قومی زبان

مرے شانے پہ رہنے دو ابھی گیسو ذرا ٹھہرو

مرے شانے پہ رہنے دو ابھی گیسو ذرا ٹھہرو بکھر جانے دو اپنے جسم کی خوشبو ذرا ٹھہرو ادھورا چھوڑ کر جاؤ نہ یہ قصہ محبت کا چھنکتے ہیں ابھی ارمان کے گھنگھرو ذرا ٹھہرو سکون قلب کی خاطر شب فرقت میں چوموں گا بنا لینے دو تصویر‌ لب و ابرو ذرا ٹھہرو مری رگ رگ میں جاناں بھر گیا ہے نشۂ ...

مزید پڑھیے

تڑپ کے حال سنایا تو آنکھ بھر آئی

تڑپ کے حال سنایا تو آنکھ بھر آئی جو اس نے زخم دکھایا تو آنکھ بھر آئی تھی جس چراغ سے قائم مری امید سحر ہوا نے اس کو بجھایا تو آنکھ بھر آئی زمانے بھر کا ستم سہہ کے مسکراتا رہا فریب اپنوں سے کھایا تو آنکھ بھر آئی ہمارے شہر کی گلیوں میں قہر ڈھاتے ہوئے لہو کا سیل در آیا تو آنکھ بھر ...

مزید پڑھیے

میرے خوابوں کو سمندر میں بہا دیتا ہے

میرے خوابوں کو سمندر میں بہا دیتا ہے وہ محبت بھی فرائض میں نبھا دیتا ہے فیصلہ تم نے ہی کرنا ہے مگر جانے کیوں کوئی لمحہ تمہیں منصب سے ہٹا دیتا ہے میرے تو اپنے رویے ہی مرے دشمن ہیں جو بھی ملتا ہے وہ جینے کی دعا دیتا ہے اس سے خود اپنی بھی صورت نہیں دیکھی جاتی وقت انسان کو کچھ ایسا ...

مزید پڑھیے

اسے بارشوں نے چرا لیا کہ وہ بادلوں کا مکین تھا

اسے بارشوں نے چرا لیا کہ وہ بادلوں کا مکین تھا کبھی مڑ کے یہ بھی تو دیکھتا کہ مرا وجود زمین تھا وہی ایک سچ تھا اور اس کے بعد کی ساری تہمتیں جھوٹ ہیں مرے دل کو پورا یقین ہے وہ محبتوں کا امین تھا اسے شوق تھا کہ کسی جزیرے پہ اس کے نام کا پھول ہو مجھے پیار کرنا سکھا گیا مرا دوست کتنا ...

مزید پڑھیے

مکمل زندگی کرنے کی چاہت کچھ نہیں ہوتی

مکمل زندگی کرنے کی چاہت کچھ نہیں ہوتی جو لمحہ مل گیا جی لو ریاضت کچھ نہیں ہوتی جسے محرومیاں ملتی ہیں وہ ہی جان سکتا ہے زبانی حوصلہ جھوٹی مروت کچھ نہیں ہوتی اسے چاہا تو یہ سوچا محبت ہی سبھی کچھ ہے اسے پرکھا تو یہ جانا محبت کچھ نہیں ہوتی کسی نے چھوڑ کر جانا ہو تو پھر چھوڑ جاتا ...

مزید پڑھیے

داستان فطرت ہے ظرف کی کہانی ہے

داستان فطرت ہے ظرف کی کہانی ہے جتنا اتھلا دریا ہے اتنا تیز پانی ہے جن لبوں نے سینچا ہے تشنگی کے خاروں کو اب انہیں کے حصے میں جام کامرانی ہے پھر سے کھلنے والا ہے کوئی تازہ گل شاید باغباں کی پھر ہم پر خاصی مہربانی ہے عقل کب سے بھٹکے ہے نفرتوں کی وادی میں پیار کی مگر اب بھی دل پہ ...

مزید پڑھیے

آہ بیگانۂ اثر تو نہیں

آہ بیگانۂ اثر تو نہیں وہ بھی اب مجھ سے بے خبر تو نہیں سونی سونی پڑی ہے بزم جمال منتظر سب ہیں منتظر تو نہیں راستے کر رہے ہیں سرگوشی جذبہ پابند راہبر تو نہیں کاٹ دیں اک امید فردا پر زندگی اتنی مختصر تو نہیں صرف گرد سفر ہے اے یارو کہکشاں ان کی رہ گزر تو نہیں جانے کب ٹوٹ جائے تار ...

مزید پڑھیے

زندگی ایک طلسمات کا آئینہ ہے

زندگی ایک طلسمات کا آئینہ ہے دن جسے کہتے ہیں وہ رات کا آئینہ ہے جو بھی کہنا ہو تجھے میری طرف دیکھ کے کہہ میرا چہرہ ترے جذبات کا آئینہ ہے شخصیت میں تری اتنی ہی چمک بھی ہوگی جتنا روشن تری خدمات کا آئینہ ہے عہد نو لفظوں کے مفہوم سے واقف ہی نہیں کتنا بے عکس خیالات کا آئینہ ہے اب ...

مزید پڑھیے

روشن ہے فضا شمس کوئی ہے نہ قمر ہے

روشن ہے فضا شمس کوئی ہے نہ قمر ہے شاعر ہوں مجھے عرش معلےٰ کی خبر ہے دریا میں ہیں گرداب کنارے پہ بگولے آرام کی صورت نہ ادھر ہے نہ ادھر ہے پتے کی کھڑک سے بھی لرزتا ہے مرا دل سائے سے بھی خطرہ مجھے دوران سفر ہے اک موج بھی رکھتی ہے کنارے کی تمنا آوارہ جو پھرتا ہوں یہ میرا ہی جگر ...

مزید پڑھیے

کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہا

کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہا مجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہا کچھ سروکار نہیں جان رہے یا نہ رہے نہ رہا ان سے تو پھر کس سے سروکار رہا شب خلوت وہی حجت وہی تکرار رہی وہی قصہ وہی غصہ وہی انکار رہا طالب دید کو ظالم نے یہ لکھا خط میں اب قیامت پہ مرا وعدۂ دیدار رہا حال دل بزم میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3876 سے 6203