قومی زبان

ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے

ہائے اب کون لگی دل کی بجھانے آئے جن سے امید تھی اور آگ لگانے آئے درد مندوں کی یوں ہی کرتے ہیں ہمدردی لوگ خوب ہنس ہنس کے ہمیں آپ رلانے آئے خط میں لکھتے ہیں کہ فرصت نہیں آنے کی ہمیں اس کا مطلب تو یہ ہے کوئی منانے آئے آنکھ نیچی نہ ہوئی بزم عدو میں جا کر یہ ڈھٹائی کہ نظر ہم سے ملانے ...

مزید پڑھیے

زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے

زمانے کا بھروسا کیا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے یہی ہے رنگ دنیا کا ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے جوانی کی ہے آمد حسن کی ہر دم ترقی ہے تری صورت ترا نقشہ ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے نہ آئے گا قرار اس کو نہ ممکن ہے قیام اس کو ہمارا دل ترا وعدہ ابھی کچھ ہے ابھی کچھ ہے کبھی تو جستجو اس کی کبھی گم آپ ...

مزید پڑھیے

منہ مرا ایک ایک تکتا تھا

منہ مرا ایک ایک تکتا تھا اس کی محفل میں میں تماشا تھا ہم جو تجھ سے پھریں خدا سے پھریں یاد ہے کچھ یہ قول کس کا تھا وصل میں بھی رہا فراق کا غم شام ہی سے سحر کا کھٹکا تھا اپنی آنکھوں کا کچھ قصور نہیں حسن ہی دل فریب اس کا تھا فاتحہ پڑھ رہے تھے وہ جب تک میری تربت پر ایک میلا تھا نامہ ...

مزید پڑھیے

یوں اٹھا دے ہمارے جی سے غرض

یوں اٹھا دے ہمارے جی سے غرض ہو نہ تیرے سوا کسی سے غرض وہ منائے گا جس سے روٹھے ہو ہم کو منت سے عاجزی سے غرض یہ بھی احسان ہے قناعت کا اپنی اٹکی نہیں کسی سے غرض یہ محل بھی مقام عبرت ہے آدمی کو ہو آدمی سے غرض درد مندوں کو کیا دوا سے کام غم نصیبوں کو کیا خوشی سے غرض حسن آرائشوں کا ہو ...

مزید پڑھیے

ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کی

ادا پریوں کی صورت حور کی آنکھیں غزالوں کی غرض مانگے کی ہر اک چیز ہے ان حسن والوں کی بجائے رقص مے خانے میں ہے گردش پیالوں کی تکلف بر طرف یہ بزم ہے اللہ والوں کی نشاں جب مٹ گیا تربت کا آئے فاتحہ پڑھنے انہیں کب یاد آئی ہیں وفائیں مرنے والوں کی ہوا دو گز کفن منعم کو حاصل مال دنیا ...

مزید پڑھیے

کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا

کہا یہ کس نے کہ وعدے کا اعتبار نہ تھا وہ اور بات تھی جس سے مجھے قرار نہ تھا شب وصال وہ کس ناز سے یہ کہتے ہیں ہمارے ہجر میں سچ مچ تجھے قرار نہ تھا بگھارتا ہے جو اب شیخ زہد کی باتیں تو کیا یہ عہد جوانی میں بادہ خوار نہ تھا فقط تھی ایک خموشی مرے سخن کا جواب نہیں نہیں تجھے کہنا ہزار ...

مزید پڑھیے

خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے

خود بہ خود آنکھ بدل کر یہ سوال اچھا ہے روز کب تک کوئی پوچھا کرے حال اچھا ہے ہجر میں عیش گزشتہ کا خیال اچھا ہے ہو جھلک جس میں خوشی کی وہ مآل اچھا ہے داغ بہتر ہے وہی ہو جو دل عاشق میں جور ہے عارض خوباں پہ وہ خال اچھا ہے دیکھ ان خاک کے پتلوں کی ادائیں زاہد ان سے کس بات میں حوروں کا ...

مزید پڑھیے

ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا

ہم کو دکھا دکھا کے غیروں کے عطر ملنا آتا ہے خوب تم کو چھاتی پہ مونگ دلنا محشر بپا کیا ہے رفتار نے تمہاری اس چال کے تصدق یہ بھی ہے کوئی چلنا غیروں کے گھر تو شب کو جاتے ہو بارہا تم بھولے سے میرے گھر بھی اک روز آ نکلنا ہٹ کی کچھ انتہا ہے ضد کی بھی کوئی حد ہے یہ بات بات پر تو اچھا ...

مزید پڑھیے

دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید

دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید قاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شاید آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں باتیں ہیں بہکی بہکی آئے ہو تم کہیں سے پی کر شراب شاید کیا جانے کس ہوا میں اتنا ابھر رہا ہے ہستی نہیں سمجھتا اپنی حباب شاید مجھ پر جو وہ سحر سے اس درجہ مہرباں ہیں شب کی دعا ہوئی ہے کچھ مستجاب ...

مزید پڑھیے

عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے

عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے نظر نہ جس سے ملاتے تھے ہم وہی اب آنکھیں دکھا رہا ہے بڑھی ہے آپس میں بد گمانی مزہ محبت کا آ رہا ہے ہم اس کے دل کو ٹٹولتے ہیں تو ہم کو وہ آزما رہا ہے گھر اپنا کرتی ہے نا امیدی ہمارے دل میں غضب ہے دیکھیو یہ وہ مکاں ہے کہ جس میں برسوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3998 سے 6203