قومی زبان

کوئے جاناں میں ادا دیکھیے دیوانوں کی

کوئے جاناں میں ادا دیکھیے دیوانوں کی دھجیاں بانٹتے پھرتے ہیں گریبانوں کی خاک اڑتی ہے فضا میں یوں ہی پروانوں کی کون لیتا ہے خبر سوختہ سامانوں کی حسن کیا شے ہے فقط ذوق نظر کی تسکین عشق کیا چیز ہے تخلیق ہے ارمانوں کی آپ رخ سیل حوادث کا بدل دیتا ہے آسماں دیکھ کے گردش مرے پیمانوں ...

مزید پڑھیے

زمانہ دیکھتا ہے ہنس کے چشم خوں فشاں میری

زمانہ دیکھتا ہے ہنس کے چشم خوں فشاں میری مگر میں خوش ہوں ان کی داستاں ہے اور زباں میری اکیلا ہوں بھری دنیا میں میں کس کو کہوں اپنا کوئی ہوتا تو کر دیتا مکمل داستاں میری گزرتا آ رہا ہوں جانے میں کن کن مقاموں سے زمیں کے بعد آیا رہ گزر میں آسماں میری میں یا رب خاک کا پتلا سہی لیکن ...

مزید پڑھیے

اور تھوڑا سا بکھر جاؤں یہی ٹھانی ہے

اور تھوڑا سا بکھر جاؤں یہی ٹھانی ہے زندگی میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تو کچھ ملتا نہیں دشت و صحرا کی میاں خاک کبھی چھانی ہے قتل کو قتل جو کہتے ہیں غلط کہتے ہیں کچھ نہیں ظل الٰہی کی یہ نادانی ہے سہم جاتے ہیں اگر پتہ بھی کوئی کھڑکے جانتے سب ہیں ترا ذمہ ...

مزید پڑھیے

کس کے دل میں بستا ہوں

کس کے دل میں بستا ہوں اکثر سوچا کرتا ہوں سطح کے نیچے کچھ بھی نہیں کہنے کو میں دریا ہوں خود کو کبھی میں پا نہ سکا جانے کتنا گہرا ہوں آج بھی شاید تو آئے خواب سجائے بیٹھا ہوں رہ کر عرصے تک بے آب موتی بن کر چمکا ہوں جاگ رہا ہے دیوانہ اور میں سویا رہتا ہوں

مزید پڑھیے

دانائیاں اٹک گئیں لفظوں کے جال میں

دانائیاں اٹک گئیں لفظوں کے جال میں اتنے جواب گم ہیں مرے اک سوال میں دریا بس اک قدم کبھی ساحل کی سمت آ دیکھوں گا زور کتنا ہے تیرے ابال میں کی احتیاط لاکھ مگر حال یہ ہوا آنا تھا جن کو آ ہی گئے تیری چال میں جی چاہتا ہے ترک محبت کو بار بار آتا ہے ایک ایسا بھی لمحہ وصال میں اب کیا ...

مزید پڑھیے

جن کی آنکھوں میں ترے خواب ہوا کرتے ہیں

جن کی آنکھوں میں ترے خواب ہوا کرتے ہیں وہ تری دید سے سیراب ہوا کرتے ہیں نیند بھی لازمی ہے دیدۂ حیرت کے لیے خواب یوں ہی تو نہیں خواب ہوا کرتے ہیں کچھ کی آنکھوں میں بھی جل اٹھتے ہیں حسرت کے چراغ اور کچھ چہرے بھی مہتاب ہوا کرتے ہیں کچھ تکلف بھی ضروری ہے محبت کے لیے کچھ محبت کے بھی ...

مزید پڑھیے

دکھ درد غم ہیں تیری عنایات زندگی

دکھ درد غم ہیں تیری عنایات زندگی تو نے نبھائیں خوب روایات زندگی اک تو نیاز مند سراپا میں بے نیاز ملتے نہیں ہیں اپنے خیالات زندگی فطرت میں آدمی کے تغیر نہیں مگر انسان کو بدلتے ہیں حالات زندگی ملتے رہے ہیں سارے زمانے سے عمر بھر تجھ سے نہ جانے کب ہو ملاقات زندگی دونوں کے بیچ ...

مزید پڑھیے

کچھ سلسلے فلک کے پڑے ہیں اجاڑ سے

کچھ سلسلے فلک کے پڑے ہیں اجاڑ سے رشتے بنے ہوئے ہیں زمین کے پہاڑ سے بے جرم بے گناہ اسیروں کی خیر ہو آتی ہیں دم بدم یہ صدائیں تہاڑ سے بدنام ہوتا ہے وہ جو آگے دکھائی دے جلوہ دکھاتا اور ہی کوئی ہے آڑ سے تم تو چلے گئے مری دنیا کو چھوڑ کر لگ کر کھڑا ہے کون یہ دل کے کواڑ سے آندھی چلے ...

مزید پڑھیے

کارزار زندگی میں ایسے لمحے آ گئے

کارزار زندگی میں ایسے لمحے آ گئے عزم محکم رکھنے والے وقت سے گھبرا گئے دوسروں کے واسطے جیتے رہے مرتے رہے خوب سیرت لوگ تھے راز محبت پا گئے باغ پر بجلی گرے یا نذر گلچیں ہو رہے آہ اب سوچوں کے دھارے اس نہج پر آ گئے اس جھلستی دھوپ نے آخر کہاں پہنچا دیا چھاؤں کی خاطر پس دیوار زنداں آ ...

مزید پڑھیے

رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا

رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا خود مصور اپنی ہی تصویر کا شیدا ہوا کیا نگاہوں کی تشفی ہو کہ بزم دہر میں سامنے آتا ہے ہر منظر مرا دیکھا ہوا کھول کر آنکھیں ذرا یہ حسن مہر و ماہ دیکھ دید کے قابل ہے ذرہ چرخ پر پہنچا ہوا عشق نے اس دل کو دم لینے کی فرصت ہی نہ دی ایک جب ارمان نکلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3879 سے 6203