قومی زبان

ضبط سے کام لے آہوں میں اثر ہونے تک

ضبط سے کام لے آہوں میں اثر ہونے تک شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک وہ نشیمن بھی تو صیاد مرا چھوٹ گیا ہم بچائے تھے جسے نذر شرر ہونے تک تم نہ آئے تو شب ہجر ستارے چن کر ہم نے پلکوں میں سجائے تھے سحر ہونے تک سلسلہ گریۂ پیہم کا نہ چھوٹے یا رب اس کے دامن کا مرے اشکوں سے تر ہونے ...

مزید پڑھیے

کارخانۂ جہاں میں شور ماتم دیکھیے

کارخانۂ جہاں میں شور ماتم دیکھیے محفل عیش و طرب میں چشم پر نم دیکھیے نقش ہستی دیدۂ عبرت سے ہمدم دیکھیے دنیا دنیا دیکھ لی اب عالم عالم دیکھیے میں پرستار محبت ٹھہرا مجھ کو چھوڑیئے آپ پہلے مقصد تخلیق آدم دیکھیے یوں تو انداز بیاں ہیں دل نشیں سب کے مگر اک نئے انداز میں افکار ہمدم ...

مزید پڑھیے

ذرا سوچو تو میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے

ذرا سوچو تو میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہے بدن ٹوٹا ہوا تھا پارا پارا کیوں ہوا ہے خود اپنی موج سے بیگانہ دریا کیوں ہوا ہے جو ہونا ہی نہیں تھا آج ایسا کیوں ہوا ہے سروں پر آسماں ڈوبا ہوا ہے بادلوں میں دکھوں کی جھیل کا پانی بھی گہرا کیوں ہوا ہے خدایا عاجزی سے میں نے مانگا کیا ملا ...

مزید پڑھیے

ہم نے ظاہر کیا سخن میں بہت

ہم نے ظاہر کیا سخن میں بہت شور باقی ہے کیوں بدن میں بہت کون آیا ہے اس خرابے میں روشنی ہے کہیں بدن میں بہت کوئی آواز کیوں نہیں آتی ہو کا عالم ہے کیوں بدن میں بہت پھڑپھڑانے کی آ رہی ہے صدا کون بے چین ہے بدن میں بہت ہے زمیں سے زمین تک پرواز خاک اٹھتی ہے پیرہن میں بہت رنگ و بو ہی ...

مزید پڑھیے

یقین کیسے کروں گا گماں میں رہتا ہوں

یقین کیسے کروں گا گماں میں رہتا ہوں چراغ ہوں کسی اندھے مکاں میں رہتا ہوں چہار سمت اجالا ہے میرے ہونے سے میں ہر طرف ہوں مگر درمیاں میں رہتا ہوں مجھے تلاش کرو مجھ سے گفتگو کر لو میں اپنے حرف میں اپنے بیاں میں رہتا ہوں حقیر سا مرا کردار ہے کہانی میں مثال گرد کہیں کارواں میں رہتا ...

مزید پڑھیے

عکس کیا دیدۂ تر میں دیکھا

عکس کیا دیدۂ تر میں دیکھا ہم نے دریا کو بھنور میں دیکھا سر منزل کوئی منزل نہ ملی اک سفر اور سفر میں دیکھا نظر آیا کبھی بازار میں گھر کبھی رستہ کوئی گھر میں دیکھا سرخ رو جنگ سے لوٹ آیا تھا خوں میں لت پت جسے گھر میں دیکھا جانے کب آ کے یہاں بیٹھے تھے اپنا سایا بھی شجر میں ...

مزید پڑھیے

ہے مشقت مری انعام کسی اور کا ہے

ہے مشقت مری انعام کسی اور کا ہے کام میرا ہے مگر نام کسی اور کا ہے دھوپ تھی ساتھ جو دن بھر وہ کسی اور کی تھی کیا دھندلکا بھی سر شام کسی اور کا ہے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ ہی کسی کا سایا میری دیوار پہ یہ بام کسی اور کا ہے میں تو خود اپنے ہی نشے میں ہوں سرشار بہت ہاتھ میں ہے جو مرے جام کسی ...

مزید پڑھیے

کتنی محفوظ زندگی تھی کبھی

کتنی محفوظ زندگی تھی کبھی دشمنی تھی نہ دوستی تھی کبھی اب فقط قہقہے لگاتا ہوں میری آنکھوں میں بھی نمی تھی کبھی سوچ کر اب قدم اٹھاتا ہوں میری راہوں میں گم رہی تھی کبھی اب دھواں ہے جو پی رہے ہیں نم آگ ہر موڑ پر لگی تھی کبھی اب تو بدلا ہے اپنا پیمانہ جو بری ہے وہی بھلی تھی ...

مزید پڑھیے

مصلوب آفتاب سر شام کیوں ہوا

مصلوب آفتاب سر شام کیوں ہوا ہونا تھا حادثہ تو لب بام کیوں ہوا جس پر کسی جگہ بھی مرے دستخط نہ تھے منسوب میرے نام وہ پیغام کیوں ہوا وہ کون تھا جو ہاتھ ملا کر نکل گیا برپا حصار جسم میں کہرام کیوں ہوا بے راز راستے ہیں مناظر اداس ہیں قسطوں میں میرے شہر کا نیلام کیوں ہوا رتبہ ملا نہ ...

مزید پڑھیے

ہوا ہے سامنے آنکھوں کے خانداں آباد

ہوا ہے سامنے آنکھوں کے خانداں آباد مکان میں ہی ہوئے ہیں کئی مکاں آباد تمہاری یاد میں آباد جسم و جاں میرے تمہارے ذکر سے ہے میری داستاں آباد اجڑ گئی ہے ہر اک سمت موسم گل میں نہ باغباں ہے سلامت نہ گلستاں آباد کوئی پیام نہ کوئی عطا پتا ان کا کوئی بتائے کہاں پر ہیں رفتگاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3987 سے 6203