قومی زبان

ہاتھ خالی ہے کوئی کنکر اٹھا

ہاتھ خالی ہے کوئی کنکر اٹھا آنکھ سے ٹھہرا ہوا منظر اٹھا خامشی کا طنطنہ ہے ہر طرف شور یہ کیسا مرے اندر اٹھا کیا نہیں رکھا تھا میرے سامنے پھر بھی سجدے سے نہ میرا سر اٹھا اب بھی مالا مال ہے میرا ہنر سامنے سے میرے سیم و زر اٹھا میں بہت نادم ہوں اپنے کام سے میری مٹی سے نیا پیکر ...

مزید پڑھیے

کام آساں ہے مگر دیکھیے دشوار بھی ہے

کام آساں ہے مگر دیکھیے دشوار بھی ہے آگے دروازے کے رکھی ہوئی دیوار بھی ہے دینے والے سے مجھے کوئی شکایت کیوں ہے راہ میں دھوپ بھی ہے سایۂ اشجار بھی ہے قتل کر کے جو مجھے سائے میں پھینک آیا ہے لوگ کہتے ہیں وہی میرا طرفدار بھی ہے تجھ کو بس اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے آئنہ میں کہیں حیرت ...

مزید پڑھیے

عشق کے نام پہ دائم رہے زنداں آباد

عشق کے نام پہ دائم رہے زنداں آباد چاک تازہ سے رہے میرا گریباں آباد قیس کے بعد کسی نے کبھی پوچھا ہی نہیں ہم کو ہی کرنا پڑا پھر سے بیاباں آباد تختیاں لٹکی ہوئی نام کی دروازوں پر ہم نے دیکھے ہیں یہاں کتنے ہی زنداں آباد ہم نے رکھی نہ کبھی اپنے گھروندوں پہ نظر ہم نے دیکھے ہیں سدا ...

مزید پڑھیے

وہم کوئی گماں میں تھا ہی نہیں

وہم کوئی گماں میں تھا ہی نہیں نقش اپنا نشاں میں تھا ہی نہیں مجھ سے منسوب ہو گیا کیوں کر وہ جو میرے بیاں میں تھا ہی نہیں لوگ کیسے مرا یقیں کرتے جھوٹ میرے بیاں میں تھا ہی نہیں چور آیا گیا بھی خالی ہاتھ میں تو اپنے مکاں میں تھا ہی نہیں بس پرانی گھسی پٹی باتیں رنگ تازہ بیاں میں تھا ...

مزید پڑھیے

وحشت ہے بہت کم تو ہے زنجیر زیادہ

وحشت ہے بہت کم تو ہے زنجیر زیادہ چھوٹا سا مرا خواب ہے تعبیر زیادہ کیا جان میری صرف سلگنے کے لئے ہے کیجے نہ مرے جسم کی تفسیر زیادہ کس موڑ پہ دیوان کے میں رک سا گیا ہوں غالبؔ سے نظر آنے لگا میرؔ زیادہ کرتا ہوں اسی واسطے تدبیر بہت کم ہر کام میں کام آتی ہے تعبیر زیادہ کب تک یہ مرا ...

مزید پڑھیے

چھٹی ہے راہ سے گرد ملال میرے لیے

چھٹی ہے راہ سے گرد ملال میرے لیے کہ جھومتی ہے ہوا ڈال ڈال میرے لیے ہوا ہے کیا کروں جینا محال میرے لیے مرے ہی شہر سے مجھ کو نکال میرے لیے کوئی بھی کام نہیں ہو سکا ہے فرصت میں کہ کم پڑے ہیں بہت ماہ و سال میرے لیے وہ کون ہے جو مری آرتی اتارے گا سجا کے رکھا ہے کس نے یہ تھال میرے ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی چیز یہاں وقت ضرورت نہ ملی

کوئی بھی چیز یہاں وقت ضرورت نہ ملی کبھی صحرا جو ملا بھی کہیں وحشت نہ ملی بند کمرے میں یہ دستور کہاں سے آیا کیوں مجھے خود سے بھی ملنے کی اجازت نہ ملی کیوں ہر ایک موڑ پہ روکا ہے تلاشی کے لئے کیوں مجھے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ ملی اب یہی رنج مری آنکھ میں آ بیٹھا ہے توڑ کر آئنہ ...

مزید پڑھیے

بجھائی آگ تو روشن ہوا دھواں سا کچھ

بجھائی آگ تو روشن ہوا دھواں سا کچھ ہمارے ہاتھ میں آیا ہے رائیگاں سا کچھ قدم قدم پہ دھڑکتا ہے دل امیدوں کا قدم قدم پہ ہے در پیش امتحاں سا کچھ کہیں پہ نقص ملے اور کوئی بات بنے وہ ڈھونڈتے ہیں مرے سود میں زیاں سا کچھ وہی تو بن گیا باعث گرانئ جاں کا رکھا تھا گھر میں کہیں پر جو خانماں ...

مزید پڑھیے

زباں کے ساتھ یہاں ذائقہ بھی رکھا ہے

زباں کے ساتھ یہاں ذائقہ بھی رکھا ہے تمہارا ذکر تمہارا پتا بھی رکھا ہے سجا کے دھوپ کڑی آج گھر سے نکلے ہیں کسی کے سائے کو زیر قبا بھی رکھا ہے دھمال کے لیے کیا کم زمین پڑتی ہے جو آسمان کو سر پر اٹھا بھی رکھا ہے کسی طرح سے بھی رونق بڑھے مرے گھر کی بجھا ہوا ہی سہی اک دیا بھی رکھا ...

مزید پڑھیے

آ گماں سے گزر کے دیکھیں گے

آ گماں سے گزر کے دیکھیں گے آسماں سے اتر کے دیکھیں گے ڈوب کر آ ابھر کے دیکھیں گے پیچ سارے بھنور کے دیکھیں گے ختم ہو رات کا طویل سفر زینہ زینہ اتر کے دیکھیں گے کس قدر ہے عمیق سناٹا اپنے اندر اتر کے دیکھیں گے کیا گزرتی ہے زندگی کے بعد آؤ کچھ دیر مر کے دیکھیں گے پاس باقی تکان ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3988 سے 6203