زباں جب دل جلاتی ہے میں اس سے خار کھاتا ہوں
زباں جب دل جلاتی ہے میں اس سے خار کھاتا ہوں وہ اکثر جیت جاتی ہے میں اکثر ہار جاتا ہوں اگر چاہوں گل و بلبل کے جذبے کھینچ کر رکھ دوں مگر اپنی کمائی کا گدا سچ ہی دکھاتا ہوں زباں کی مار کھائی ہے جو میں نے یارو مادر کی شکستہ ہو کہ ان ٹکڑوں کو اب تم پر لٹاتا ہوں ادیبوں نے مجھے جھاڑا تو ...