قومی زبان

نیا منظر دکھایا جا رہا ہے

نیا منظر دکھایا جا رہا ہے ہمیں پھر ورغلایا جا رہا ہے ہے دوراہے پے پیارے ملک اپنا نیا راستہ دکھایا جا رہا ہے ستم پرور اک اندھا بولتا ہے سو گونگوں کو سنایا جا رہا ہے کسی کے سر پے ہے ٹوپی کسی کی کسے رہبر بتایا جا رہا ہے سر مقتل وہی تھے سر جھکائے جنہیں قاتل بتایا جا رہا ہے طلب میں ...

مزید پڑھیے

ہے کیا سنگ در جاناں اسی کا دل سمجھتا ہے

ہے کیا سنگ در جاناں اسی کا دل سمجھتا ہے جو دیوانہ تری چوکھٹ کو مستقبل سمجھتا ہے تقاضے پر مروت کے ذرا سر کیا جھکایا تھا اسی دن سے مرا دشمن مجھے بزدل سمجھتا ہے یہ سڑکوں پر جو دیوانہ دوانہ وار پھرتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے کوئی کامل سمجھتا ہے خوشی چپکا کے ہونٹوں پر نیا چہرہ بناتا ...

مزید پڑھیے

جھوٹ کو سچ تو مرے یار بنا سکتا ہے

جھوٹ کو سچ تو مرے یار بنا سکتا ہے یہ ہنر سن تجھے سردار بنا سکتا ہے تجھ کو بھی حق ہے سیاست میں چلے جانے کا تو اگر ریت کی دیوار بنا سکتا ہے یہ نیا دور ترقی ہے یہاں سکوں سے کوئی خرقہ کوئی دستار بنا سکتا ہے مختلف روگ کی بس ایک دوا دے دے کر یہ مسیحا ہمیں بیمار بنا سکتا ہے زعم سجدوں کا ...

مزید پڑھیے

جھکا کے سر نہ یوں دامن بچانا چاہیئے تھا

جھکا کے سر نہ یوں دامن بچانا چاہیئے تھا انا پر آ گئی تھی سر کٹانا چاہیئے تھا ہوا ہموار دریا تھا شناور کا مقدر ہوا وہ پار جس کو ڈوب جانا چاہیئے تھا نصیحت کا تری یہ زاویہ کچھ اور ہوتا میاں ناصح تجھے بھی دل لگانا چاہیئے تھا مشقت سے بدلنی تھی ہتھیلی کہ لکیریں مقدر ہاتھ میں تھا ...

مزید پڑھیے

نگاہ یار میں تھوڑا سنور جاؤں تو دستک دوں

نگاہ یار میں تھوڑا سنور جاؤں تو دستک دوں جو نظروں سے در دل تک پہنچ پاؤں تو دستک دوں سوالی ہوں ترے در کا انا ممتاز پر مجھ کو انا کے زعم سے باہر نکل آؤں تو دستک دوں یہ سوچا ہے تری محفل میں اک دن حشر برپاؤں قیامت اپنے سر پر میں اٹھا لاؤں تو دستک دوں یہی میں سوچ کے بھائی کے گھر سے پھر ...

مزید پڑھیے

خود کو پانے کی جستجو ہے وہی

خود کو پانے کی جستجو ہے وہی اس سے ملنے کی آرزو ہے وہی اس کا چہرہ اسی کے خد و خال اپنا موضوع گفتگو ہے وہی ہیں اسی کے یہ رنگ ہائے سخن میرے پہلو میں خوب رو ہے وہی کتنے موسم بدل گئے لیکن دل وہی دل کی آرزو ہے وہی ہے وہی شوق چاک دامانی اور پھر خواہش رفو ہے وہی سجدہ بازان شہر ...

مزید پڑھیے

پھر سجے بزم طرب زلف کھلے شانہ چلے

پھر سجے بزم طرب زلف کھلے شانہ چلے پھر وہی سلسلۂ شوخئ رندانہ چلے پھر یہ یکجائی یاران چمن ہو کہ نہ ہو دیر تک آج ذرا بزم میں پیمانہ چلے پھر کوئی قیس ہو آوارۂ صحرائے جنوں پھر کسی گیسوئے شب رنگ کا افسانہ چلے ہم وہ بد مست جنوں ہیں جو سر راہ حیات کبھی باہوش کبھی ہوش سے بیگانہ چلے ہم ...

مزید پڑھیے

سوچ کا دھارا

مری دہلیز کا پتھر ہے تم چاہو تو لے جاؤ اسے سب پتھر ایک سے ہوتے ہیں کل بھی اک بچہ آیا تھا سہما سہما میں نے اس سے یہ بات کہی تم چاہو تو لے جاؤ اسے سب پتھر ایک سے ہوتے ہیں بچہ ایک دم بول پڑا کچھ پتھر ہیرے ہوتے ہیں میں عقل و خرد کا شیدائی میں نے جب اس پر غور کیا اور آنکھ کھلی مرے سامنے بت ...

مزید پڑھیے

آ ادھر آ حوصلہ گر کچھ ہے قاتل اور بھی

آ ادھر آ حوصلہ گر کچھ ہے قاتل اور بھی دیکھتا جا شوق وصل روح بسمل اور بھی دیکھ کر مقتل میں جوش خون بسمل اور بھی چڑھ گیا اک دم دم شمشیر قاتل اور بھی جب سے اپنا کعبۂ دل جلوہ گاہ یار ہے بڑھ گئی ہے عاشقوں میں عظمت دل اور بھی چاہنے والا ترا اک میں ہی تو تنہا نہیں شکر ہے اس جرم الفت میں ...

مزید پڑھیے

دیکھنا ہو گر اسے ہستی مٹا کر دیکھ لو

دیکھنا ہو گر اسے ہستی مٹا کر دیکھ لو ہے نظر کے سامنے خود کو چھپا کر دیکھ لو شیشۂ دل کو ہمارے اک نگہ سے دیکھ لو پھر اسی انداز سے تیغ آزما کر دیکھ لو گور مجنوں پہ جو لیلہ نے کہا کیا حال ہے قبر سے آئی صدا پردہ اٹھا کر دیکھ لو میں کوئی موسیٰ نہیں جو دیکھ کر آ جاوے غش گر نہیں باور مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3946 سے 6203