قومی زبان

تمہارے لئے میری آخری نظم

یہ شہر چاہے ہزار صدیوں کی جدتوں کا لباس پہنے یہاں کے باسی بھلے کوئی بھی زبان بولیں وفا کے معنی وفا رہیں گے دلوں کے موسم میں پت جھڑوں کا سوال کیسا خزاں سے مہلت نہ پانے والے ہوا کی باتوں میں آنے والے لرزتے گرتے بکھرتے پتے جنوں کی شاخوں پہ عشق بن کر اگا کریں گے بچھڑتے رستو کسی کے ...

مزید پڑھیے

پہلی محبت

میں کب سے خالی سجدے کر رہا تھا غلط لوگوں پہ جھوٹا مر رہا تھا مگر اب بھول کر ساری خدائی تری صورت مرا مذہب ہوئی ہے مجھے پہلے محبت تو ہوئی تھی مگر پہلی محبت اب ہوئی ہے

مزید پڑھیے

کوئی ٹیگور کی کویتا ہے

کوئی ٹیگور کی کویتا ہے لوگ جب شاعری میں جیتے تھے تو اسی دور کی کویتا ہے دودھیا راستے کے کونے میں اپنے ہونے میں اور نہ ہونے میں جانے کتنے برس سکوں کر کے اپنی آواز میں جنوں بھر کے پھیلتی رات کے کنارے پر بھیڑیا ماہتاب سے الجھے اک حقیقت بڑی سماجت سے اپنی مرضی کے خواب سے الجھے درد کے ...

مزید پڑھیے

کٹاس

کمال کرتے ہیں عشق والے یہ داستاں ہے قرون اولی سے پیشتر کی جب ایک لڑکی سے دیوتا نے بروگ پایا تو آنسوؤں کا محل بنایا یہ عشق تھا سو زمیں کی بنیاد ہل گئی تھی سڑک کے تاروں سے مل گئی تھی یہ عشق تھا سو نہ اس نے لمحوں سے مات کھائی نہ اس کو صدیاں بگاڑ پائیں کٹاس اب بھی وہیں کھڑا ہے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں میں تم کو خود سے جدا کر کے کس طرح دیکھوں کہ میں بھی ''تم'' ہوں، کوئی دوسرا نہیں ہوں میں تو یہ بھی طے! کہ بچھڑ کر بھی لوگ جیتے ہیں میں جی رہا ہوں! اگرچہ جیا نہیں ہوں میں کسی میں کوئی بڑا پن مجھے دکھائی نہ دے خدا ...

مزید پڑھیے

جمال گاہ تغزل کی تاب و تب تری یاد

جمال گاہ تغزل کی تاب و تب تری یاد پہ تنگنائے غزل میں سمائے کب تری یاد کسی کھنڈر سے گزرتی ہوا کا نم! ترا غم!! شجر پہ گرتی ہوئی برف کا طرب تری یاد تو مجھ سے میرے زمانوں کا پوچھتی ہے تو سن! ترا جنوں، ترا سودا، تری طلب، تری یاد گزر گہوں کو اجڑنے نہیں دیا تو نے کبھی یہاں سے گزرتی تھی ...

مزید پڑھیے

رکھ رکھاؤ میں کوئی خوار نہیں ہوتا یار

رکھ رکھاؤ میں کوئی خوار نہیں ہوتا یار دوست ہوتے ہیں، ہر اک یار نہیں ہوتا یار دو گھڑی بیٹھو مرے پاس، کہو کیسی ہو دو گھڑی بیٹھنے سے پیار نہیں ہوتا یار یار! یہ ہجر کا غم! اس سے تو موت اچھی ہے جاں سے یوں ہی کوئی بیزار نہیں ہوتا یار روح سنتی ہے محبت میں بدن بولتے ہیں لفظ پیرایۂ اظہار ...

مزید پڑھیے

اک خلا، ایک لا انتہا اور میں

اک خلا، ایک لا انتہا اور میں کتنے تنہا ہیں میرا خدا اور میں کتنے نزدیک اور کس قدر اجنبی!! مجھ میں مجھ سا کوئی دوسرا اور میں لوگ بھی سو گئے، روگ بھی سو گئے جاگتے ہیں مرا رت جگا اور میں رات اور رات میں گونجتی ایک بات ایک خوف، اک منڈیر، اک دیا اور میں شہر تاراج ہے، جبر کا راج ...

مزید پڑھیے

شب فرقت کی تنہائی کا لمحہ (ردیف .. ے)

شب فرقت کی تنہائی کا لمحہ کئی راز نہانی کھولتا ہے بہت دن سے وہ نا مانوس لہجہ مرے دشت انا میں گونجتا ہے مری پہچان رشتے میرا مقصد سدا سرگوشیوں میں پوچھتا ہے میں سرگرداں ہوں اس کی جستجو میں وہ کہتا ہے کہ مجھ کو ڈھونڈتا ہے ہے اس سے کھل کے ملنا اب ضروری پس پردہ جو مجھ کو دیکھتا ہے

مزید پڑھیے

رہ جستجو میں بھٹک گئے تو کسی سے کوئی گلا نہیں

رہ جستجو میں بھٹک گئے تو کسی سے کوئی گلا نہیں کہ ہم اس کے ہو کے نہ جی سکے وہ ہمارا بن کے ملا نہیں مرے فکر و فن پہ محیط ہے جو تصور ایک خدا‌ نما ہے تلاش اس کی نہیں پتہ وہ خدا بھی ہے کہ خدا نہیں جو ملی نہیں مجھے آگہی ہے مری نگاہ سے اجنبی ہو رگ گلو سے قریب بھی تو یہی کہیں گے ملا نہیں جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3816 سے 6203