قومی زبان

ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے

ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے ہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتے بڑھی چاہ دونوں طرف بڑھتے بڑھتے محبت ہوئی اس قدر ہوتے ہوتے ترا راستہ شام سے تکتے تکتے مری آس ٹوٹی سحر ہوتے ہوتے کئے جا ابھی مشق فریاد بلبل کہ ہوتا ہے پیدا اثر ہوتے ہوتے نہ سنبھلا محبت کا بیمار آخر گئی جان درد جگر ...

مزید پڑھیے

آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب

آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب آرزو میرے دل کی بر آئے سب کا پورا کرے خدا مطلب کر نہ مجھ کو سبک رقیبوں میں یوں ہنسی میں نہ تو اڑا مطلب رک گئی بات تا زباں آ کر دل کا دل ہی میں رہ گیا مطلب ضد ہی ضد شیخ و برہمن کی تھی ورنہ دونوں کا ایک تھا مطلب میری اک بات میں ...

مزید پڑھیے

شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے

شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے کسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھے پکارتا نہیں کوئی لحد پر آ کے مجھے مرے نصیب بھی کیا سو رہے سلا کے مجھے وہ بولے وصل کے شب آپ میں نہ پا کے مجھے چلے گئے ہیں کہاں اپنے گھر بلا کے مجھے گرا دیا ہے کچھ اس طرح اس نے آنکھوں سے کہ دیکھتا نہیں کوئی نظر ...

مزید پڑھیے

ان کو دل دے کے پشیمانی ہے

ان کو دل دے کے پشیمانی ہے یہ بھی اک طرح کی نادانی ہے وصل سے آج نیا ہے انکار تم نے کب بات مری مانی ہے آپ دیتے ہیں تسلی کس کو ہم نے اب اور ہی کچھ ٹھانی ہے حال بن پوچھے کہے جاتا ہوں اپنے مطلب کی یہ نادانی ہے کس قدر بار ہوں غم خواروں پر کیا سبک میری گراں جانی ہے گھر بلا کر وہ مجھے ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ کوئی خواب سجایا نہیں گیا

پلکوں پہ کوئی خواب سجایا نہیں گیا وہ شخص ساری عمر بھلایا نہیں گیا اس نے بھی میری بات نہ مانی کبھی کوئی مجھ سے بھی اس کا ناز اٹھایا نہیں گیا اپنی انا کا بوجھ میں ڈھوتا رہا مگر سر اس کے سنگ در پہ جھکایا نہیں گیا بے چہرگی ہی اب مری پہچان بن گئی چہرے پہ کوئی چہرہ لگایا نہیں ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کی زلفیں سنوار تھوڑی دیر

خیال و خواب کی زلفیں سنوار تھوڑی دیر ابھی ہے اور شب انتظار تھوڑی دیر محبتوں کے یہ پیکر یہ دوستی کے امین وفا کے ہوتے ہیں سب پاسدار تھوڑی دیر ابھی نہ روکئے ان آنسوؤں کو پلکوں پر نکلنے دیجئے دل کا غبار تھوڑی دیر تمام عمر رہا اس کا انتظار مجھے جو کہہ گیا تھا کرو انتظار تھوڑی ...

مزید پڑھیے

لو دینے لگا ہے تری یادوں کا دیا پھر

لو دینے لگا ہے تری یادوں کا دیا پھر بہکے نہ کہیں دیکھنا جنگل کی ہوا پھر تجدید محبت کا خیال آیا ہے اس کو پائے نہ کہیں جرم وفا کی وہ سزا پھر شاید کہ لی انگڑائی کسی چاند بدن نے ہیجان سا خاموش سمندر میں اٹھا پھر عفریت شب تار نے لب کھولے ہیں کیا کیا خاموشیٔ صحرا سے اٹھے کوئی صدا ...

مزید پڑھیے

لفظ و معنی کی یہ سب جھوٹی نمائش چھوڑ دے

لفظ و معنی کی یہ سب جھوٹی نمائش چھوڑ دے یوں ہمہ دانی کی ناداں اپنی خواہش چھوڑ دے زد پہ آ جائے گا تیرا آئنہ بھی یاد رکھ آئنوں پہ سنگ برسانے کی کوشش چھوڑ دے آگ جب بھڑکے گی کوئی گھر نہ بچ پائے گا پھر دوسروں کا گھر جلانے کی یہ سازش چھوڑ دے بن نہ جائے وجہ رسوائی یہ تیری ایک دن اپنے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں موندے سب کچھ بھولے کب سے یوں ہی بیٹھے ہیں

آنکھیں موندے سب کچھ بھولے کب سے یوں ہی بیٹھے ہیں پلکوں پہ کچھ خواب سجائے جاگے جاگے سوئے ہیں کس سے کیا رشتہ تھا میرا اب تو یہ بھی یاد نہیں ریزہ ریزہ آئینہ ہے بکھرے بکھرے چہرے ہیں اپنے گھر کی ویرانی کا ہم کس سے کیا حال کہیں سونا سونا دروازہ ہے خالی خالی کمرے ہیں تنہائی کے ...

مزید پڑھیے

پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر

پتھر سے نہ مارو مجھے دیوانہ سمجھ کر آیا ہوں ادھر کوچۂ جانانہ سمجھ کر کہتے ہیں یہ رونے سے لگی دل کی بجھے گی سمجھاتے ہیں اپنا مجھے پروانہ سمجھ کر میں وہ ہوں کہ سیری مجھے ہوتی نہیں مے سے دینا مرے ساقی مجھے پیمانہ سمجھ کر نخوت سے جو اک بات نہ سنتے تھے ہماری خود چھیڑ رہے ہیں ہمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3999 سے 6203