قومی زبان

عمر ساری یوں ہی گزاری ہے

عمر ساری یوں ہی گزاری ہے دن کسی کے ہیں شب ہماری ہے کہہ رہی ہے یہ شام تنہائی آج کی رات ہم پہ بھاری ہے دو گھڑی پیار کی کریں باتیں دل جلانے کو عمر ساری ہے کچھ پرندے فضا میں اڑتے ہیں کچھ پرندوں پہ خوف طاری ہے جیسے صحرا میں اک شجر تنہا ہم نے یوں زندگی گزاری ہے اپنا شیوہ محبتیں ...

مزید پڑھیے

پھر نئے خواب بنیں پھر نئی رنگت چاہیں

پھر نئے خواب بنیں پھر نئی رنگت چاہیں زندہ رہنے کے لئے پھر کوئی صورت چاہیں نئے موسم میں کریں پھر سے کوئی عہد وفا عشق کرنے کے لئے اور بھی شدت چاہیں ایک وہ ہیں کہ نظر بھر کے نہ دیکھیں ہم کو ایک ہم ہیں کہ فقط ان کی ہی صورت چاہیں بات سننے کے لئے حوصلہ دل میں رکھیں بات کہنے کے لئے حرف ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی کے کمالات سے باہر نکلے

اپنی ہستی کے کمالات سے باہر نکلے وہ اگر میرے خیالات سے باہر نکلے دفن کر رکھے تھے سینے کے کسی کونے میں راز جو تیرے سوالات سے باہر نکلے عشق کھائے گا نہیں یار یہ وعدہ ہے مرا اس سے کہہ دو کہ وہ خدشات سے باہر نکلے اس کے وعدوں پہ بھی کر لیں گے بھروسہ وہ اگر شہر کوفہ کے مضافات سے باہر ...

مزید پڑھیے

چھوڑ جانے کی وہ جرأت بھی نہیں کر سکتا

چھوڑ جانے کی وہ جرأت بھی نہیں کر سکتا بوڑھی رسموں سے بغاوت بھی نہیں کر سکتا تو مری جاں ہے مگر ہے تو طوائف ہی ناں میں تری کھل کے حمایت بھی نہیں کر سکتا وہ جسے پوجتے اک عمر گزاری ہم نے کیا وہ اک بار عنایت بھی نہیں کر سکتا دل جو بچہ تھا بہت شوخ ترے جانے پر ایسے سہما ہے شرارت بھی ...

مزید پڑھیے

ہم بات ترے منہ پہ کھری کرنے لگے ہیں

ہم بات ترے منہ پہ کھری کرنے لگے ہیں جا تجھ کو تخیل سے بری کرنے لگے ہیں ہاں راس نہیں ہم کو محبت کا خزانہ تھک ہار کے ہم سوداگری کرنے لگے ہیں مٹی سے بنایا تھا جو ساحل پہ گھروندا کچھ بچے اسے بارہ دری کرنے لگے ہیں اس واسطے لہجے کو بدل ڈالا ہے ہم نے خوشاب کو ہم دیکھ مری کرنے لگے ...

مزید پڑھیے

سولی پہ جان اٹکی ہے مرتا مریض ہوں

سولی پہ جان اٹکی ہے مرتا مریض ہوں زخموں سے لطف لیتا انوکھا مریض ہوں باتیں محبتوں کی مرے سامنے نہ کر تو جانتا بھی ہے کہ میں دل کا مریض ہوں پاگل کیا ہے عشق نے آدھا جو رہ گیا اب آدھے سر کے درد کا پورا مریض ہوں پھر میرا ٹھیک ہونے کو دل ہی نہیں کیا اس نے مجھے کہا تھا میں اچھا مریض ...

مزید پڑھیے

سبھی مے کش توازن کھو رہے ہیں

سبھی مے کش توازن کھو رہے ہیں خدا سے بے تکلف ہو رہے ہیں کسی کی آنکھ بنجر ہو گئی ہے کسی کے اشک برتن دھو رہے ہیں کہیں پر سوگ واجب ہو رہا ہے کسی کے فرض پورے ہو رہے ہیں ہمیں دھوکہ ملا دھوکہ ہی دیں گے جو کاٹا ہے وہ آگے بو رہے ہیں بہت پرہیز برتا جا رہا ہے مرے زخموں کو ناخن رو رہے ہیں

مزید پڑھیے

جو تری شکل کو مہتاب نہیں کہہ سکتے

جو تری شکل کو مہتاب نہیں کہہ سکتے وہ مری آنکھ کو تالاب نہیں کہہ سکتے سچ میں کمزور ہے بینائی ہماری لیکن ریت کے ذرے کو سیماب نہیں کہہ سکتے ہم ہیں اوصاف پہ معیار پرکھنے والے اس لئے کوے کو سرخاب نہیں کہہ سکتے کم سے کم آپ تو رکھ لیجے بھرم یاری کا وہ تو دشمن ہیں نا آداب نہیں کہہ ...

مزید پڑھیے

کسی پری کے خیالوں میں رقص کرتے رہے

کسی پری کے خیالوں میں رقص کرتے رہے ہماری آنکھ سے آنسو نکل کے اڑتے رہے ہم ایسے پتے انا زاد بھی بلا کے تھے بہار رت میں درختوں سے لڑ کے جھڑتے رہے کسی کے لفظ گرے آبشار کے مانند ہمارے دل میں مسلسل شگاف پڑتے رہے کسی کو مانگنے آئی تھی منتوں سے کوئی کئی فقیر مزاروں پہ سر پٹختے ...

مزید پڑھیے

کبھی آباد کرتا ہے کبھی برباد کرتا ہے

کبھی آباد کرتا ہے کبھی برباد کرتا ہے ستم ہر روز ہی وہ اک نیا ایجاد کرتا ہے ہم اس کی ہر ادا پر روز پر پھیلائے آتے ہیں نظر کے جال میں پابند جو صیاد کرتا ہے وہ کل بھی معتبر تھا آج بھی رہبر ہمارا ہے وہ دشمن جو وطن کی کھوکھلی بنیاد کرتا ہے اسی کے عشق میں جلنا مری تقدیر ٹھہری ہے محبت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3903 سے 6203