قومی زبان

بہ رنگ نغمہ بکھر جانا چاہتے ہیں ہم

بہ رنگ نغمہ بکھر جانا چاہتے ہیں ہم کسی کے دل میں اتر جانا چاہتے ہیں ہم زمانہ اور ابھی ٹھوکریں لگائے ہمیں ابھی کچھ اور سنور جانا چاہتے ہیں ہم اسی طرف ہمیں جانے سے روکتا ہے کوئی وہ ایک سمت جدھر جانا چاہتے ہیں ہم وہاں ہمارا کوئی منتظر نہیں پھر بھی ہمیں نہ روک کہ گھر جانا چاہتے ...

مزید پڑھیے

چھتری لگا کے گھر سے نکلنے لگے ہیں ہم

چھتری لگا کے گھر سے نکلنے لگے ہیں ہم اب کتنی احتیاط سے چلنے لگے ہیں ہم اس درجہ ہوشیار تو پہلے کبھی نہ تھے اب کیوں قدم قدم پہ سنبھلنے لگے ہیں ہم ہو جاتے ہیں اداس کہ جب دوپہر کے بعد سورج پکارتا ہے کہ ڈھلنے لگے ہیں ہم ایسا نہیں کہ برف کی مانند ہوں مگر لگتا ہے یوں کہ جیسے پگھلنے لگے ...

مزید پڑھیے

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے مٹ بھی جائیں گے تو ہم اک داستاں ہو جائیں گے میں نے تیرے ساتھ جو لمحے گزارے تھے کبھی آنے والے موسموں میں تتلیاں ہو جائیں گے کیا خبر کس سمت میں پاگل ہوا لے جائے گی جب پرانے کشتیوں کے بادباں ہو جائیں گے تجھ کو شہرت کی طلب اونچا اڑا لے جائے ...

مزید پڑھیے

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے

پھول سے معصوم بچوں کی زباں ہو جائیں گے مٹ بھی جائیں گے تو ہم اک داستاں ہو جائیں گے میں نے تیرے ساتھ جو لمحے گزارے تھے کبھی آنے والے موسموں میں تتلیاں ہو جائیں گے کیا خبر کس سمت یہ پاگل ہوا لے جائے گی جب پرانے کشتیوں کے بادباں ہو جائیں گے یاد آئے گی انہیں کیا کیا ہماری بے حسی جب ...

مزید پڑھیے

قدم سے خاک بھی اڑی تو چاندنی چھٹک گئی

قدم سے خاک بھی اڑی تو چاندنی چھٹک گئی جدھر سے وہ گزر گئے وہ رہ گزر مہک گئی ہوائے غم نے برگ خشک کی طرح ہلا دیا چراغ کی طرح یہ زندگی بھڑک بھڑک گئی ترا خیال راہ میں چراغ لے کر آ گیا اٹھا کچھ ایسا دل میں درد زندگی چمک گئی اس ایک بوند میں خزانۂ قرار تھا مرا وہ ایک بوند خود بہ خود جو ...

مزید پڑھیے

صحراؤں میں بھی کوئی ہم راز گلوں کا ہے

صحراؤں میں بھی کوئی ہم راز گلوں کا ہے گلشن میں کوئی رہ کر خوشبو کو ترستا ہے اک دن تو کھلے گا یہ دروازۂ دل تیرا اب دیکھنا ہے کب تک احساس بھٹکتا ہے نیندوں کے مکاں میں ہے جس دن سے ترا چہرہ کھلتی ہیں یہ آنکھیں تو اک خوف سا لگتا ہے اک روز یہی کرچیں بینائیاں بخشیں گی یہ شیشۂ دل تم نے ...

مزید پڑھیے

سامنے سے مرے کترا کے گئے ہیں ایسے

سامنے سے مرے کترا کے گئے ہیں ایسے میں نے دیکھا نہیں جاتے ہوئے ان کو جیسے مشورے دیتے رہے جو مجھے مخلص کی طرح کیا کہوں ان سے بھی کھاتا رہا دھوکے کیسے سر سے پیروں تلک اک آلۂ موسیقی ہیں واقفیت نہیں کوئی جنہیں سر سے لے سے بیچ دو سارا جہاں بھی تو نہیں بھر سکتا میرے کشکول میں آ سکتے ...

مزید پڑھیے

سکوں سے کون بھلا پیار کر کے رہتا ہے

سکوں سے کون بھلا پیار کر کے رہتا ہے لگے یہ چوٹ تو پتھر سے خون بہتا ہے سنے بغور چبھن کو سماعت احساس وہ بات گل نہیں کہتا جو خار کہتا مجھے بھی کچے گھڑے پر بٹھا دیا جائے مری رگوں میں بھی دریائے عشق بہتا ہے دکھائے تو کوئی قاتل کے سامنے جا کر یہ میرا دل ہے جو ہنس ہنس کے وار سہتا ...

مزید پڑھیے

حسن بجائے خود پردہ ہے اس پردے کو اٹھائے کون

حسن بجائے خود پردہ ہے اس پردے کو اٹھائے کون دیکھ نہیں سکتی آنکھ اس کو بدلے اپنی رائے کون ہاتھ نشے کا آنکھوں پر ہے اب یہ ہاتھ ہٹائے کون ساقی کے زانو پر سر ہے ہوش میں آئے تو آئے کون شہر حسن کا رہنے والا لقب ہے مجھ پردیسی کا میرے عشق کو خودداری کو اپنے پاس بٹھائے کون راہگزر کی گرمی ...

مزید پڑھیے

جس طرف لے کے ہوا جاتی ہے چل دیتے ہیں

جس طرف لے کے ہوا جاتی ہے چل دیتے ہیں پھول چن لیتے ہیں کانٹوں کو مسل دیتے ہیں خیر خواہی کے طلب گار نہیں ہم لوگو کوئی مشکل ہو تو حالات کا حل دیتے ہیں ظالموں کو بھی سکھاتے ہیں محبت کرنی دل کو احساس کو ذہنوں کو بدل دیتے ہیں خاک صحرا کی نہیں عقل اڑایا کرتی دعوت فکر و نظر دشت و جبل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 369 سے 6203