیا ہونا ہے شرک موجود ہے کیا ہونا ہے کشف مقصود ہے کیا ہونا ہے حال مفقود ہے کیا ہونا ہے سجدے ہوتے ہیں کسے او غافل کون معبود ہے کیا ہونا ہے چھوڑ دنیائے دنی کا پیچھا اس سے کیا سود ہے کیا ہونا ہے ہست و بود تن خاکی اک دن نیست نابود ہے کیا ہونا ہے صاف ہوتا کہ ہو از خود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 410 سے 6203