قومی زبان

خواب تعبیر میں بدلتا ہے

خواب تعبیر میں بدلتا ہے اس میں لیکن زمانہ لگتا ہے جب اسے چاہتیں میسر ہوں خود بخود آدمی بدلتا ہے پہلے یہ دل کہاں دھڑکتا تھا اب ہر اک بات پر دھڑکتا ہے ہاں مری خواہشیں زیادہ ہیں ہاں وہ اس بات کو سمجھتا ہے سر بسر وصل کی تمنا میں وہ بدن روح میں اترتا ہے رات بھی بن سنور کے آتی ہے دن ...

مزید پڑھیے

چاہ تھی مہر تھی محبت تھی

چاہ تھی مہر تھی محبت تھی اس کی ہر بات ہی قیامت تھی وصل تھا قرب تھا قرابت تھی دل کو پھر بھی عجیب وحشت تھی اب تو ہم سوچ کر بھی ہنستے ہیں اول عشق کیسی حالت تھی میں بہت خوش رہا ہوں اس کے بغیر اس کو اس بات پر بھی حیرت تھی بس اسے چومتے ہی چھوڑ دیا پتھروں سے مجھے تو وحشت تھی میں تو کچھ ...

مزید پڑھیے

وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سے

وہ جو ایک چہرہ دمک رہا ہے جمال سے اسے مل رہی ہے خوشی کسی کے خیال سے میں نے صرف ایک ہی دائرے میں سفر کیا کبھی بے نیاز بھی کر مجھے مہ و سال سے کبھی ہنس کے خود ہی گلے سے اس کو لگا لیا کبھی رو دیے ہیں لپٹ کے خود ہی ملال سے تجھے کیا خبر کہ وہ کون ہے سر رہ گزر کبھی سرسری نہ گزر کسی کے سوال ...

مزید پڑھیے

روتا ہوا وہ بام مجھے یاد ہے ابھی

روتا ہوا وہ بام مجھے یاد ہے ابھی دل میں بکھرتی شام مجھے یاد ہے ابھی پھر کیسے ہو گیا ہے وہی شخص اتنا خاص سمجھے تھے جس کو عام مجھے یاد ہے ابھی ہم اور ساتھ ساتھ کبھی اس طرح ملیں جیسے خیال خام مجھے یاد ہے ابھی وہ گفتگو نگاہوں نگاہوں میں یاد ہے سرگوشی میں سلام مجھے یاد ہے ابھی کیسے ...

مزید پڑھیے

بے مہر تعلق تھا جدا ہونا تھا اک دن

بے مہر تعلق تھا جدا ہونا تھا اک دن جو کچھ بھی مرے ساتھ ہوا ہونا تھا اک دن کچھ ہم ہی فریبوں میں گرفتار رہے تھے اس نے تو بہرحال جدا ہونا تھا اک دن اب اتنا بھی سنگین مرا جرم نہیں تھا اس قید سے آخر تو رہا ہونا تھا اک دن یوں ہی تو کبھی حرف شکایت نہیں نکلا اس درد نے آخر تو دوا ہونا تھا ...

مزید پڑھیے

ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہے

ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہے اس غم کی کبھی ہم نے اشاعت نہیں کی ہے جب وصل ہوا اس سے تو سرشار ہوئے ہیں اور ہجر کے موسم نے رعایت نہیں کی ہے جو تو نے دیا اس میں اضافہ ہی ہوا ہے اس درد کی دولت میں خیانت نہیں کی ہے ہم نے بھی ابھی کھول کے رکھا نہیں دل کو تو نے بھی کبھی کھل کے وضاحت ...

مزید پڑھیے

کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہے

کمال شوق سفر بھی ادھر ہی جاتا ہے کسی سفر کا مسافر ہو گھر ہی جاتا ہے وہ آدمی ہی تو ہوتا ہے غم کی شدت سے ہزار کوششیں کر لے بکھر ہی جاتا ہے وہ ہجر ہو کہ ترے وصل کا کوئی لمحہ وہ مستقل نہیں ہوتا گزر ہی جاتا ہے جو اس سے پہلے بھی شیشے میں بال آیا ہو تو دل کسی نئی الفت سے ڈر ہی جاتا ...

مزید پڑھیے

پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائی

پڑھ چکے ہیں نصاب تنہائی اب لکھیں گے کتاب تنہائی وصل کی شب تمام ہوتے ہی آ گیا آفتاب تنہائی خامشی وحشتیں اداسی ہے کھل رہے ہیں گلاب تنہائی اس کی یادوں کے گھر میں جاتے ہی کھل گیا ہم پہ باب تنہائی وصل کی شب تمہارے پہلو میں لے رہا ہوں ثواب تنہائی کس کو بتلائیں کون سمجھے گا کیسے ...

مزید پڑھیے

وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھا

وصل بھی ہجر تھا وصال نہ تھا مل رہے تھے مگر خیال نہ تھا مل رہے تھے کہ دونوں تنہا تھے گفتگو میں بھی قیل و قال نہ تھا میرے اور اس کے درمیان ابھی کوئی بھی سلسلہ بحال نہ تھا راستے ختم ہو چکے تھے مگر واپسی کا کوئی سوال نہ تھا یہ بھی اک مرحلہ تمام ہوا ہو گئے تھے جدا ملال نہ تھا وہ ترا ...

مزید پڑھیے

اسرار کیسے کھول دوں اس آب و گل کے میں

اسرار کیسے کھول دوں اس آب و گل کے میں مہکا ہوا ہوں رات کی رانی سے مل کے میں کیا جانئے کہ کیسے پتا چل گیا اسے کہتا نہیں کسی سے بھی احوال دل کے میں خاک شفا کہیں کی بھی آئی نہیں ہے راس اب آسمان پر کہیں دیکھوں گا کھل کے میں اب بھی وہی ہے پیاس کی شدت وہی ہوں میں پانی تو پہلے بھی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 330 سے 6203