قومی زبان

لب و رخسار و جبیں سے ملئے

لب و رخسار و جبیں سے ملئے جی نہیں بھرتا کہیں سے ملئے یوں نہ اس دل کے مکیں سے ملئے آسماں بن کے زمیں سے ملئے گھٹ کے رہ جاتی ہے رسوائی تک کیا کسی پردہ نشیں سے ملئے کیوں حرم میں یہ خیال آتا ہے اب کسی دشمن دیں سے ملئے جی نہ بہلے رم آہو سے تو پھر طائر سدرہ نشیں سے ملئے بجھ گیا دل تو ...

مزید پڑھیے

آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمان

آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمان صبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جان پچھلی رات کا سناٹا کہتا ہے اب کیا آئیں گے عقل یہ کہتی ہے سو جاؤ دل کہتا ہے ایک نہ مان ملک طرب کے رہنے والو یہ کیسی مجبوری ہے ہونٹوں کی بستی میں چراغاں دل کے نگر اتنے سنسان ان کی بانہوں کے ...

مزید پڑھیے

چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے

چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئے ہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئے فروغ آتش گل ہی چمن کی ٹھنڈک ہے سلگتی چیختی راتوں کو بھی تو شبنم آئے بس ایک ہم ہی لیے جائیں درس عجز و نیاز کبھی تو اکڑی ہوئی گردنوں میں بھی خم آئے جو کارواں میں رہے میر کارواں کے قریب نہ جانے کیوں وہ پلٹ آئے اور ...

مزید پڑھیے

بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم

بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخم اگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخم ذرا سی بات تھی کچھ آسماں نہ پھٹ پڑتا مگر ہرا ہے ابھی تک ترے جواب کا زخم زمیں کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم میں سنگسار جو ہوتا تو پھر بھی خوش رہتا کھٹک رہا ہے مگر دل میں اک ...

مزید پڑھیے

کسی کی صدا

رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صدا چاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئی گونجتی بڑھتی لرزتی کوہساروں کے قریب پھیلتی میداں میں پگڈنڈی پہ بل کھاتی ہوئی آ رہی ہے اس طرح جیسے کسی کی یاد آئے نیند میں ڈوبی ہوئی پلکوں کو اکساتی ہوئی آسمانوں میں زمیں کا گیت لہرانے لگا چھا گیا ہے چاند ...

مزید پڑھیے

یہ ترا بانکپن یہ رعنائی

یہ ترا بانکپن یہ رعنائی رشک مہتاب تیری زیبائی حسن تیرا عجب کرشمہ ہے ایک عالم بنا تماشائی یاد آیا مجھے بدن تیرا دور قوس قزح جو لہرائی جب سے شمع وفا جلائی ہے انجمن بن گئی ہے تنہائی یوں گزرتے ہیں دیکھ کر مجھ کو جیسے مجھ سے نہیں شناسائی دیپ یادوں کے جل ہی جاتے ہیں چھیڑ دیتی ہے ...

مزید پڑھیے

خوں میں تر صبر کی چادر کہاں لے جاؤ گے

خوں میں تر صبر کی چادر کہاں لے جاؤ گے زندگانی کو برہنہ سر کہاں لے جاؤ گے آ گئے احکام نواب بولنا ممنوع ہے تم سخنور لب گستر کہاں لے جاؤ گے ٹوٹ جائیں گے ضوابط چیخ اٹھے گا ضمیر دور نظروں سے ہر اک منظر کہاں لے جاؤ گے ترک اولیٰ کی سزا یہ پتھروں کا شہر ہے اب بھلا یہ کانچ کا پیکر کہاں ...

مزید پڑھیے

بلا نئی کوئی پالوں اگر اجازت ہو

بلا نئی کوئی پالوں اگر اجازت ہو جنوں کو شوق بنا لوں اگر اجازت ہو نگار خانۂ ہستی کے آئنوں میں ذرا میں اپنا عکس سجا لوں اگر اجازت ہو شراب حسن میں مستی ہے بے نیازی کی خودی کے شیشے میں ڈھالوں اگر اجازت ہو ہماری تم سے ملاقات ہو بھی سکتی ہے میں کوئی راہ نکالوں اگر اجازت ہو بہت دنوں ...

مزید پڑھیے

نظر جو آیا اس پہ اعتبار کر لیا گیا

نظر جو آیا اس پہ اعتبار کر لیا گیا حقیقتوں کے درک سے فرار کر لیا گیا قیود آگہی سے جب سہم گئیں جبلتیں نظر کے گرد رنگ کا حصار کر لیا گیا شہود کی جو سطح پہ انانیت کا شور اٹھا تو دامن خودی کو تار تار کر لیا گیا گماں ہوا کہ راستہ ابھی مری نظر میں ہے شریر شتر نفس بے مہار کر لیا گیا جو ...

مزید پڑھیے

الجھی عقیدتوں کے بیانات ہم سفر

الجھی عقیدتوں کے بیانات ہم سفر جس راہ بھی گئے یہ خرابات ہم سفر مشکل ترین خواہش تحقیق کا سفر پر خار راستوں پہ مکافات ہم سفر دل کی تڑپ کے واسطے محبوب ناگزیر راہ وفا میں غم کے کنایات ہم سفر تھی در بدر یہ عقل تو اس کی تلاش میں لیکن قدم قدم پہ خرافات ہم سفر اک ہم کہ ہر پڑاؤ پہ بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3818 سے 6203