قومی زبان

گر اس سے ربط مرا صرف اختلافی تھا

گر اس سے ربط مرا صرف اختلافی تھا تو اس کا رد عمل قابل معافی تھا محبتوں میں مفادات کون یاد رکھے سو ہم کو اپنے لیے ایک نام کافی تھا چراغ جب بھی جلایا کوئی تو گل نہ کیا یہ روشنی کی روایات کے منافی تھا اسے خیال تھا میری شکستہ پائی کا یہ جاننا بھی تو اس زخم کی تلافی تھا حمیراؔ عمر ...

مزید پڑھیے

طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہے

طبیعت ان دنوں اوہام کی ان منزلوں پر ہے دل کم حوصلہ کاغذ کی گیلی کشتیوں پر ہے گذشتہ موسموں میں بجھ گئے ہیں رنگ پھولوں کے دریچہ اب بھی میرا روشنی کے زاویوں پر ہے ہزاروں آبنوسی جنگلوں کا حسن کیا معنی ہمیں جب سانس لینا کیمیائی تجربوں پر ہے کڑھا ہے میری اجرک پر بلوچی کام شیشے ...

مزید پڑھیے

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے ایسے ہم دنیا سے چھپ کر دیکھیں خواب سہانے سے سب کچھ سمجھے لیکن اتنی بات نہیں پہچانے لوگ مل جاتا ہے چین کسی کو ایک تمہارے آنے سے ہم تو غم کی ایک اک شدت باہر آنے سے روکیں اس کی آنکھیں باز نہ آئیں انگارے برسانے سے لوگو! ہم پردیسی ہو کر جانے کیا ...

مزید پڑھیے

ان لفظوں میں خود کو ڈھونڈوں گی میں بھی

ان لفظوں میں خود کو ڈھونڈوں گی میں بھی اپنی انا کا منظر دیکھوں گی میں بھی کوئی مرے بارے میں نہ کچھ بھی جان سکے اب ایسا لہجہ اپناؤں گی میں بھی آنکھوں سے چن کر سب ٹوٹے پھوٹے خواب پتھر کی خواہش بن جاؤں گی میں بھی میں خود اپنی سوچ کی مجرم ٹھہری ہوں اب یہ عدالت خود ہی جھیلوں گی میں ...

مزید پڑھیے

قیامتیں گزر گئیں روایتوں کی سوچ میں

قیامتیں گزر گئیں روایتوں کی سوچ میں خلش جو تھی وہی رہی محبتوں کی سوچ میں یہ اب کھلا کہ اس کی شاعری میں میری بات کا جو رنگ خاص تھا مٹا اضافتوں کی سوچ میں میں اپنے چہرۂ جنوں کو آئنے میں دیکھ لوں تو عکس بجھ نہ جائے گا حقیقتوں کی سوچ میں میں اپنی دھوپ چھاؤں کی ضمانتیں نہ دے سکوں تو ...

مزید پڑھیے

لمس بیتے لمحوں کا گدگدا رہا ہوگا

لمس بیتے لمحوں کا گدگدا رہا ہوگا غنچہ بے خیالی میں مسکرا دیا ہوگا میرا تذکرہ جب بھی غیر سے سنا ہوگا خود تمہارے چہرے کا رنگ اڑ گیا ہوگا جس کو کہہ کے دیوانہ مارتے تھے پتھر سے اس کے ہاتھ میں شاید آئینہ رہا ہوگا ہے تمہارے چہرے پر کیوں حجاب کی شبنم اپنے آپ کو ہم نے بے وفا کہا ...

مزید پڑھیے

محدود نگاہی کے صنم ٹوٹ رہے ہیں

محدود نگاہی کے صنم ٹوٹ رہے ہیں تاریک اجالوں کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں اس دور کی بدلی ہوئی رفتار کا عالم شیشوں کی طرح نقش قدم ٹوٹ رہے ہیں تشنہ ہے مرا جام تو کچھ غم نہیں ساقی یہ غم ہے کہ رندوں کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں اس راز کو ارباب سیاست سے نہ پوچھو کیوں رابطۂ دیر و حرم ٹوٹ رہے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

حالات کے دباؤ سے ہیجان میں رہے

حالات کے دباؤ سے ہیجان میں رہے ہم ساری عمر جنگ کے میدان میں رہے تنہائی ملتی اور کبھی خود کو بھی دیکھتے مدت گزر گئی اسی ارمان میں رہے جب تجربوں سے ٹوٹے توقع کے آئینے جو مصلحت پسند تھے نقصان میں رہے ان کے نقوش ابھرے ہیں قرطاس وقت پر با اختیار ہو کے جو اوسان میں رہے ہم اپنی سطح ...

مزید پڑھیے

جو میکدے میں بہکتے ہیں لڑکھڑاتے ہیں

جو میکدے میں بہکتے ہیں لڑکھڑاتے ہیں مرا خیال ہے وہ تشنگی چھپاتے ہیں ذرا سا وقت کے سورج نے رخ جو بدلا ہے مرے وجود پہ کچھ سائے مسکراتے ہیں دلوں کی سمت پہ لفظوں کے سنگ مت پھینکو ذرا سی ٹھیس سے آئینے ٹوٹ جاتے ہیں طلسم ذات کی پھیلی ہے تیرگی اتنی کہ وسعتوں کے اجالے سمٹتے جاتے ...

مزید پڑھیے

مقابل اپنے حقیقت کا آئینہ رکھنا

مقابل اپنے حقیقت کا آئینہ رکھنا اندھیری رات میں دروازہ مت کھلا رکھنا یہ سوز و کرب مجھے تجربوں نے بخشا ہے جلانا شمع تو دامن سے فاصلہ رکھنا خود اپنے واسطے بہتر جسے سمجھتے ہو وہی سلوک مرے واسطے روا رکھنا نہ توڑی اس لئے میں نے سکوت کی زنجیر ابھی ہے ان سے تخاطب کا سلسلہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3874 سے 6203