قومی زبان

جواب

سورج نے جاتے جاتے بڑی تمکنت کے ساتھ ظلمت میں ڈوبتی ہوئی دنیا پہ کی نظر کہنے لگا کہ کون ہے اب اس کا پاسباں میرے سوا ہے کون زمانے کا راہبر میں تھا تو اپنی راہ پہ تھی گامزن حیات اب میں نہیں رہوں گا تو یہ ساری کائنات ظلمات میں بھٹکتی پھرے گی تمام رات سورج یہ کہہ کے جا ہی رہا تھا کہ اک ...

مزید پڑھیے

نسبت خاک

زمیں سے کیوں نہ مجھے پیار ہو کہ میرا وجود ازل سے تا بہ ابد خاک سے عبارت ہے مرا خیال مرے خواب میری فکر و نظر جسد سے تا بہ لحد خاک سے عبارت ہے وہ مشت خاک جسے نور نے کیا سجدہ خرد کے نت نئے سانچوں میں ڈھل رہی ہے آج وہ آگ جس نے کیا انحراف عظمت خاک خود اپنی ذات کے دوزخ میں جل رہی ہے آج میں ...

مزید پڑھیے

ہارون کی آواز

دیکھو ابھی ہے وادیٔ کنعاں نگاہ میں تازہ ہر ایک نقش کف پا ہے راہ میں یعقوب بے بصر سہی یوسف کی چاہ میں لہرا رہا ہے آج بھی طرہ کلاہ میں یہ طرہ گر گیا تو الٹ جائے گی زمیں محور سے اپنے اور بھی ہٹ جائے گی زمیں تاریخ کے سفر میں غلط بھی قدم اٹھے گاہے لباس فقر میں اہل حشم اٹھے گاہے صنم تراش ...

مزید پڑھیے

اتنی سی اس جہاں کی حقیقت ہے اور بس

اتنی سی اس جہاں کی حقیقت ہے اور بس گفتار زیر لب ہے سماعت ہے اور بس کیوں آشنائے چشم ہو دیدار حسن کا یہ گریہ آزمائی تو عادت ہے اور بس اتنے سے جرم پر تو نہ مجھ کو تباہ رکھ تھوڑی سی مجھ میں تیری شباہت ہے اور بس اس کو جزا سزا کے مراحل میں دے دیا جس پاس ایک عمر کی مہلت ہے اور بس آیا جو ...

مزید پڑھیے

کرن کرن کے درخشندہ باب میرے ہیں

کرن کرن کے درخشندہ باب میرے ہیں تمام روشنیوں کے نصاب میرے ہیں شبوں کے سبز جزیرے ہیں سب مری اقلیم تمام جاگتی آنکھوں کے خواب میرے ہیں میں ہوں تمام دھڑکتے دلوں کا شیدائی یہ آبگینے یہ نازک حباب میرے ہیں تمام عمر تخاطب مرا مجھی سے رہا سوال میں نے کئے ہیں جواب میرے ہیں خدائے دشت ...

مزید پڑھیے

مسئلہ جو مرے در پیش ہے تو حل کر دے

مسئلہ جو مرے در پیش ہے تو حل کر دے زندگی میری ادھوری ہے مکمل کر دے دل خاموش پہ اک ہلکی سی دستک دے کر جذبۂ شوق مرا اور بھی چنچل کر دے جب بھی گردن میں جھکاؤں تو نظر آئے تو اپنی تصویر مرے دل میں مقفل کر دے تو گھٹا بن کے فضاؤں میں بکھر جا ہر سو میری چاہت کو بھی آوارہ سا بادل کر دے لے ...

مزید پڑھیے

کیوں یہ دھوکے میں پڑا بھائی ترا کچھ بھی نہیں

کیوں یہ دھوکے میں پڑا بھائی ترا کچھ بھی نہیں تو جو کہتا ہے مرا بھائی ترا کچھ بھی نہیں وقت اک جھونکا ہوا کا ہے ٹھہرتا ہی نہیں اس پہ آنسو نہ بہا بھائی ترا کچھ بھی نہیں کیا سکندر کی سوانح تجھے معلوم نہیں سوچ اس پر بھی ذرا بھائی ترا کچھ بھی نہیں لوٹ جانا ہے بہرحال سبھی کو اک دن شور ...

مزید پڑھیے

گلوں میں جس طرح خوشبو بہت ضروری ہے

گلوں میں جس طرح خوشبو بہت ضروری ہے اسی طرح ہمیں اردو بہت ضروری ہے نہ مال و زر کی تمنا نہ جاہ و منصب کی مری حیات میں بس تو بہت ضروری ہے ہے تلخ بول سے دل ٹوٹنے کا اندیشہ زباں پہ اس لئے قابو بہت ضروری ہے قریب آئیں گے دشمن بھی تیری دعوت پر ترے کلام میں خوشبو بہت ضروری ہے عمل ہو ایسا ...

مزید پڑھیے

علم کی شمع اندھیرا نہیں ہونے دیتی

علم کی شمع اندھیرا نہیں ہونے دیتی اپنے کردار کو میلا نہیں ہونے دیتی اپنے اسلاف کی تعلیم ہی کچھ ایسی ہے عزم و ہمت کو جو پسپا نہیں ہونے دیتی گردش خون رگ و پے میں ابھی جاری ہے اک یہی سوچ نکما نہیں ہونے دیتی خندہ پیشانی سے ہر ایک سے پیش آتا ہوں میری عادت مجھے رسوا نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

ذہن میں میرے ابھی کوئی کسک باقی ہے

ذہن میں میرے ابھی کوئی کسک باقی ہے تجھ سے دوری کی تڑپ آج تلک باقی ہے میری آنکھوں میں کہیں تیری چمک باقی ہے میری بانہوں میں ترے تن کی لچک باقی ہے وہ بہاروں کا ہو موسم یا خزاں کی رت ہو پیار کے باغ میں ہر گل کی مہک باقی ہے میرے کمرے میں پڑی شیشے کی کرچی میں بھی دھندلی دھندلی سی کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3847 سے 6203