قومی زبان

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے تیری گلی سے آ کے صبا بھی ہوا میں ہے اے عشق تیری دوسری منزل بھی ہے کہیں مرنا ہے ابتدا میں تو کیا انتہا میں ہے لاتی ہے جب صبا تو چمکتے ہیں بام و در یہ روشنی سی کیا تری بوئے قبا میں ہے ہر رہ گزر نشاں ہے تری سمت کا مگر اقرار نا رسی بھی ہر اک نقش پا ...

مزید پڑھیے

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے لے کر پیام شوق کئی نامہ بر چلے دل کو سنبھالتے رہے ہر حادثے یہ ہم اب کیا کریں کہ خود ترے گیسو بکھر چلے ہر گام پر شکست نے یوں حوصلہ دیا جس طرح ساتھ ساتھ کوئی ہم سفر چلے شوق طلب نہ ہو کوئی بانگ جرس تو ہو آخر کوئی چلے تو کس امید پر چلے اب کیا کرو گے سیر ...

مزید پڑھیے

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے

کبھی آہیں کبھی نالے کبھی آنسو نکلے ان سے آغاز سخن کے کئی پہلو نکلے یوں بھی وہ بزم تصور سے گزر جاتے ہیں جیسے لے ساز سے یا پھول سے خوشبو نکلے ہے اس امید پہ صیقل ہنر تیشہ زنی سینۂ سنگ سے شاید کوئی گل رو نکلے قصۂ دار و رسن ہی سہی کچھ بات کرو کسی عنواں سے تو ذکر قد و گیسو نکلے غم ...

مزید پڑھیے

لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو

لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو پھوٹے گی ہر کلی میں زباں دیکھتے رہو برپا سر حیات ہے اک حشر دار و گیر دیتا ہے کون کس کو اماں دیکھتے رہو دم بھر کو آستان تمنا پہ ہے ہجوم جائے بچھڑ کے کون کہاں دیکھتے رہو ملنے کو ہے خموشئ اہل جنوں کی داد اٹھنے کو ہے زمیں سے دھواں دیکھتے رہو محفل میں ...

مزید پڑھیے

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے

دیکھے ہیں جو غم دل سے بھلائے نہیں جاتے اک عمر ہوئی یاد کے سائے نہیں جاتے اشکوں سے خبردار کہ آنکھوں سے نہ نکلیں گر جائیں یہ موتی تو اٹھائے نہیں جاتے ہر جنبش دامان جنوں جان ادب ہے اس راہ میں آداب سکھائے نہیں جاتے ہم بھی شب گیسو کے اجالوں میں رہے ہیں کیا کیجیے دن پھیر کے لائے نہیں ...

مزید پڑھیے

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے

گو داغ ہو گئے ہیں وہ چھالے پڑے ہوئے ہیں اب بھی دل میں تیرے حوالے پڑے ہوئے دشت وفا میں جل کے نہ رہ جائیں اپنے دل وہ دھوپ ہے کہ رنگ ہیں کالے پڑے ہوئے شعلہ سا رنگ کیا ہے وہ حسن کرشمہ ساز ہیں کشمکش میں دیکھنے والے پڑے ہوئے شبنم سزا ہے جرأت افشائے راز کی گویا زبان گل میں ہیں چھالے پڑے ...

مزید پڑھیے

پاس‌ ناموس تمنا ہر اک آزار میں تھا

پاس‌ ناموس تمنا ہر اک آزار میں تھا نشۂ‌ نگہت گل بھی خلش خار میں تھا کس سے کہیے کہ زمانے کو گراں گزرا ہے وہ فسانہ کہ مری حسرت گفتار میں تھا دل کہ آتا ہی نہیں ترک تمنا کی طرف کوئی اقرار کا پہلو ترے انکار میں تھا کچھ تجھے یاد ہے اے چشم‌ زلیخائے جہاں ہم سا یوسف بھی کوئی مصر کے ...

مزید پڑھیے

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو

تزئین بزم غم کے لیے کوئی شے تو ہو روشن چراغ دل نہ سہی جام مے تو ہو ہم تو رہین رشتۂ بے گانگی رہے سارے جہاں سے تیری ملاقات ہے تو ہو غم بھی مجھے قبول ہے لیکن بہ قدر شوق دل کا نصیب درد سہی پے بہ پے تو ہو فریاد ایک شور ہے آہنگ کے بغیر نالہ متاع درد سہی کوئی لے تو ہو یہ کیا کہ اہل شوق نہ ...

مزید پڑھیے

زمیں کا دم نکلتا جا رہا ہے

زمیں کا دم نکلتا جا رہا ہے خدا کا کام چلتا جا رہا ہے یہ کن ہاتھوں میں سورج آ گیا ہے چھتوں سے دن پگھلتا جا رہا ہے پرندے ممٹیوں پہ رو رہے ہیں شجر ہر گھر سے کٹتا جا رہا ہے عجب سا وہم دل پہ جم گیا ہے بدن سائے سے گھٹتا جا رہا ہے ہوا بھی سرد ہوتی جا رہی ہے سمندر بھی اترتا جا رہا ہے جو ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر گرتی فصیلوں پر ہوا کا شور تھا

ٹوٹ کر گرتی فصیلوں پر ہوا کا شور تھا رات بھر شہر بدن میں کس بلا کا شور تھا دھوپ نکلی تو وہی پیاسی زمیں کے ہونٹ تھے بستیوں میں دور تک گہری گھٹا کا شور تھا طائر خوشبو کے حق میں ہجرتیں ورثہ ہوئیں خیمہ گاہ گل میں وہ باد صبا کا شور تھا شہر سارا خوف کے گونگے قلعے میں قید تھا اک خدائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3846 سے 6203