قومی زبان

تو کبھی جب نہ پاس ہوتا ہے

تو کبھی جب نہ پاس ہوتا ہے میرا دل کیوں اداس ہوتا ہے تجھ سے شکوے تو ہیں بہت لیکن تیری الفت کا پاس ہوتا ہے بت پرستی خدا شناسی ہے سن کے ناصح اداس ہوتا ہے فکر ملبوس کب رہے گی بھلا فن اگر بے لباس ہوتا ہے میرے ہمدم شگفتہؔ تیری ہے کیوں گرفتار یاس ہوتا ہے

مزید پڑھیے

اب تو ایسا کوئی منظر بھی دکھایا جائے

اب تو ایسا کوئی منظر بھی دکھایا جائے جس سے روتے ہوئے بچوں کو ہنسایا جائے جرم دنیا میں یہی سب سے بڑا ہے بخدا دل کسی کا کبھی ہرگز نہ دکھایا جائے ایٹمی بم کے دھماکوں میں پلے بچوں کو کیسے مٹی کے کھلونوں سے لبھایا جائے کتنے معصوم ہیں بھولے سے یہ روشن چہرے ان کو روندا نہیں پلکوں پہ ...

مزید پڑھیے

تو مرے جگر کا قرار ہے تو مری نظر کی تلاش ہے

تو مرے جگر کا قرار ہے تو مری نظر کی تلاش ہے تجھے بھول سکتی ہوں کس طرح کہ تو عمر بھر کی تلاش ہے مرے ہم نفس مرے ہم نوا مری زندگی کا ہر ایک پل ہے اداس کتا تو دیکھ لے تری اک نظر کی تلاش ہے مرے خواب میں مری سانس میں مری سوچ میرے خیال میں ترے ہجر کی شب تار ہے کسی اک قمر کی تلاش ہے ہے اداس ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں سے ہٹ کر کچھ نہیں ہے

مری آنکھوں سے ہٹ کر کچھ نہیں ہے تری دنیا کا منظر کچھ نہیں ہے کوئی نیزہ کوئی سجدہ عطا کر ابھی تک تو مرا سر کچھ نہیں ہے ترے جغرافیہ کی دسترس میں مری بستی مرا گھر کچھ نہیں ہے یہی دو چار رستے ہیں یہاں کے یہاں کھو جائیں تو ڈر کچھ نہیں ہے خلائیں ہاتھ آئیں گی تمہارے مری چٹکی سے باہر ...

مزید پڑھیے

ہماری ہی بدولت آ گئی ہے

ہماری ہی بدولت آ گئی ہے یہاں تک جو صداقت آ گئی ہے خدا میں ہو گیا پھر اک تصادم عقیدوں میں سیاست آ گئی ہے ابھی کل تک در توبہ کھلا تھا مگر اب تو قیامت آ گئی ہے ہمارے صبر کا سونا پرکھنے یزیدوں کی جماعت آ گئی ہے کوئی تیرا خلا پر کر نہ پایا جہاں تیری ضرورت آ گئی ہے ہمارے منتظر تھے ...

مزید پڑھیے

پھر ہم کو احتیاط سے چلنا بھی آ گیا

پھر ہم کو احتیاط سے چلنا بھی آ گیا ٹھوکر لگی گرے تو سنبھلنا بھی آ گیا سہمے ہوئے ہیں کچے مکانوں کے بام و در اب گاؤں کی ندی کو ابلنا بھی آ گیا انگڑائی لی چمن میں جو فصل بہار نے سوکھے شجر کو پھولنا پھلنا بھی آ گیا ڈالا گیا جو تیل تو لو تیز ہو گئی بجھتے ہوئے چراغ کو جلنا بھی آ ...

مزید پڑھیے

اہل حق بھی آ گئے اب ان کی محفل کے قریب

اہل حق بھی آ گئے اب ان کی محفل کے قریب مصلحت کوشی انہیں لے آئی باطل کے قریب سر سے اونچا ہو جہاں پانی وہیں ہے ڈوبنا اب کوئی منجدھار میں ڈوبے کہ ساحل کے قریب سخت مشکل سے بھی ہم پہنچے نہ آسانی کے پاس کتنی آسانی سے پہنچے لوگ مشکل کے قریب اس گھڑی ثابت قدم رہنا بڑا دشوار ہے ڈگمگاتے ...

مزید پڑھیے

مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو

مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو کتنا ہی درد دل ہو مگر چشم تر نہ ہو وہ سر ہی کیا کہ جس میں تمہارا نہ ہو خیال وہ دل ہی کیا کہ جس میں تمہارا گزر نہ ہو ایسی تو بے اثر نہیں بیتابئ فراق نالے کروں میں اور کسی کو خبر نہ ہو مل جاؤ تم تو شب کو بڑھا لیں گے تا ابد مانگیں گے یہ دعا کہ الٰہی ...

مزید پڑھیے

گداز دل سے پروانہ ہوا خاک

گداز دل سے پروانہ ہوا خاک جیا بے سوز میں تو کیا جیا خاک کسی کے خون ناحق کی ہے سرخی رنگیں گی دست قاتل کو حنا خاک نگہ میں شرم کے بدلے ہے شوخی کھلے پھر رات کا کیا ماجرا خاک لبوں تک آ نہیں سکتا تو پھر میں کہوں کیا اپنے دل کا مدعا خاک بلندی سے ہے اس کی ڈر کہ اک روز کرے گی آشیاں برق بلا ...

مزید پڑھیے

مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہو

مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہو اگر جاں ہو عزیز اپنی تو جاناں پر فدا کیوں ہو اٹھے جو آگ سینہ سے دبا دوں اس کو اشکوں سے شب ہجراں میں نالہ سے مرا لب آشنا کیوں ہو ملو خلوت میں اور دو تم مجھے درس شکیبائی کرم تم میں نہ ہو تو دل مرا صبر آزما کیوں ہو چلے جب تک زباں جاری ہو اس پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3977 سے 6203