قومی زبان

بریکنگ نیوز

تحیر خوف دہشت بربریت اور انوکھے ظلم کو مانوس لفظوں کی قبا پہنا کے جب بھی میڈیا سے نشر کرتے ہیں بریکنگ نیوز کہلاتی ہے اور اس نیوز میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہ وحشت زدہ ماحول میں ویڈیو کوئی ایسی بنا کر پیش کی جائے کہ جس کو دیکھ کر ہم کو یقیں آئے جہاں میں اب اندھیرے ہی اندھیرے ہیں بہت ...

مزید پڑھیے

خود کو پہروں تھکاتی ہوں میں

خود کو پہروں تھکاتی ہوں میں یاد کے بت بناتی ہوں میں دھیان ہٹتا نہیں ہے مرا دھیان تجھ سے ہٹاتی ہوں میں کون تیرے سوا ہے مرا تجھ کو اپنا بناتی ہوں میں جب مجھے یاد آتا ہے وہ دو جہاں بھول جاتی ہوں میں خواب ہے تیری چاہت مجھے خواب خود کو دکھاتی ہوں میں جل رہا ہے دیے سے دیا بانٹتی ہوں ...

مزید پڑھیے

وقت کے کان کون بھر رہا ہے

وقت کے کان کون بھر رہا ہے وقت ویسے بھی تو گزر رہا ہے سال دو چار پیچھے ہو گئے ہیں آئنہ دیکھ کر سنور رہا ہے کون رہتا ہے پار دریا کے یہ جو پانی ہے کیوں بپھر رہا ہے یہ اداسی بھی بے سبب تو نہیں دل کسی جستجو میں مر رہا ہے تھام کر ہاتھ میرا ہاتھوں میں بات بے بات کیوں مکر رہا ہے دور ہی ...

مزید پڑھیے

کسی کی یاد میں بے کل رہی ہے

کسی کی یاد میں بے کل رہی ہے وہ اک لڑکی جو آنکھیں مل رہی ہے کسی کی راہ کو اتنا تکا تھا ہماری آنکھ برسوں شل رہی ہے چھپا تو لی ہے اپنی پیاس ہم نے مگر جو چیخ اندر پل رہی ہے کسی نے پاؤں سے زنجیر باندھی کسی کے پاؤں میں پائل رہی ہے مگر سچ ہے کہ اک صورت کسی کی ہماری آنکھ کا کاجل رہی ...

مزید پڑھیے

یاد پر انگلیاں اٹھاتی ہوں

یاد پر انگلیاں اٹھاتی ہوں خواب پر تہمتیں لگاتی ہوں کیا کہا دشت کا ارادہ ہے تو چلو ساتھ میں بھی آتی ہوں وہ جو مجھ سے کبھی ملا ہی نہیں میں اسے رات دن ستاتی ہوں اس کو رکھا ہے فکر سے آزاد خود پہ پابندیاں لگاتی ہوں نا کہیں خواب جان جائیں مرا پھول سے تتلیاں اڑاتی ہوں در کا دستک کے ...

مزید پڑھیے

تم کہاں مجھ سے ملاقات کو آ سکتے ہو

تم کہاں مجھ سے ملاقات کو آ سکتے ہو چلتی گاڑی سے فقط ہاتھ ہلا سکتے ہو یوں نہیں ہے کہ ہر اک خواب کو تعبیر ملے ایسا کب ہے جسے چاہو اسے پا سکتے ہو میرے جیسے ہو تو حاضر ہیں مرے قلب و نظر اوروں جیسے ہو تو پھر شوق سے جا سکتے ہو لازمی یہ بھی کہاں ہے کہ ہمارے ہی رہو دفعتاً اور کسی کو بھی تو ...

مزید پڑھیے

منتشر ہوتے ہوئے انبار کو تصویر کر

منتشر ہوتے ہوئے انبار کو تصویر کر سوچ کی فوٹو بنا افکار کو تصویر کر صبر کو کر کینوس جو یار کی خاطر سہا یار کی فوٹو بنا پھر غار کو تصویر کر کیمرے میں قید کر تحریر کی تکلیف کو ہجر میں لکھے گئے اشعار کو تصویر کر رات دن پھر ان سے کر تو ہم کلامی گفتگو اینٹ کا اک دل بنا دیوار کو تصویر ...

مزید پڑھیے

وقت کی آنکھ سے کچھ خواب نئے مانگتا ہے

وقت کی آنکھ سے کچھ خواب نئے مانگتا ہے دل مرا ایک دعا رات گئے مانگتا ہے ایک آواز تہہ آب بلاتی ہے مجھے عشق مجھ سے بھی وہی کچے گھڑے مانگتا ہے درد کہتا ہے کسی ساعت تنہا میں رہوں اک مکاں گہرے سمندر سے پرے مانگتا ہے ضبط چاہے اسے رخصت کی اجازت مل جائے اشک آنکھوں سے محبت کے صلے مانگتا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا

آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا پھر عشق نے ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا یہ شہر صداقت ہے قدم سوچ کے رکھنا شانے پہ کسی کے بھی یہاں سر نہیں دیکھا ہم عمر بسر کرتے رہے میرؔ کی مانند کھڑکی کو کبھی کھول کے باہر نہیں دیکھا وہ عشق کو کس طرح سمجھ پائے گا جس نے صحرا سے گلے ملتے سمندر ...

مزید پڑھیے

تمہارے عشق پہ دل کو جو مان تھا نہ رہا

تمہارے عشق پہ دل کو جو مان تھا نہ رہا ستارہ ایک سر آسمان تھا نہ رہا وہ اور تھے کہ جو ناخوش تھے دو جہاں لے کر ہمارے پاس تو بس اک جہان تھا نہ رہا تو اپنی فتح کا اعلان کر میں ہار گئی وہ حوصلہ کہ مجھے جس پہ مان تھا نہ رہا وہی کہانی ہے کردار بھی وہی ہیں مگر جو ایک نام سر داستان تھا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3869 سے 6203