قومی زبان

تمہارے ہجر میں دم بھر ہمیں قرار نہیں

تمہارے ہجر میں دم بھر ہمیں قرار نہیں وہ غم اٹھائے ہیں جن کا کوئی شمار نہیں یہ سن رہے ہیں کہ تم نے بھلا دیا ہم کو مگر تمہاری قسم ہم کو اعتبار نہیں اگر یہ سچ ہے کہ الفت ہے تم کو غیروں سے تو ہم سے آ کے یہ کہہ دو کہ تم سے پیار نہیں

مزید پڑھیے

جل رہا تھا دل چراغ آرزو خاموش تھا

جل رہا تھا دل چراغ آرزو خاموش تھا ہم تھے وقف حسرت دیدار وہ روپوش تھا میرے نالوں نے تو محشر آج ہی برپا کیا حسن تو روز ازل سے حشر در آغوش تھا ہم جواں ہو کر اگر مدہوش ہیں تو کیا عجب مرنے جینے کا لڑکپن میں ہمیں کب ہوش تھا کیسے کیسے گل کھلائے ایک مشت خاک نے میری بربادی میں پوشیدہ نمو ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو

کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو حال عاشق کا بلا کر دیکھ لو پوچھتے کیا ہو کہ دل میں کون ہے لو یہ آئینہ اٹھا کر دیکھ لو پوچھنا یہ ہے کہ پوچھو مجھ سے حال دیکھنا یہ ہے کہ آ کر دیکھ لو وہ اگر دیکھے تو آنکھیں پھوٹ جائیں تم حسنؔ کو چھپ چھپا کر دیکھ لو

مزید پڑھیے

چھپ گیا یار خود نما ہو کر

چھپ گیا یار خود نما ہو کر رہ گئی چشم شوق وا ہو کر بے قراروں سے ان کو شرم آئی شوخیاں رہ گئیں حیا ہو کر کیا کہوں کیا ہے میرے دل کی خوشی تم چلے جاؤ گے خفا ہو کر روٹھ کر ان سے ہم کہاں جیتیں وہ منا لیتے ہیں خفا ہو کر پھنس گیا دل تو چھوڑ دو ہم کو اب کہاں جائیں گے رہا ہو کر دل سے کچھ کہہ ...

مزید پڑھیے

جب مرا مہر جلوہ گر ہوگا

جب مرا مہر جلوہ گر ہوگا دوپہر ہوگا جو پہر ہوگا تم نہیں کرتے قتل تو نہ کرو زہر میں بھی تو کچھ اثر ہوگا او رقیبوں کی رونق محفل اس طرف بھی کبھی گزر ہوگا حضرت دل مزاج کیسا ہے پھر بھی اس کوچہ میں گزر ہوگا کس کو مطلب ہے بے کسوں سے حسنؔ کون میرا پیام بر ہوگا

مزید پڑھیے

حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا

حسن جب مقتل کی جانب تیغ براں لے چلا عشق اپنے مجرموں کو پا بہ جولاں لے چلا آرزوئے دید جاناں بزم میں لائی مجھے بزم سے میں آرزوئے دید جاناں لے چلا بسملوں کو زخم زخموں کو مبارک لذتیں سوئے مقتل پھر کوئی تیغ و نمک داں لے چلا خون ناحق کی حیا بولی ذرا منہ ڈھانک لو ناز جب ان کو سر خاک ...

مزید پڑھیے

جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئے

جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئے خوبان خود فروش خریدار ہو گئے تلووں سے راستہ چمن دل کشا بنا جلووں سے آئنہ در و دیوار ہو گئے دل جاں بلب جگر میں تپک جان بے قرار ہم تیرا نام لے کے گنہ گار ہو گئے گل زار ہے بہار یوں ہی حسن یار سے جیسے چمن بہار سے گل زار ہو گئے یہ حسن خود فروش عجب جنس ہے ...

مزید پڑھیے

میری پلکوں پہ نہ آئے مرے اندر بولے

میری پلکوں پہ نہ آئے مرے اندر بولے ایک قطرہ کہ جو ٹپکے تو سمندر بولے زندگی چاہے کہ آواز سفر کرتی رہے میں نہ بولوں تو مری سوچ کا پیکر بولے اپنے زخموں کو دکھاؤں تو دکھا بھی نہ سکوں جو کرم مجھ پہ کئے میرا ستم گر بولے ان کا کیا ہے کہ سماعت بھی ہے جاگیر ان کی ہم جو بولے تو ہر اک دل میں ...

مزید پڑھیے

تاریخ کی عدالت

ہمارے ادراک کی صداقت تمہارے الزام کی نجابت کبھی تو تاریخ کی عدالت میں پیش ہوگی حلف اٹھانے کی رسم سے بے نیاز لمحے تمام مفلوج عدل گاہوں کی مصلحت کیش بے زبانی لہو فروشی کے کل دلائل دفاتر منصفی پر تحریر کر رہے ہیں کبھی تو تاریخ کی عدالت میں تم بھی آؤ گے ہم بھی آئیں گے تم اپنے سارے ...

مزید پڑھیے

فکر منزل ہے نہ نام رہنما لیتے ہیں ہم

فکر منزل ہے نہ نام رہنما لیتے ہیں ہم اپنا ذوق رہروی خود آزما لیتے ہیں ہم کثرت غم میں بھی اکثر مسکرا لیتے ہیں ہم ظلمت ہستی میں یوں شمعیں جلا لیتے ہیں ہم کچھ نہ پوچھو ہمتوں سے کام کیا لیتے ہیں ہم غم کو بادہ دل کو پیمانہ بنا لیتے ہیں ہم منتشر ہونے کو آتی ہے جو بزم آرزو حوصلوں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3933 سے 6203