قومی زبان

دن رات راہ عشق میں بے سود آہ کر

دن رات راہ عشق میں بے سود آہ کر ہے حسن کا تقاضا کہ خود کو تباہ کر دنیا کو اپنے درد کی کچھ بھی نہیں قدر اب اس دیار رنج سے سامان راہ کر قابل ہوں داد کے یہ ضروری بھی تو نہیں ہو ان سے خوش زمانہ تو تو واہ واہ کر یکسر جو دل لگایا تو دل کی قدر گئی یہ گاہ پاس رکھ لے نظر ان کی گاہ کر تھک سا ...

مزید پڑھیے

تری میری بات اکثر جو خموشیوں میں ہو گم

تری میری بات اکثر جو خموشیوں میں ہو گم یہ سکوت ہے کہیں پر کبھی بے زبان ہو تم کوئی لا زوال رستوں کی لڑی سی زندگی ہے کوئی راستہ ملے ہے کوئی راستہ جو ہو گم کیا کہوں کہ بے زباں ہوں پہ کھلی کتاب ہوں میں مجھے پڑھ سکو تو پڑھ لو جو کبھی مجھے پڑھو تم یہ اکیلی بات سیکھی ہے ہزاروں محفلوں ...

مزید پڑھیے

ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھی

ترک الفت میں بھی اس نے یہ روایت رکھی روز ملنے کی پرانی وہی عادت رکھی تو گیا ہے تو پلٹ کر نہیں پوچھا میں نے ورنہ برسوں تری یادوں کی امانت رکھی کل اچانک کوئی تصویر بنی کاغذ پر مدتوں سب سے چھپا کر تیری صورت رکھی وہ مقدر میں نہیں ہے تو اسی کے دل میں کس نے ہر شے سے زیادہ چاہت ...

مزید پڑھیے

میں پہلے دل کے لئے حوصلہ بناتا ہوں

میں پہلے دل کے لئے حوصلہ بناتا ہوں پھر اس کے بعد کوئی آسرا بناتا ہوں میں بے مراد نظر آ رہا ہوں لوگوں کو میں دوسروں کے لئے راستہ بناتا ہوں میں مانتا بھی نہیں کوئی کارساز بھی ہے مگر زمیں پہ بہت سے خدا بناتا ہوں اگر حجاب نہ ہوتا تو سب سے کہہ دیتا میں کیسے ہجر کو لذت فزا بناتا ...

مزید پڑھیے

لبوں سے آشنائی دے رہا ہے

لبوں سے آشنائی دے رہا ہے وہ لذت انتہائی دے رہا ہے محبت بھی ہوئی کار مشقت بدن تھک کر دہائی دے رہا ہے چراتا ہے بدن مجھ سے نگاہیں مجھے دل بھی صفائی دے رہا ہے کوئی بھر دے گا اپنی قربتوں سے کوئی زخم جدائی دے رہا ہے کوئی تو ہے جو اتنی سردیوں میں بدن جیسی رضائی دے رہا ہے کوئی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

موجود تھے وہ میرے ہی اندر کھلے ہوئے

موجود تھے وہ میرے ہی اندر کھلے ہوئے مجھ پر دعا کے بعد کھلے در کھلے ہوئے آنکھوں نے کر دیا اسے رخصت مگر ابھی رکھے ہوئے ہیں دل نے سبھی در کھلے ہوئے کچھ تو کھلے کہ گزری ہے کیا اہل دشت پر آئے ہیں لوگ شہر میں کیوں سر کھلے ہوئے اک خوف ہے کہ جس نے اڑائی ہے میری نیند دیکھے ہیں میں نے خواب ...

مزید پڑھیے

مذاق کاوش پنہاں اب اتنا عام کیا ہوگا

مذاق کاوش پنہاں اب اتنا عام کیا ہوگا زباں پر ہم صفیروں کی مرا پیغام کیا ہوگا کہے دیتا ہے خود آغاز ہی انجام کیا ہوگا تری آتش بیانی سے چراغ شام کیا ہوگا نہ گھبرا باغباں بلبل کی رسمی نوحہ خوانی سے بھلا ان چند تنکوں کا نشیمن نام کیا ہوگا فدائے کسمپرسی ہوں نثار تلخ کامی ہوں مرے عزم ...

مزید پڑھیے

نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوں

نگاہ بد گماں ہے اور میں ہوں فریب آشیاں ہے اور میں ہوں شریک‌ بے کسی آئے کہاں سے زمیں پر آسماں ہے اور میں ہوں ادھر کیا گھورتی ہے کسمپرسی مرا عزم جواں ہے اور میں ہوں سراپا گوش ہے صبح شب تار کسی کی داستاں ہے اور میں ہوں گھٹا جاتا ہے دم اے سوز احساس تہہ دامن دھواں ہے اور میں ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی چھاؤں میں جو تھا اپنا آشیانہ

خوابوں کی چھاؤں میں جو تھا اپنا آشیانہ سورج جلا چکا ہے خوابوں کا شامیانہ پھیلاؤ جو تھا اس کا اسرار آسماں تک سمٹا کہیں کہیں پر بن راز دائمانہ اڑتی ہوئی نظر کو ظلمت نے آ کے بھیدا بے چوک کس قدر تھا صیاد کا نشانہ ان تلخ حقیقتوں سے نا آگہی ہے بہتر مدہوشیوں میں جینا بے خود و بے ...

مزید پڑھیے

کیا غضب ہے یہ بلبل اک قہر سا ڈھاتے ہیں

کیا غضب ہے یہ بلبل اک قہر سا ڈھاتے ہیں ہجر میں وصالوں کے گیت گنگناتے ہیں ہم نے تیرے بسنے کو دل محل بنایا تھا اب ویران گھر کے دیوار و در کو ڈھاتے ہیں بادباں ہمارا جو آندھیوں میں کھلتا ہے ناخدا سفینے میں غرق خود کو پاتے ہیں اب کہاں سے دلبر کا میرے دل پہ جلوہ ہو آئینہ یہ دھندلا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 331 سے 6203