ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے
ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے تیری گلی سے آ کے صبا بھی ہوا میں ہے اے عشق تیری دوسری منزل بھی ہے کہیں مرنا ہے ابتدا میں تو کیا انتہا میں ہے لاتی ہے جب صبا تو چمکتے ہیں بام و در یہ روشنی سی کیا تری بوئے قبا میں ہے ہر رہ گزر نشاں ہے تری سمت کا مگر اقرار نا رسی بھی ہر اک نقش پا ...