قومی زبان

ہے یہ شہر عشق یاں آب و ہوا کچھ اور ہے

ہے یہ شہر عشق یاں آب و ہوا کچھ اور ہے سرخ رنگت ہے زمیں کی اور فضا کچھ اور ہے یاں جنوں ہے کاروان شوق کو بانگ رحیل اے مسافر یہ پیام نقش پا کچھ اور ہے ہے جدا اس شہر دل میں لذت رنج و الم اس جگہ خون جگر کا ذائقہ کچھ اور ہے عارف کامل ہیں ان صحراؤں کے صحرا نورد یاں تو ہر مجنوں کا انداز و ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے سر دوش ہوا ہوں میں بھی

ایک مدت سے سر دوش ہوا ہوں میں بھی اتنا شفاف کہ ھم رنگ فضا ہوں میں بھی تو بھی واقف مری تاثیر کے محشر سے ہے اور منت کش الطاف و عطا ہوں میں بھی تو منادر کے سنگھاسن پہ بصد عز و وقار پھول کی تھال میں لو دیتا دیا ہوں میں بھی تو بھی اظہار تعلق کے سبب ڈھونڈتا ہے شدت شوق سے جویائے رضا ہوں ...

مزید پڑھیے

مری محبت کی بے خودی کو تلاش حق جلال دینا

مری محبت کی بے خودی کو تلاش حق جلال دینا کبھی جو پابندۂ ستم ہوں مجھے بھی عزم مقال دینا محبتوں کی یہ شوخیاں ہیں یہ اعتماد وفا ہے میرا بگڑ کے فہرست عاشقاں سے کہیں نہ مجھ کو نکال دینا رہ محبت کی سختیوں سے جو رنگ رخ تھا جھلس چکا ہے تمہاری الفت پہ مر رہے ہیں مرا بھی چہرا اجال ...

مزید پڑھیے

زندگی جب ترے آثار نظر آئیں گے

زندگی جب ترے آثار نظر آئیں گے ہم ترے شہر کے اس پار نظر آئیں گے میری آنکھوں کا کنارہ جو تمہیں کافی ہو میرے بازو تمہیں پتوار نظر آئیں گے کہیں خود کو نظر آئے بھی ترے بعد تو ہم سانس لیتے ہوئے بیکار نظر آئیں گے لوگ ڈھونڈیں گے ہمیں ڈھونڈنے والوں کی طرح ہم پس چشم نم یار نظر آئیں ...

مزید پڑھیے

لوگوں کے مرشد ایک طرف

لوگوں کے مرشد ایک طرف اور ذہن میں شاید ایک طرف لیکن کہنے کو زندہ ہیں مرنا سو فیصد ایک طرف آوازیں قید نہیں ہوتیں حد ہو یا سرحد ایک طرف تم آؤ تو ہو سکتا ہے جینے کا مقصد ایک طرف اب تک جو بھی تحریر ہوا تیرے نام کے ابجد ایک طرف دنیا میں سب کچھ فانی ہے تیرے خال و خد ایک طرف ہم ٹھہرے ...

مزید پڑھیے

اب تو آتے ہوں گے کب کے بھیجے ہیں

اب تو آتے ہوں گے کب کے بھیجے ہیں میں نے تم کو لینے رستے بھیجے ہیں اپنی طرف سے تیرا وقت بچایا ہے تیری طرف سے خود کو دلاسے بھیجے ہیں اس کی لغت میں تنہائی کا لفظ بھی ہے جس نے ہر اک شے کے جوڑے بھیجے ہیں قاصد کی جاں بخشی پر ممنون ہوں میں خط میں اس نے خط کے پرزے بھیجے ہیں کیسے کم ہو ...

مزید پڑھیے

اے خدائے جنوں خدا حافظ

اے خدائے جنوں خدا حافظ بندگی کے فسوں خدا حافظ جن لبوں سے تمہیں دیا بوسہ کیسے ان سے کہوں خدا حافظ ظاہراً ایک لمس تھا اس کا زخم ہائے دروں خدا حافظ چشم نم کی ہوا مبارک ہو اے مرے دل کے خوں خدا حافظ تیرا جانا عجیب لگتا تھا اب حمایت میں ہوں خدا حافظ حالت رقص میں ہے ٹھہراؤ اضطراب و ...

مزید پڑھیے

مرے دوش پر تری لاش رے او معاشرے

مرے دوش پر تری لاش رے او معاشرے تیرا مرگ فکر معاش رے او معاشرے میں جنم جنم کا فقیر ہوں تو امیر ہوں مجھے راس میرا قماش رے او معاشرے کئی الجھنوں کا جواز ہوں کوئی راز ہوں مجھے مجھ پہ رہنے دے فاش رے او معاشرے کئی آسمانوں سے دور ہوں میں غرور ہوں مجھے کب ہے تیری تلاش رے او ...

مزید پڑھیے

نہ دلیلیں نہ ہی ابابیلیں

نہ دلیلیں نہ ہی ابابیلیں صبر کے گھونٹ ہیں وہی پی لیں کیسی بے خواب ہیں سبھی آنکھیں جس طرح خشک و بے اماں جھیلیں مات کھا جائیں ضبط سے اپنے اور انسانیت پہ بازی لیں ایک انسان کا لہو کر کے اس پہ شیطان کی گواہی لیں کوچ کر جائیں ایسے کوچے سے ساتھ ناکامیوں کی پونجی لیں جہل میں سہل ہے ...

مزید پڑھیے

رستے کتنا تھک جاتے ہیں

رستے کتنا تھک جاتے ہیں پھر بھی منزل تک جاتے ہیں پتوں کو آرام نہیں ہے کان ہوا کے پک جاتے ہیں لمحوں کو آسان نہ لینا لمحے صدیاں فق جاتے ہیں ایک طرف سے تم آتے ہو چاروں اور دھڑک جاتے ہیں ایک معطر یاد کے جھونکے تازہ لمس چھڑک جاتے ہیں قدموں کی عادت ہے یوں ہی سوئے یار سرک جاتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3817 سے 6203