قومی زبان

بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا

بھلا ہو جس کام میں کسی کا تو اس میں وقفہ نہ کیجئے گا خیال زحمت نہ کیجئے گا ملال ایذا نہ کیجئے گا وہ مجھ سے فرما رہے ہیں ہنس کر ہمیشہ ملنے کی آرزو پر ملال ہوگا محال شے کی کبھی تمنا نہ کیجئے گا حباب ہے زندگی کا نقشہ کہاں کا دن ماہ و سال کیسا ہوا ہے یہ دم کا کیا بھروسہ امید فردا نہ ...

مزید پڑھیے

ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے

ہوے خلق جب سے جہاں میں ہم ہوس نظارۂ یار ہے ٹھہر اے اجل کہ وہ آئیں گے دم واپسیں کا قرار ہے رہیں محو کیوں نہ ہر ایک دم کہ نظر میں جلوۂ یار ہے دل منتظر ہے جو آئنہ تو خیال آئنہ دار ہے یہ خطائے عشق کی دی سزا کہ مژہ سے مردم چشم نے مرا دل دکھا کے یہ کہہ دیا اسے لو یہ قابل دار ہے یہ خدا ہی ...

مزید پڑھیے

قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ

قطع ہوتا رہے اس طرح بیان واعظ ایک ہی بات میں ہو بند زبان واعظ طرفہ آفت میں پھنسی آتی ہے جان واعظ کون مے خانہ میں تھا مرتبہ دان واعظ کیوں نہ مینائے مئے ناب پٹک دوں سر پر عیش جب تلخ ہو سن سن کے بیان واعظ اس طرح پند و نصیحت کی اٹھائی تمہید آج ساقی پہ ہوا مجھ کو گمان واعظ تیزیٔ بادہ ...

مزید پڑھیے

اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات

اس سے کیا چھپ سکے بنائی بات تاڑ جائے جو دل کی آئی بات کہئے گزری ہے ایک ساں کس کی کبھی بگڑی کبھی بن آئی بات رہے دل میں تو ہے وہ بات اپنی منہ سے نکلی ہوئی پرائی بات میں سمجھتا ہوں یہ نئی چالیں کبھی چھپتی نہیں سکھائی بات کہہ دیا اپنے دل کو خود بے رحم چھین لی میرے منہ کی آئی ...

مزید پڑھیے

مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہو

مری خاطر کوئی نامہ کوئی پیغام تو ہو دل مضطر کو کسی طور سے آرام تو ہو مجھ سے آوارہ کو مل جائے مگر جائے اماں آرزو ہے ترے کوچے میں کبھی شام تو ہو موج خوں سر سے گزر جائے تو کچھ بات بنے آج زنداں میں بھی تزئین در و بام تو ہو تپتے صحرا میں بھی سایہ کہیں مل جائے گا پہلے اے دوست تجھے جرأت ...

مزید پڑھیے

جلوہ گر آج ہے وہ مہر منور کی طرح

جلوہ گر آج ہے وہ مہر منور کی طرح بخت اپنا بھی چمکتا ہے سکندر کی طرح اس کی رفتار ہے بس موجۂ کوثر کی طرح گفتگو میں ہے کھنک شیشہ و ساغر کی طرح کس کو یارائے سخن ہے اسے ہم بھی دیکھیں وہ مخاطب ہے مگر داور محشر کی طرح کیا خبر لوگ کسے اپنا خدا کہہ دیں گے لاکھ بت ہم نے تراشے تو ہیں آزر کی ...

مزید پڑھیے

اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے

اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے اک چراغ اور سر راہ گزر باقی ہے وہ ہماری نہیں سنتا تو گلہ ہے کیسا اب کہاں اپنی دعاؤں میں اثر باقی ہے دل میں باقی ہیں فقط چند لہو کے قطرے اب مرے پاس یہی زاد سفر باقی ہے پھر بنا لیں گے اسی جا پہ نشیمن اپنا آشیاں جس پہ تھا وہ شاخ شجر باقی ہے معصیت اشک ...

مزید پڑھیے

حد جنوں سے بھی آگے گئے ہیں دیوانے

حد جنوں سے بھی آگے گئے ہیں دیوانے ملے گی منزل مقصود کب خدا جانے کئے ہیں تو نے منور دلوں کے کاشانے ترے وجود سے آباد ہیں صنم خانے جو تم نہ تھے تو بہاریں خزاں سے بد تر تھیں تم آ گئے تو چمن بن گئے یہ ویرانے شب فراق ہجوم غم و الم کے طفیل تمہاری یاد چلی آئی دل کو بہلانے تمام عمر رہی ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا رنگینیٔ صبح و مسا باقی نہیں

کیا ہوا رنگینیٔ صبح و مسا باقی نہیں اپنے ہی گھر میں وہ پہلی سی فضا باقی نہیں آرزؤں کا کوئی بھی سلسلہ باقی نہیں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی مسئلہ باقی نہیں آ گیا ہے اب سوا نیزے پہ دیکھو آفتاب اپنا سایہ بھی زمیں پر زیر پا باقی نہیں منزلیں آواز دیتی ہیں کہ ہم ہیں منتظر قافلے والوں میں ...

مزید پڑھیے

جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہے

جذبۂ شوق نے یوں داد وفا پائی ہے کھنچ کے منزل مرے قدموں میں چلی آئی ہے آج تک مٹ نہ سکی ماتھے سے سجدوں کی خلش ایک مدت سے ترے در پہ جبیں سائی ہے آئنہ توڑ کے ہاتھوں میں لئے بیٹھے ہیں عبرت انگیز یہ انجام خود آرائی ہے آپ آئیں نہ سہی مجھ کو بلائیں نہ سہی آپ کی یاد رفیق شب تنہائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4059 سے 6203