قومی زبان

الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے

الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے دنیا ترے آنگن میں یہ کیسا سویرا ہے صدیوں سے ہے روز و شب چہروں کا سفر جاری لمحات کا آئینہ تیرا ہے نہ میرا ہے فطرت نے عطا کی ہے یہ بے سر و سامانی دل خانہ بدوشوں کا اجڑا ہوا ڈیرا ہے سانسوں سے سبک ہو کر بڑھ جاتے ہیں ہم آگے یہ پیکر خاکی تو اک رین ...

مزید پڑھیے

میخانۂ حیات کا انجام دے گیا

میخانۂ حیات کا انجام دے گیا وہ مجھ کو ایک ٹوٹا ہوا جام دے گیا وہ فکر و فن کو جذبۂ بے نام دے گیا غزلوں کو میری پیکر ابہام دے گیا آیا تھا ساتھ لے کے وہ سوغات ہجر کی رخصت ہوا تو تحفۂ اوہام دے گیا ظاہر ہوئے نہ چہرے سے دل کے تأثرات خبروں پہ تبصرہ بھی بہت کام دے گیا صہبا شباب قوس و ...

مزید پڑھیے

سحر قریب ہے خلوت مہک رہی ہوگی

سحر قریب ہے خلوت مہک رہی ہوگی شراب ساغر غم سے چھلک رہی ہوگی وہ بات ترک تعلق کا جو سبب ٹھہری وہ بات ترک تعلق کا جو سبب ٹھہری وہ بات خود ترے دل میں کھٹک رہی ہوگی یہ اجلی شام مہکتے ہوئے یہ سناٹے وہ اپنے منہ کو دوپٹے سے ڈھک رہی ہوگی میں صبح و شام گزرتا تھا جس سے بے مقصد وہ راہ اب بھی ...

مزید پڑھیے

فصیل شکر میں ہیں صبر کے حصار میں ہیں

فصیل شکر میں ہیں صبر کے حصار میں ہیں جہاں گزر نہیں غم کا ہم اس دیار میں ہیں ہمیں اجال دے پھر دیکھ اپنے جلووں کو ہم آئنہ ہیں مگر پردۂ غبار میں ہیں جلا کے مشعلیں چلتے تو ہوتے منزل پر وہ قافلے جو سویرے کے انتظار میں ہیں ہے اختیار ہمیں کائنات پر حاصل سوال یہ ہے کہ ہم کس کے اختیار ...

مزید پڑھیے

کہاں غائب ہوا وہ گھر پرندے سے ذرا پوچھو

کہاں غائب ہوا وہ گھر پرندے سے ذرا پوچھو بھیانک آندھیوں کا ڈر پرندے سے ذرا پوچھو مشاہد کو لگا آسان ہے طوفان میں اڑنا زمیں سے عرش تک دوبھر پرندے سے ذرا پوچھو اٹھائے پنکھ تب آکاش بھی چھوٹا پڑا تھا پھر قفس میں ہیں سمائے پر پرندے سے ذرا پوچھو

مزید پڑھیے

سماعت آپ کی آہٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے

سماعت آپ کی آہٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے کہ یہ وہ ناؤ ہے جو تٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے تجھے ہاتھوں سے چھونے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہوس میری تری چوکھٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے نظر میری ترے ماتھے کی سلوٹ پہ ہی رہتی ہے خوشی میری اسی سلوٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے

مزید پڑھیے

دن رات تمہاری یادوں سے ہم زخم سنوارا کرتے ہیں

دن رات تمہاری یادوں سے ہم زخم سنوارا کرتے ہیں پردیس میں جیسے تیسے ہی اے دوست گزارا کرتے ہیں خوددار طبیعت ہے اپنی فاقوں پہ بسر کر لیتے ہیں احسان کسی کا دنیا میں ہرگز نہ گوارا کرتے ہیں اب لاکھ خزاؤں کا موسم بھی کچھ نہ گلوں کا کر پائے ہم خون جگر سے گلشن کا ہر رنگ نکھارا کرتے ...

مزید پڑھیے

مجھے تیری جدائی کا یہ صدمہ مار ڈالے گا

مجھے تیری جدائی کا یہ صدمہ مار ڈالے گا زمانے بھر میں رسوائی کا چرچا مار ڈالے گا تمہارے نام سے جاناں مرا یہ دل دھڑکتا ہے اب آؤ ہاتھ رکھ دو ورنہ دھڑکا مار ڈالے گا کوئی غمگین مل جائے تو ہنسنا بھول جاتا ہوں کسی دن خیر خواہی کا یہ جذبہ مار ڈالے گا چراغوں میں لہو ڈالو ہے لڑنی جنگ ...

مزید پڑھیے

دل میں اک شور اٹھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

دل میں اک شور اٹھاتے ہیں چلے جاتے ہیں آپ جذبات جگاتے ہیں چلے جاتے ہیں روز جلتا ہے سر شام امیدوں کا چراغ دامن لیل بجھاتے ہیں چلے جاتے ہیں وقت رخصت تو قیامت کا سماں ہوتا ہے غم کو سینے سے لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں ہم تو پھرتے ہیں محبت کا خزانہ لے کر راہ نفرت میں لٹاتے ہیں چلے جاتے ...

مزید پڑھیے

زندگی سے ملی سوغات یہ تنہائی کی

زندگی سے ملی سوغات یہ تنہائی کی خواب ٹوٹے ہیں کئی آنکھ میں صحرائی کی کیوں سر بزم مری اس نے پذیرائی کی اس میں سازش تو نہیں پھر سے مرے بھائی کی برق منظر سے نگاہوں کی بصارت چھینے فکر دشمن کو مرے ہے مری بینائی کی لوگ چہرے پہ اداسی کا سبب پوچھیں گے کیا کہوں گا کہ مجھے فکر ہے رسوائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3875 سے 6203