یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت
یوں تو تنہائی میں گھبرائے بہت مل کے لوگوں سے بھی پچھتائے بہت ایسے لمحے زیست میں آئے بہت ہم نے دھوکے جان کر کھائے بہت یہ نہیں معلوم کہ کیا بات تھی رو رہے تھے میرے ہمسائے بہت تم ہی بتلا دو کہ کوئی کیا کرے زندگی جب بوجھ بن جائے بہت ہم فراز دار تک تنہا گئے دو قدم تک لوگ ساتھ آئے ...