قومی زبان

ہر کسی کی یہی اک کہانی ملی

ہر کسی کی یہی اک کہانی ملی ڈھونڈھی خوشیاں تو غم کی نشانی ملی خوف سے شہر سہمے ملے تھے سبھی غم زدہ ان میں ان کی جوانی ملی ایک عرصہ ہوا جو نہ ہنس کے ملے ہنستی تصویر ان کی پرانی ملی ہم رہے بد دعا سے صدا بے اثر ہم کو ماں کی دعا آسمانی ملی روٹی دو تھی تو اک بھوکے سے بانٹ لی ہم کو تہذیب ...

مزید پڑھیے

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے ہر نفس حلقۂ زنجیر نظر آتا ہے زندگی جرم تمنا کی سزا ہو جیسے کان بجتے ہیں سکوت شب تنہائی میں وہ خموشی ہے کہ اک حشر بپا ہو جیسے اب تو دیوانوں سے یوں بچ کے گزر جاتی ہے بوئے گل بھی ترے دامن کی ہوا ہو جیسے کہتے ...

مزید پڑھیے

آج کی شب جیسے بھی ہو ممکن جاگتے رہنا

آج کی شب جیسے بھی ہو ممکن جاگتے رہنا کوئی نہیں ہے جان کا ضامن جاگتے رہنا قزاقوں کے دشت میں جب تک قافلہ ٹھہرے قافلے والو رات ہو یا دن جاگتے رہنا تاریکی میں لپٹی ہوئی پر ہول خموشی اس عالم میں کیا نہیں ممکن جاگتے رہنا آہٹ آہٹ پر جانے کیوں دل دھڑکے ہے کوئی نہیں اطراف میں لیکن ...

مزید پڑھیے

حریف وصال

عجیب شب تھی جو ایک پل میں سمٹ گئی تھی عجیب پل تھا جو سال ہا سال کی مسافت پہ پرفشاں تھا اور اس کے سائے میں ایک موسم ٹھہر گیا تھا (کسی کے دل میں تھا کیا کسی کو خبر نہیں تھی) بس ایک عالم سپردگی کا بس ایک دریائے تشنگی تھا کہ جس کی موجیں امڈ امڈ کر بکھر رہی تھیں کھلے سمندر میں ڈوب جانے کی ...

مزید پڑھیے

ان کہی

تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش میری تخئیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں تیری زلفیں تری آنکھیں ترے عارض ترے ہونٹ کیسی ان جانی سی معصوم خطا کرتے ہیں تیرے قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤ جیسے پھولوں سے لدی شاخ ہوا میں لہرائے وہ چھلکتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

ید بیضا

مری ہتھیلی کے سانپ کب تک ڈسیں گے مجھ کو مری ہتھیلی کے سانپ جو اب مری رگوں میں اتر چکے ہیں بدن کو زنجیر کر چکے ہیں میں خواب دیکھوں تو کوئی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ دے قدم اٹھاؤں تو کوئی میرے قدم پکڑے پلٹ کے دیکھوں تو کوئی پیچھے نہ کوئی آگے بس ایک سایہ مری حقیقت کا اک کنایہ مری حقیقت کہ ...

مزید پڑھیے

آئینہ در آئینہ

اس بار وہ ملا تو عجب اس کا رنگ تھا الفاظ میں ترنگ نہ لہجہ دبنگ تھا اک سوچ تھی کہ بکھری ہوئی خال و خط میں تھی اک درد تھا کہ جس کا شہید انگ انگ تھا اک آگ تھی کہ راکھ میں پوشیدہ تھی کہیں اک جسم تھا کہ روح سے مصروف جنگ تھا میں نے کہا کہ یار تمہیں کیا ہوا ہے یہ اس نے کہا کہ عمر رواں کی عطا ...

مزید پڑھیے

تضاد

میں سوچتا ہوں میں ایک انسان ہوں ایک مشت غبار ہوں میں ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک آواز سرسرائی فضا کی خاموش وسعتوں میں پلٹ کے دیکھا کوئی ہوائی جہاز پرواز کر رہا تھا جو لمحہ لمحہ بلندیوں کی طرف رواں تھا میں اس کو تکتا رہا مسلسل نہ جانے کب تک نہ جانے اس لمحۂ گریزاں کے تنگ ...

مزید پڑھیے

تناسخ

جب ایک سورج غروب ہوتا ہے کم نظر لوگ یہ سمجھتے ہیں اب اندھیرا زمیں کی تقدیر ہو گیا ہے زمانہ زنجیر ہو گیا ہے انہیں خبر کیا کہ مہر و ماہ و نجوم سارے تو روشنی کے ہیں استعارے طلوع کا دل فروز منظر غروب کا دل شکن نظارہ ازل سے اس روشنی کا پرتو ہے جو مسلسل سفر کے عالم میں ہر مکاں لا مکاں ...

مزید پڑھیے

مادر وطن کا نوحہ

میرے بدن پر بیٹھے ہوئے گدھ میرے گوشت کی بوٹی بوٹی نوچ رہے ہیں میری آنکھیں میرے حسیں خوابوں کے نشیمن میری زباں موتی جیسے الفاظ کا درپن میرے بازو خوابوں کی تعبیر کے ضامن میرا دل جس میں ہر نا ممکن بھی ممکن میری روح یہ سارا منظر دیکھ رہی ہے سوچ رہی ہے کیا یہ سارا کھیل تماشہ (خوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3848 سے 6203