قومی زبان

بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم

بہت دن سے کوئی منظر بنانا چاہتے ہیں ہم کہ جو کچھ کہہ نہیں سکتے دکھانا چاہتے ہیں ہم ہمارے شہر میں اب ہر طرف وحشت برستی ہے سو اب جنگل میں اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں ہم ہمیں انجام بھی معلوم ہے لیکن نہ جانے کیوں چراغوں کو ہواؤں سے بچانا چاہتے ہیں ہم نہ جانے کیوں گلے میں چیخ بن جاتی ...

مزید پڑھیے

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح

جن کی یادیں ہیں ابھی دل میں نشانی کی طرح وہ ہمیں بھول گئے ایک کہانی کی طرح دوستو ڈھونڈ کے ہم سا کوئی پیاسا لاؤ ہم تو آنسو بھی جو پیتے ہیں تو پانی کی طرح غم کو سینے میں چھپائے ہوئے رکھنا یارو غم مہکتے ہیں بہت رات کی رانی کی طرح تم ہمارے تھے تمہیں یاد نہیں ہے شاید دن گزرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

دن بھر غموں کی دھوپ میں چلنا پڑا مجھے

دن بھر غموں کی دھوپ میں چلنا پڑا مجھے راتوں کو شمع بن کے پگھلنا پڑا مجھے ٹھہری ہی تھی نگاہ کہ منظر بدل گیا رکنا پڑا مجھے کبھی چلنا پڑا مجھے ہر ہر قدم پہ جاننے والوں کی بھیڑ تھی ہر ہر قدم پہ بھیس بدلنا پڑا مجھے رنگوں کے انتخاب سے اکتا کے ایک دن رنگوں کے دائرے سے نکلنا پڑا ...

مزید پڑھیے

آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے

آج تک جو بھی ہوا اس کو بھلا دینا ہے آج سے طے ہے کہ دشمن کو دعا دینا ہے آ مرے یار پھر اک بار گلے سے لگ جا پھر کبھی دیکھیں گے کیا لینا ہے کیا دینا ہے آج تک ہم نے بہت ظلم کیے ہیں خود پر عہد کرتے ہیں کہ اب خود کو سزا دینا ہے جسم پر جان کا جو قرض چلا آتا ہے اب کے فصل آئی تو وہ قرض چکا دینا ...

مزید پڑھیے

یوں تو ہنستے ہوئے لڑکوں کو بھی غم ہوتا ہے

یوں تو ہنستے ہوئے لڑکوں کو بھی غم ہوتا ہے کچی عمروں میں مگر تجربہ کم ہوتا ہے سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیں اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے اس طرح روز ہم اک خط اسے لکھ دیتے ہیں کہ نہ کاغذ نہ سیاہی نہ قلم ہوتا ہے ایک ایک لفظ تمہارا تمہیں معلوم نہیں وقت کے کھردرے کاغذ پر ...

مزید پڑھیے

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں ہائے موسم کی طرح دوست بدل جاتے ہیں ہم ابھی تک ہیں گرفتار محبت یارو ٹھوکریں کھا کے سنا تھا کہ سنبھل جاتے ہیں وہ کبھی اپنی جفا پر نہ ہوا شرمندہ ہم سمجھتے رہے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں عمر بھر جن کی وفاؤں پہ بھروسہ کیجے وقت پڑنے پہ وہی لوگ بدل ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بچھڑ کے یوں تو بہت جی اداس ہے

تجھ سے بچھڑ کے یوں تو بہت جی اداس ہے لیکن یہ لگ رہا ہے کہ تو میرے پاس ہے دریا دکھائی دیتا ہے ہر ایک ریگ زار شاید کہ ان دنوں مجھے شدت کی پیاس ہے حیرت سے سب کو تکتے ہیں پتھر بنے ہوئے جادوگروں کے شہر میں اپنا نواس ہے تم کو سنا رہا ہے لطیفے جو رات دن وہ آدمی تو تم سے زیادہ اداس ...

مزید پڑھیے

وہ صورتیں جو بڑی شوخ ہیں سجیلی ہیں

وہ صورتیں جو بڑی شوخ ہیں سجیلی ہیں انہیں قریب سے دیکھا تو وہ بھی پیلی ہیں میں ایک جھیل کے تٹ پر اداس بیٹھا ہوا یہ سوچتا ہوں وہ آنکھیں بھی کتنی نیلی ہیں مری محبتیں میری وفائیں میرا خلوص تری کلائی میں یہ چوڑیاں بھی ڈھیلی ہیں میں دلدلوں کے علاقے میں آ گیا شاید کہ دھوپ تیز ہے لیکن ...

مزید پڑھیے

سنو یہ غم کی سیہ رات جانے والی ہے

سنو یہ غم کی سیہ رات جانے والی ہے ابھی اذان کی آواز آنے والی ہے تجھے یقین تو شاید نہ آئے گا لیکن یہ صبح کوئی کرشمہ دکھانے والی ہے کسے خبر ہے کہ آندھی چلائے پیڑ گرائے یہی ہوا جو پتنگیں اڑانے والی ہے سمیٹ بکھرے ہوئے کاغذات کو اپنے کوئی صدا تجھے واپس بلانے والی ہے تجھے بھی ظلم سے ...

مزید پڑھیے

کیا ہجر میں جی نڈھال کرنا

کیا ہجر میں جی نڈھال کرنا کچھ ذکر شب وصال کرنا جو کچھ بھی گزر رہی ہے سہہ لو کچھ اس سے نہ عرض حال کرنا غم اس کے عطا کئے ہوئے ہیں غم کا نہ کبھی ملال کرنا میں تم سے بچھڑ کے جی سکوں گا ایسا نہ کبھی خیال کرنا جس طرح جیے ہیں ہم جہاں میں پیش ایسی کوئی مثال کرنا میں جس کا جواب نہ دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 368 سے 6203