قومی زبان

منہ اپنی روایات سے پھیرا نہیں کرتے

منہ اپنی روایات سے پھیرا نہیں کرتے دشمن کو اچانک کبھی گھیرا نہیں کرتے دیوار کے پیچھے کوئی رہزن نہ چھپا ہو اس واسطے ہم گھر میں اندھیرا نہیں کرتے جس پیڑ کی چھاؤں بھی لگے دھوپ کی صورت اس پیڑ پہ پنچھی بھی بسیرا نہیں کرتے آنکھوں سے نہ پڑھ لے کوئی چہرے کی اداسی اس ڈر سے کبھی ذکر وہ ...

مزید پڑھیے

پہلے سی اب بات کہاں ہے

پہلے سی اب بات کہاں ہے وہ دن اور وہ رات کہاں ہے باتیں جیسے پت جھڑ پت جھڑ سوچوں کی بارات کہاں ہے سارے موسم ایک ہوئے ہیں وہ رت وہ برسات کہاں ہے اس کا چہرہ جیسے سرسوں آنکھوں میں وہ بات کہاں ہے اک شب میں نے ہی پوچھا تھا اے رب تیری ذات کہاں ہے قریہ قریہ جو لہرایا وہ پرچم وہ ہات کہاں ...

مزید پڑھیے

نہ وہ اقرار کرتا ہے نہ وہ انکار کرتا ہے

نہ وہ اقرار کرتا ہے نہ وہ انکار کرتا ہے ہمیں پھر بھی گماں ہے وہ ہمیں سے پیار کرتا ہے میں اس کے کس ستم کی سرخیاں اخبار میں دیکھوں وہ ظالم ہے مگر ہر ظلم سے انکار کرتا ہے منڈیروں سے کوئی مانوس سی آواز آتی ہے کوئی تو یاد ہم کو بھی پس دیوار کرتا ہے یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ...

مزید پڑھیے

چپ ہیں حضور مجھ سے کوئی بات ہو گئی

چپ ہیں حضور مجھ سے کوئی بات ہو گئی یا پھر کسی سے آج ملاقات ہو گئی تازہ لگی تھی چوٹ کہ موسم بدل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے برسات ہو گئی یوں تو دیے فریب کسی اور نے انہیں لیکن گناہ گار مری ذات ہو گئی آئے تو دل میں پیار کا چشمہ ابل پڑا اور چل دیے تو درد کی بہتات ہو گئی چنتے ہو تیرگی ...

مزید پڑھیے

درخواست

تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے کہ پھر سے جوڑنا دشوار ہو جائے حیات اک زہر میں ڈوبی ہوئی تلوار ہو جائے محبت اس طرح چھوڑا نہیں کرتے خفا ہونے کی رسمیں ہیں بگڑنے کے طریقے ہیں رواج و رسم ترک دوستی پر سو کتابیں ہیں لکھا ہے جن میں رستہ وضع داری کا یوں ہی چھوڑا نہیں کرتے تعلق اس طرح توڑا نہیں ...

مزید پڑھیے

رشتہ

الاؤ جلنے دو مت بجھاؤ چٹخنے دو رابطوں کے شیشے لپکنے دو حرف کی زبانیں بھڑکنے دو آگ نفرتوں کی دلوں کی لکڑی جلائے جاؤ ابھی تعلق کے سرد بستر کو برف کی سل نہیں بناؤ اگر عداوت بدن کو تاپے تو حرج کیا ہے ابھی کئی منزلیں پڑی ہیں ابھی کئی کوس دور ہے صبح کا پڑاؤ ابھی دہکنے دو حسرتوں کو الاؤ ...

مزید پڑھیے

اعترافات

تو ان لڑکیوں میں سے تھی جن سے مل کر رگوں میں ہوس پھڑپھڑاتی پھرے مجھے تیری خواہش تھی اور تجھ کو میری مرے ہاتھ نے تیرے ہاتھوں سے تیرے بدن سے کئی بار باتیں بھی کیں ترے جسم کی نرم خاموشیاں مجھ کو ترغیب کے جنگلوں میں بلاتی رہیں ان گھنے راستوں سے پرے سبز پانی کا چشمہ چمکتا تھا پر اس کے ...

مزید پڑھیے

فرنٹ پیج

ہزاروں سال سے عورت حقارت گالیاں اور ٹھوکریں سہتی رہی ہے ہزاروں سال سے ہر سانس پر مرتی رہی ہے اب بھی ہر گھر میں یہ زندہ دفن ہوتی ہے مگر اس میں خبر کی بات ہی کوئی نہیں ہے تمہاری جامعہ پنجاب کی ہڑتال کا یہ چوتھا ہفتہ ہے زمینداروں نے پھر کچھ عورتوں کو گاؤں میں بندوق پر ننگا نچایا ...

مزید پڑھیے

با وفا

شجر ہجرت نہیں کرتے بگڑتے موسموں روٹھی گھٹاؤں دور ہوتے پانیوں تک سے کبھی نفرت نہیں کرتے یہ اپنی اجتماعی قتل گاہوں کا تماشا دیکھتے ہیں پر نئے سرسبز میدانوں خنک جھیلوں کے متلاشی نہیں ہوتے زمیں سے اپنی پیوستہ طنابیں کھینچ کر اڑنے نہیں لگتے شجر ہجرت نہیں کرتے

مزید پڑھیے

سمجھا کوئی بھی چال نہ اس چال باز کی

سمجھا کوئی بھی چال نہ اس چال باز کی کرتے رہے بیاں سبھی ہونٹوں کی نازکی در پر خدا کے کھینچ کے لایا تھا اس کو عشق کافر کو پڑ گئی تھی ضرورت نماز کی ہم نے بھی خود کے قتل میں چھوڑی نہیں کسر اس نے بھی دشمنوں سے بہت ساز باز کی کانوں کی کچی نکلی وہ دیوار گاؤں کی تشہیر کر رہی ہے فقیروں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3904 سے 6203