قومی زبان

مثال خاک کہیں پر بکھر کے دیکھتے ہیں

مثال خاک کہیں پر بکھر کے دیکھتے ہیں قرار مر کے ملے گا تو مر کے دیکھتے ہیں سنا ہے خواب مکمل کبھی نہیں ہوتے سنا ہے عشق خطا ہے سو کر کے دیکھتے ہیں کسی کی آنکھ میں ڈھل جاتا ہے ہمارا عکس جب آئینے میں کبھی بن سنور کے دیکھتے ہیں ہمارے عشق کی میراث ہے بس ایک ہی خواب تو آؤ ہم اسے تعبیر کر ...

مزید پڑھیے

یہ کہنا تھا جو دنیا کہہ رہی ہے

یہ کہنا تھا جو دنیا کہہ رہی ہے یہ گنگا کب سے الٹی بہہ رہی ہے خبر ہے خواب ٹوٹے گا یقیناً مگر اک فاختہ دکھ سہہ رہی ہے لگی تھی اس کی بنیادوں میں دیمک سو اب دل کی عمارت ڈھ رہی ہے کہیں یہ خشک ہو جائے نہ ساتھی مرے دل میں جو ندیا بہہ رہی ہے ستارہ بند مٹھی میں ملے گا مری تقدیر مجھ سے کہہ ...

مزید پڑھیے

چراغ ہاتھ میں تھا تیر بھی کمان میں تھا

چراغ ہاتھ میں تھا تیر بھی کمان میں تھا میں پھر بھی ہار گئی تو جو درمیان میں تھا میں آسماں کی حدوں کو بھی پار کر لیتی مگر وہ خوف جو حائل میری اڑان میں تھا تھی زخم زخم مگر خود کو ٹوٹنے نہ دیا سمندروں سے سوا حوصلہ چٹان میں تھا بدل بھی سکتا ہے اخبار کی خبر کی طرح ترا یہ وصف بھلا کب ...

مزید پڑھیے

وقت ایسا کوئی تجھ پر آئے

وقت ایسا کوئی تجھ پر آئے خشک آنکھوں میں سمندر آئے میرے آنگن میں نہیں تھی بیری پھر بھی ہر سمت سے پتھر آئے راستہ دیکھ نہ گوری اس کا کب کوئی شہر میں جا کر آئے ذکر سنتی ہوں اجالے کا بہت اس سے کہنا کہ مرے گھر آئے نام لے جب بھی وفا کا کوئی جانے کیوں آنکھ مری بھر آئے

مزید پڑھیے

سوال

محبت آشنا لمحہ چھپائے اک عجب سا کرب لہجے میں مجھی سے پوچھتے ہیں یہ اگر ہر خواب کی قسمت میں مر جانا ہی لکھا ہے تو آنکھیں دیکھتی کیوں ہیں

مزید پڑھیے

فصل

سنو میں نے سنا ہے یہ زمیں سونا اگلتی ہے بہت زرخیز ہے جس چیز کے بھی بیج ڈالیں فصل اس کی چند دن میں لہلہاتی ہے تو پھر اک کام کرتے ہیں مجھے تم اس زمیں کے کچھ مربعے دو میں اس میں ہاتھ بوؤں گی مجھے حیرت سے مت دیکھو سنو جب میں زمیں میں ہاتھ بوؤں گی تو اس میں انگنت ہاتھوں کی فصلیں لہلہائیں ...

مزید پڑھیے

درد مشترک

میں اب تک یہ سمجھتی تھی کہانی کا نہ دل ہے اور نہ گویائی سلیقہ ہی نہیں انکار کا اس کو ہمیشہ لکھنے والے کی رضا پر چھوڑ دیتی ہے وجود اپنا کبھی منہ سے نہیں کہتی کہ مجھ کو اس طرف موڑو جدھر میں چاہتی ہوں اور یہاں تک کہ کئی کردار مر جاتے ہیں پھر بھی آنکھ سے اس کی کبھی آنسو نہیں گرتے کہانی ...

مزید پڑھیے

تیرا نام

بارشوں کے موسم میں چھت پہ بیٹھ کر تنہا ننھی ننھی بوندوں سے تیرا نام لکھتی ہوں

مزید پڑھیے

تیرا نام

بارشوں کے موسم میں چھت پہ بیٹھ کر تنہا ننھی ننھی بوندوں سے تیرا نام لکھتی ہوں

مزید پڑھیے

مقتل میں چلنے والا ہر چاقو مانگے آزادی

مقتل میں چلنے والا ہر چاقو مانگے آزادی سڑکوں پر اٹھنے والا ہر بازو مانگے آزادی راکھ سمیٹے چولھے کی وہ روٹی اکثر کہتی ہے امی کے بوڑھے ہاتھوں کا جادو مانگے آزادی آزادی سے آزادی کا رونا ہم کو رونا ہے آزادی سے آزادی کی خوشبو مانگے آزادی خبریں کچھ الٹی سیدھی سی قاصد لے کر آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3870 سے 6203