قومی زبان

یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت

یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت مل کے لوگوں سے بھی پچھتائے بہت ایسے لمحے زیست میں آئے بہت ہم نے دھوکے جان کر کھائے بہت یہ نہیں معلوم کہ کیا بات تھی رو رہے تھے میرے ہمسائے بہت تم ہی بتلا دو کہ کوئی کیا کرے زندگی جب بوجھ بن جائے بہت ہم فراز دار تک تنہا گئے دو قدم تک لوگ ساتھ آئے ...

مزید پڑھیے

اب نیند کہاں آنکھوں میں شعلہ سا بھرا ہے

اب نیند کہاں آنکھوں میں شعلہ سا بھرا ہے یہ تپتے ہوئے ہونٹوں کو تکنے کی سزا ہے آشوب جہاں گزراں نے یہ کیا ہے اس دور کا ہر فرد و بشر آبلہ پا ہے اے شبنم گریاں تجھے اس کا بھی پتا ہے کلیوں کا تبسم بھی بہت درد نما ہے ہر اہل ہوس زینت خلوت کدۂ ناز ہر اہل وفا آج سر دار کھڑا ہے اک نور مجسم ...

مزید پڑھیے

اپنی نا کردہ گناہی کی سزا ہو جیسے

اپنی نا کردہ گناہی کی سزا ہو جیسے ہم سے اس شہر میں ہر ایک خفا ہو جیسے سوچتے چہروں پہ جلتے ہوئے آثار حیات یک بہ یک وقت کا عرفان ہوا ہو جیسے یہ دھندلکے یہ در و بام کا گمبھیر سکوت چاندنی رات میں مہتاب لٹا ہو جیسے تجھ سے ملنے کی تمنا تری قربت کا خیال ریگ زاروں میں کوئی پھول کھلا ہو ...

مزید پڑھیے

میں نام لیوا ہوں تیرا تو معتبر کر دے

میں نام لیوا ہوں تیرا تو معتبر کر دے حیات خوب نہیں ہے تو مختصر کر دے حصار ذات کے زندان بے اماں کی خیر غبار راہ کی صورت ہی منتشر کر دے دروغ مصلحت‌ آمیز کے خرابے میں انا پسند مزاجوں کو در بدر کر دے گئے دنوں کو تلاشیں کہ اگلی رت میں کھلیں تو موسموں کو ہواؤں سے با خبر کر دے لباس ...

مزید پڑھیے

پیار کے بندھن رشتے دیکھو

پیار کے بندھن رشتے دیکھو ہاتھ میں کچے دھاگے دیکھو دیکھنا ہے غم میرا اگر ان کو مجھ پر ہنستے دیکھو انگلیاں چھوتے ہی جل جائیں پھول کے اندر شعلے دیکھو ہوتی ہے کیسے رسوائی ان کی گلی میں جا کے دیکھو چلے گی تیرے جسم کی ناؤ دریا کو ساحل سے دیکھو اب کیوں غرق ہے اشکوں میں کس نے کہا تھا ...

مزید پڑھیے

نادان ہوشیار بنے جن کے روپ سے

نادان ہوشیار بنے جن کے روپ سے وہ بھی جھلس گئے ہیں حوادث کی دھوپ سے ہم راہ اجنبی کے بہت دور تک گیا چہرہ تھا ملتا جلتا ذرا ان کے روپ سے کیسی ہوا یہ آئی گلستاں سے گرم گرم کیا پھول شعلے بن گئے ساون کی دھوپ سے کیا کیا نہ حادثے مرے دل پر گزر گئے لیکن شگفتگی نہ گئی رنگ روپ سے واجدؔ اسے ...

مزید پڑھیے

کواڑ بند بھی ہے اور نیم وا بھی ہے

کواڑ بند بھی ہے اور نیم وا بھی ہے وہ روپ انوپ ذرا خوش ذرا خفا بھی ہے شریک راہ وفا گل سرشت ماہ بہ کف قتیل گردش دوراں برہنہ پا بھی ہے حقیقتوں سے فسانوں کو کیا علاقہ ہے خدا نہیں بھی ہے لوگو مگر خدا بھی ہے ہجوم نغمہ و نکہت میں یوں تو ہوتا ہے خطا معاف خطا تو نہیں خطا بھی ہے وہی غزل کی ...

مزید پڑھیے

جہالت کا منظر جو راہوں میں تھا

جہالت کا منظر جو راہوں میں تھا وہی بیش و کم درس گاہوں میں تھا جو خنجر بکف قتل گاہوں میں تھا وہی وقت کے سربراہوں میں تھا عجب خامشی اس کے ہونٹوں پہ تھی عجب شور اس کی نگاہوں میں تھا اسے اس لئے مار ڈالا گیا کہ وہ زیست کے خیر خواہوں میں تھا ہماری نظر سے وہ کل گر گیا جو کل تک ہماری ...

مزید پڑھیے

زندگی دست تہہ سنگ رہی ہے برسوں

زندگی دست تہہ سنگ رہی ہے برسوں یہ زمیں ہم پہ بہت تنگ رہی ہے برسوں تم کو پانے کے لیے تم کو بھلانے کے لیے دل میں اور عقل میں اک جنگ رہی ہے برسوں اپنے ہونٹوں کی دہکتی ہوئی سرخی بھر دو داستاں عشق کی بے رنگ رہی ہے برسوں دل نے اک چشم زدن میں ہی کیا ہے وہ کام جس پہ دنیائے خرد دنگ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

وہ جو ویران پھرا کرتا ہے (ردیف .. ا)

وہ جو ویران پھرا کرتا ہے اس کے سر میں کوئی صحرا ہوگا تجھ سے دل تیرے پرستاروں کا ٹوٹتے ٹوٹتے ٹوٹا ہوگا جھک کے جو آپ سے ملتا ہوگا اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا وہ جو مرنے پہ تلا ہے اخترؔ اس نے جی کر بھی تو دیکھا ہوگا

مزید پڑھیے
صفحہ 370 سے 6203