قومی زبان

اپنے چمن پہ ابر یہ کیسا برس گیا

اپنے چمن پہ ابر یہ کیسا برس گیا ہر قطرہ زہر بن کے فضاؤں میں بس گیا سود و زیاں کی فکر کا کس کو رہا دماغ مدت ہوئی کہ حوصلۂ پیش و پس گیا اب جاگتے ہیں اپنی ہی آہٹ سے قافلے راہ طلب سے شیوۂ بانگ جرس گیا اک سیل رنگ و نور سے جل تھل ہے کائنات کیسا یہ تیرے جلووں کا بادل برس گیا دکھلائیں ہم ...

مزید پڑھیے

صورت سبزۂ بیگانہ چمن سے گزرے

صورت سبزۂ بیگانہ چمن سے گزرے ہم مسافر کی طرح اپنے وطن سے گزرے سہل ہے نعرۂ منصور مگر سہل نہیں ہر کوئی مرحلۂ دار و رسن سے گزرے لالہ و گل کو تبسم کی ضیا دی ہم نے جلوۂ صبح کی مانند چمن سے گزرے ہے یہ کیا روشنیٔ فکر کی تیرہ بختی جلوۂ روح نہ پیراہن تن سے گزرے وہ کرے تجزیۂ موسم گل جس ...

مزید پڑھیے

وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسوا

وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسوا جہان بیش و کم میں خواب آدم ہو گیا رسوا نہ چونکا نکہت آوارہ کی روداد پر کوئی یہ کیوں افسانۂ‌ پرواز شبنم ہو گیا رسوا دکھائی اہل دل کو منزل دار و رسن جس نے تمہاری کج کلاہی کا وہ عالم ہو گیا رسوا امانت سینۂ لالہ میں کس کی تھی نہ یہ پوچھو کہ ...

مزید پڑھیے

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے زہر غم بادہ چکاں ہو تو غزل ہوتی ہے فکر تپ تپ کے نکھرتی رہے کندن کی طرح آگ سینے کی جواں ہو تو غزل ہوتی ہے دھیمی دھیمی سی نوا سلسلہ جنبان ابد پردۂ جاں میں نہاں ہو تو غزل ہوتی ہے دھڑکنیں صورت الفاظ بکھرتی جائیں دل معانی کی زباں ہو تو غزل ہوتی ...

مزید پڑھیے

کہیں پہ مال و دنیا کی خریداری کی باتیں ہیں

کہیں پہ مال و دنیا کی خریداری کی باتیں ہیں کہیں پہ دن بہ دن بڑھتی ریا کاری کی باتیں ہیں بھرے بازار میں سچ کی دکانوں پر ہے سناٹا تجارت جھوٹ کی چمکی ہے مکاری کی باتیں ہیں کہیں روزے پہ روزے صرف پانی پی کے کھلتے ہیں کہیں بس نام پہ روزوں کے افطاری کی باتیں ہیں کہیں کھانا ہی کھانا ہے ...

مزید پڑھیے

بنت حوا

بنت حوا ہوں میں عورت ہے مرا اسم شریف ہے یہ پہچان مری اور یہی ہے تعریف مجھ کو ہے فخر کہ اس قوم سے نسبت ہے مری فاطمہؓ مریم و سیتا سی ہیں رہبر جس کی میں بھی اشرف ہوں نگاہوں میں خدا کی میرے میری تو گود میں کھیلے ہیں مسیحا کتنے کتنے ولیوں نے مرے ہاتھ کی روٹی کھائی کتنے شاہوں نے مرے ...

مزید پڑھیے

بے دم ہوئے یوں ہو کے گرفتار محبت

بے دم ہوئے یوں ہو کے گرفتار محبت کہتا ہے مسیحا کہ ہوں بیمار محبت روتا ہے شب ہجر میں دل خون کے آنسو ملتا نہیں کوئی اسے غم‌ خوار محبت ان حسن کی گلیوں میں خریدار بہت ہیں لگتا ہے شب و روز یہ بازار محبت الفاظ ہیں خنجر تو بجھا زہر میں لہجہ ایسے میں بھلا کیسے ہو اقرار محبت اب عشق ہے ...

مزید پڑھیے

آرزوئے دل کا یہ انجام ہونا چاہیے

آرزوئے دل کا یہ انجام ہونا چاہیے کیا مجھے بھی عشق میں ناکام ہونا چاہیے کیوں بھلا ابلیس کو الزام دیتے ہو فقط تم کو خیر و شر کا بھی الہام ہونا چاہیے باپ کی دستار بیچیں بہن کی کھینچیں ردا مرد کی غیرت پہ اب نیلام ہونا چاہیے مطلبی دنیا میں ہے گم ابن آدم اس قدر کام ہونا چاہیے بس کام ...

مزید پڑھیے

یہ سچ نہیں ہے کہ اس کو میری محبتوں کی خبر نہیں ہے

یہ سچ نہیں ہے کہ اس کو میری محبتوں کی خبر نہیں ہے اسے پتہ ہے کہ عشق میرا فقط فریب نظر نہیں ہے صبیح چہرے پہ روشنی ہو اگر جو باطن سے عشق پھوٹے تمام دنیا میں عشق جیسا کوئی بھی کار دگر نہیں ہے جو راہ ڈھونڈے وہ راہ پائے جو راہ پائے وہ بھول جائے تلاش کر لے جو اصل اپنی وہی ہے جو بے خبر ...

مزید پڑھیے

تشنہؔ فضائے صبح چمن میں خمار ہے

تشنہؔ فضائے صبح چمن میں خمار ہے لیکن جو دل کی بات کروں بے قرار ہے پھولوں کے سرخ ڈھیر کے پیچھے ہے تیز تیغ یوسف کے بھائیوں کا کہاں اعتبار ہے گردش کا آسمان ہے شورش کی خاک پر آدم تری زمیں پہ بہت سوگوار ہے لوگوں سے ربط ضبط ہے دنیا سے اتفاق شاید یہ اپنے آپ سے میرا فرار ہے شکوہ کریں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3861 سے 6203