ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے
ادھر ہوتے ہوتے ادھر ہوتے ہوتے ہوئی دل کی دل کو خبر ہوتے ہوتے بڑھی چاہ دونوں طرف بڑھتے بڑھتے محبت ہوئی اس قدر ہوتے ہوتے ترا راستہ شام سے تکتے تکتے مری آس ٹوٹی سحر ہوتے ہوتے کئے جا ابھی مشق فریاد بلبل کہ ہوتا ہے پیدا اثر ہوتے ہوتے نہ سنبھلا محبت کا بیمار آخر گئی جان درد جگر ...