الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے
الجھن میں اجالا ہے حیرت میں اندھیرا ہے دنیا ترے آنگن میں یہ کیسا سویرا ہے صدیوں سے ہے روز و شب چہروں کا سفر جاری لمحات کا آئینہ تیرا ہے نہ میرا ہے فطرت نے عطا کی ہے یہ بے سر و سامانی دل خانہ بدوشوں کا اجڑا ہوا ڈیرا ہے سانسوں سے سبک ہو کر بڑھ جاتے ہیں ہم آگے یہ پیکر خاکی تو اک رین ...