قومی زبان

میں جس کو بھول جانے کا ارادہ کر رہا ہوں

میں جس کو بھول جانے کا ارادہ کر رہا ہوں اسی کو یاد پہلے سے زیادہ کر رہا ہوں ہے یہ بھی دوسروں کو پیاس کا احساس شاید سہانی رت ہے اور میں ترک بادہ کر رہا ہوں مبارک ہو جو تو منزل بمنزل بڑھ رہا ہے تو میں بھی یاد تجھ کو جادہ جادہ کر رہا ہوں نہیں منت کش احساں کسی کا رہ گزر میں میں تنہا ...

مزید پڑھیے

بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے

بجا کہ نقش کف پا پہ سر بھی رکھنا ہے مگر بلند مقام نظر بھی رکھنا ہے سخاوت ایسی دکھائی کہ گھر لٹا بیٹھے نہ سوچا یہ بھی کہ کچھ اپنے گھر بھی رکھنا ہے ہوں زخم زخم کہاں تک میں چارہ گر سے کہوں ادھر بھی رکھنا ہے مرہم ادھر بھی رکھنا ہے یہ جبر دیکھو کہ رہنا بھی ہے سر مقتل ہر ایک وار بھی ...

مزید پڑھیے

خوشی دامن کشاں ہے دل اسیر غم ہے برسوں سے

خوشی دامن کشاں ہے دل اسیر غم ہے برسوں سے ہماری زندگی کا ایک ہی عالم ہے برسوں سے ستم ہے آنسوؤں کا پونچھنے والا نہیں کوئی ہماری آنکھ بھی تر آستیں بھی نم ہے برسوں سے وضاحت چاہتا ہوں تجھ سے تیرے اس اشارے کی جو پیہم میری جانب ہے مگر مبہم ہے برسوں سے رہے ہم ساتھ بھی برسوں ترے کہلائے ...

مزید پڑھیے

جان نہیں پہچان نہیں ہے

جان نہیں پہچان نہیں ہے پھر بھی تو وہ انجان نہیں ہے ہر غم سہنا اور خوش رہنا مشکل ہے آسان نہیں ہے دل میں جو مر جائے وہ ہے ارماں جو نکلے ارمان نہیں ہے مجھ کو خوشی یہ ہے کہ خوشی کا مجھ پہ کوئی احسان نہیں ہے اب نہ دکھانا تابش جلوہ اب آنکھوں میں جان نہیں ہے سب کچھ ہے اس دور ہوس میں دل ...

مزید پڑھیے

نظر میں کوئی منزل ہے نہ جادہ چاہتا ہوں

نظر میں کوئی منزل ہے نہ جادہ چاہتا ہوں سفر چاہے کوئی ہو بے ارادہ چاہتا ہوں خوشی کا کیا خوشی میں چاہے کچھ تخفیف کر دو متاع غم زیادہ سے زیادہ چاہتا ہوں مرا مفہوم آسانی سے کھل جائے جہاں پر میں اپنا لہجۂ اظہار سادہ چاہتا ہوں مری نظروں کو وسعت دو جہاں کی دینے والے میں دامان تخیل ...

مزید پڑھیے

اگر رونا ہی اب میرا مقدر ہے محبت میں

اگر رونا ہی اب میرا مقدر ہے محبت میں تو دامن بھی تمہارا ہو مرے اشکوں کی قسمت میں سوالی ہو کے میں نے تیرے در کو بخش دی عزت نہیں تو کیا نہیں ہے میرے دامان محبت میں پئے بخشش ابھی دریائے رحمت جوش میں آئے کم از کم یہ اثر تو ہے مرے اشک ندامت میں پہنچ کر ان کے سنگ آستاں پر بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

بس کہ اب زلف کا سودا بھی مرے سر میں نہیں

بس کہ اب زلف کا سودا بھی مرے سر میں نہیں کیا کروں مانگ کے اس کو جو مقدر میں نہیں وہ بھی منظر تھا کہ خود مجھ میں تھا اک اک منظر یہ بھی منظر ہے کہ اب میں کسی منظر میں نہیں اب جو ہم خود کو سمیٹیں تو سمیٹیں کتنا سر بھی ہے اپنا کھلا پاؤں بھی چادر میں نہیں اے مرے شوق شہادت ترا حافظ ہے ...

مزید پڑھیے

گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے

گئی ہے شام ابھی زخم زخم کر کے مجھے اب اور خواب نہیں دیکھنے سحر کے مجھے ہوں مطمئن کہ ہوں آسودۂ غم جاناں مجال کیا کہ خوشی دیکھے آنکھ بھر کے مجھے کہاں ملے گی بھلا اس ستم گری کی مثال ترس بھی کھاتا ہے مجھ پر تباہ کر کے مجھے میں رہ نہ جاؤں کہیں تیرا آئینہ بن کر یہ دیکھنا نہیں اچھا ...

مزید پڑھیے

مری وفا مرا ایثار چھین لے مجھ سے

مری وفا مرا ایثار چھین لے مجھ سے ہے کون جو مرا کردار چھین لے مجھ سے یہ زندگی کوئی سو بار چھین لے مجھ سے مگر نہیں کہ ترا پیار چھین لے مجھ سے یہ وقت وہ ہے کہ قدموں میں بیٹھنے والا یہ چاہتا ہے کہ دستار چھین لے مجھ سے عطا ہو یا تو وہی دبدبہ وہی جذبہ نہیں تو یہ مری للکار چھین لے مجھ ...

مزید پڑھیے

ہم تم کہ روز و شب ملے شام و سحر ملے

ہم تم کہ روز و شب ملے شام و سحر ملے لیکن نہ دل نہ زاویہ ہائے نظر ملے چھلنی ہیں پاؤں کانٹوں بھری رہ گزر ملے ہم کو ہماری شان کے شایاں سفر ملے میں بھی کچھ اپنے کرب کا اظہار کر سکوں مجھ کو بھی کچھ سلیقۂ عرض ہنر ملے بے مانگے پائیں بوند بھی پیاسے تو جی اٹھیں دریا بھی لے کے خوش نہ ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 408 سے 6203