قومی زبان

سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیا

سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیا ہم سے متاع درد جگر کون لے گیا کیا ہو گیا ہے گردش دوراں تو ہی بتا حسن و جمال شام و سحر کون لے گیا شوریدگیٔ عشق کی لذت کہاں گئی سودا تھا جس میں تیرا وہ سر کون لے گیا منزل کی سمت بڑھتے نہیں کس لئے قدم اے دل متاع عزم سفر کون لے گیا دن میں حریم ناز کے ...

مزید پڑھیے

سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دو

سنی سنائی وہ آواز مر ہی جانے دو صدی کا غم ہے تو لمحے بکھر ہی جانے دو میں اپنی جان کی بازی لگائے بیٹھا ہوں ہر اک بلا مرے سر سے گزر ہی جانے دو لہو کے چھینٹوں سے ہو جائے گی فضا گلنار ہمارے سینے میں خنجر اتر ہی جانے دو یہ انتشار کا عالم یہ پر خطر ماحول عزیزو کاکل گیتی سنور ہی جانے ...

مزید پڑھیے

خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے

خود پہ وہ فخر کناں کیسا ہے اس کو اپنے پہ گماں کیسا ہے کوئی جنبش ہے نہ آہٹ نہ صدا یہ جہان گزراں کیسا ہے دل دھڑکنے کی بھی آواز نہیں سانحہ کاہش جاں کیسا ہے آج تک زخم ہرے ہیں دل کے مرہم چارہ گراں کیسا ہے اس سے نزدیک نہیں ہے کوئی وہ قریب رگ جاں کیسا ہے گل کھلا ہی گئی لیلائے بہار شور ...

مزید پڑھیے

اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبر

اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبر یوسف ہی معتبر نہ خریدار معتبر ایسے میں سوچتا ہوں کسے معتبر کہوں ملتا نہیں ہے جب کوئی کردار معتبر رہزن چھپے ہوئے ہیں پس سنگ میل راہ مطلق نہیں ہے سایۂ اشجار معتبر تاریک شب ہے اور لرزتے ہوئے چراغ لگتے نہیں ہیں صبح کے آثار معتبر کہنے کو سرفروش ...

مزید پڑھیے

کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناں

کہاں وہ سیم تناں ہیں کہاں وہ گل بدناں عزیز از دل و جاں ہے حدیث لالہ رخاں یہ ہم سے پوچھو جلال و جمال کیا شے ہے ہمارے گرد رہا ہے ہجوم ماہ وشاں مری نگاہ کو ہے دید کی کہاں فرصت ہیں یوں تو جلوے ہی جلوے فضا میں رقص کناں سکوں ہے کار گہ زیست میں کہاں یارو کشاں کشاں لئے پھرتی ہے گردش ...

مزید پڑھیے

چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ

چل نہیں سکتے وہاں ذہن رسا کے جوڑ توڑ ان کی چالیں ہیں قیامت کی بلا کے جوڑ توڑ ہے نظر انداز کوئی کوئی منظور نظر دیکھنا اس بت کی چشم فتنہ زا کے جوڑ توڑ کج ادائی بات ہے جس کی لگاوٹ کھیل ہے سیکھ لے اس فتنہ گر سے کوئی آ کے جوڑ توڑ پا کے قابو کرتے ہیں اہل غرض کیا داؤں گھات چلتے ہیں مطلب ...

مزید پڑھیے

شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے

شب کو نالہ جو مرا تا بہ فلک جاتا ہے صبح کو مہر کے پردے میں چمک جاتا ہے اپنا پیمانۂ دل ہے مئے غم سے لبریز بوند سے بادۂ عشرت کی چھلک جاتا ہے کمر یار کی لکھتا ہوں نزاکت جس دم خامہ سو مرتبہ کاغذ پہ لچک جاتا ہے یاد آتی ہے کبھی صحبت احباب اگر ایک شعلہ ہے کہ سینے میں بھڑک جاتا ...

مزید پڑھیے

مجھے ڈھونڈنا بڑا آسان ہے

میں جلتا رہتا ہوں دو حصوں میں میں جینے کی کوشش نہیں کرتا لوگ مجھے جینا چاہتے ہیں یوں ہی بکھرے وجودوں میں وہ مجھے چن چن کر اوڑھ لیتے ہیں بھوکے پیٹوں بے حیات پوروں میں کوئی لفظ نہیں ہوتا جانے کیوں میں ان کی زبان کی گالی بن جاتا ہوں میں ننگ نفس میں اٹھتا ہوں بیٹھتا ہوں کوئی غیر مرئی ...

مزید پڑھیے

شاعر کی زندگی کا تجزیہ کرنا انتہائی مشکل ہے

ایک شاعر کی زندگی کا تجزیہ کرنا انتہائی مشکل ہے کہ وہ خوش ہے یا نا خوش ہنستا ہے یا روتا ہے یا روتے میں ہنستا ہے کچھ بھی فیصلہ انداز انداز میں کہا جا سکتا کہ کچھ کہنے سے پہلے کیا سوچتا ہے کمرے کی چار دیواری میں مرنا نہایت آسان ہے مگر لفظوں کی اس گونا گوں دنیا میں ایک شاعر کی زندگی ...

مزید پڑھیے

یقین کی کوئی حد نہیں ہوتی

میرے اطمینان کے لئے نیلے سمندر حسین جھیل یا کسی گھاس سے لپٹے ہوئے تالاب کا ذکر ضروری نہیں میرا یقین سمندر جھیل اور ایک تالاب سے زیادہ سادہ ہے یہ آنکھوں پہ ہی اعتبار کر لیتا ہے آنکھیں چاہے سوکھی ہوں یا پر آشوب ان کی گہرائی کا مقابلہ پانی سے نہیں کیا جا سکتا آنکھیں خوش ہوں یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4060 سے 6203