منہ اپنی روایات سے پھیرا نہیں کرتے
منہ اپنی روایات سے پھیرا نہیں کرتے دشمن کو اچانک کبھی گھیرا نہیں کرتے دیوار کے پیچھے کوئی رہزن نہ چھپا ہو اس واسطے ہم گھر میں اندھیرا نہیں کرتے جس پیڑ کی چھاؤں بھی لگے دھوپ کی صورت اس پیڑ پہ پنچھی بھی بسیرا نہیں کرتے آنکھوں سے نہ پڑھ لے کوئی چہرے کی اداسی اس ڈر سے کبھی ذکر وہ ...