اپنے چمن پہ ابر یہ کیسا برس گیا
اپنے چمن پہ ابر یہ کیسا برس گیا ہر قطرہ زہر بن کے فضاؤں میں بس گیا سود و زیاں کی فکر کا کس کو رہا دماغ مدت ہوئی کہ حوصلۂ پیش و پس گیا اب جاگتے ہیں اپنی ہی آہٹ سے قافلے راہ طلب سے شیوۂ بانگ جرس گیا اک سیل رنگ و نور سے جل تھل ہے کائنات کیسا یہ تیرے جلووں کا بادل برس گیا دکھلائیں ہم ...