قومی زبان

زباں جب دل جلاتی ہے میں اس سے خار کھاتا ہوں

زباں جب دل جلاتی ہے میں اس سے خار کھاتا ہوں وہ اکثر جیت جاتی ہے میں اکثر ہار جاتا ہوں اگر چاہوں گل و بلبل کے جذبے کھینچ کر رکھ دوں مگر اپنی کمائی کا گدا سچ ہی دکھاتا ہوں زباں کی مار کھائی ہے جو میں نے یارو مادر کی شکستہ ہو کہ ان ٹکڑوں کو اب تم پر لٹاتا ہوں ادیبوں نے مجھے جھاڑا تو ...

مزید پڑھیے

صبر خود اکتا گیا اچھا ہوا

صبر خود اکتا گیا اچھا ہوا کچھ تو بوجھ احساس کا ہلکا ہوا وہ غرور ہوشمندی کیا ہوا جو قدم پڑتا ہے وہ بہکا ہوا چھیڑ بیٹھا وقت اپنی راگنی ساز پر جب آپ کا قبضہ ہوا تک رہا ہے خود انہی کی انجمن فتنہ فتنہ ان کا چونکایا ہوا روپ بدلا ہے سحر کا رات نے دیکھنے والو تمہیں دھوکا ہوا کر رہے ہو ...

مزید پڑھیے

شوق کی کم نگہی بھی ہے گوارا مجھ کو

شوق کی کم نگہی بھی ہے گوارا مجھ کو غم تو غم آج خوشی بھی ہے گوارا مجھ کو جستجو ساتھ ہے شمع رہ منزل بن کر اپنی بے راہروی بھی ہے گوارا مجھ کو لذت‌ زیست بہ ہر طور سبھی کو ہے عزیز زہر مینائے خودی بھی ہے گوارا مجھ کو سوزن رحم و کرم کرتی ہے کیوں سعئ رفو چاک دامان تہی بھی ہے گوارا مجھ ...

مزید پڑھیے

وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیں

وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیں ہم موت کے منہ میں ہیں نشیمن میں نہیں ہیں یہ جشن طرب اور یہ بے رنگیٔ محفل دو پھول بھی کیا وقت کے دامن میں نہیں ہیں چھپ چھپ کے کسے برق ہوس ڈھونڈھ رہی ہے گنتی کے وہ خوشے بھی تو خرمن میں نہیں ہیں امروز کے دکھتے ہوئے دل کی میں صدا ہوں دیروز کے ...

مزید پڑھیے

تضاد اچھا نہیں طرز بیاں کا ہم زبانوں میں

تضاد اچھا نہیں طرز بیاں کا ہم زبانوں میں حقیقت کو چھپاتا جا رہا ہوں داستانوں میں سبھی تو آج برگشتہ ہیں عظمت سوز پستی سے مچا رکھی ہے اک ہلچل زمیں نے آسمانوں میں سمجھتا ہوں میں بے مفہوم سی آواز شکوے کو مصیبت خود مدد کرتی ہے آ کر امتحانوں میں مرا آئینۂ احساس حیراں ہو نہیں ...

مزید پڑھیے

خوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہا

خوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہا طوفاں کی زد سے دور کنارا نہیں رہا بڑھ بڑھ کے ڈھونڈھتے ہیں پناہیں نئی نئی فتنوں کو تیرگی کا سہارا نہیں رہا بیتا بیاں بہائے تمنا بڑھا گئیں نقد سکوں گنوا کے خسارا نہیں رہا باقی تھا جس کے دم سے بھرم احتیاج کا ہمت کو وہ کرم بھی گوارا نہیں ...

مزید پڑھیے

امنگوں میں وہی جوش تمنا زاد باقی ہے

امنگوں میں وہی جوش تمنا زاد باقی ہے ابھی دل میں خدا رکھے کسی کی یاد باقی ہے سر منزل فریب رہنما کا توڑ مشکل تھا غنیمت ہے کہ شوق مرحلہ ایجاد باقی ہے ہنسی آتی ہے تیرے اس غرور دام داری پر کوئی پھندا بھی ثابت آج اے صیاد باقی ہے سحر نے آ کے چہرہ وقت کا دھویا تو کیا دھویا فضاؤں پر غبار ...

مزید پڑھیے

زباں کچھ اور کہتی ہے نظر کچھ اور کہتی ہے

زباں کچھ اور کہتی ہے نظر کچھ اور کہتی ہے بظاہر یہ توجہ چارہ گر کچھ اور کہتی ہے زمانہ نغمہ پیرائی کا جب آئے گا آئے گا ابھی تو شدت سوز جگر کچھ اور کہتی ہے بھلا آپ اور اخفائے حقیقت اے معاذ اللہ زبان خلق جھوٹی ہے اگر کچھ اور کہتی ہے کوئی کس طرح دھوکا کھائے اس آتش بیانی کا اداسی تیری ...

مزید پڑھیے

میں چاہوں بھی تو ضبط گفتگو میں لا نہیں سکتا

میں چاہوں بھی تو ضبط گفتگو میں لا نہیں سکتا سمجھنے پر بھی دل کا مدعا سمجھا نہیں سکتا بھلا ایسی تہی داماں تمناؤں سے کیا حاصل بہلنے پر دل آمادہ ہے اور بہلا نہیں سکتا خدا محفوظ رکھے خوف آسیب اسیری سے میں گلشن میں بھی آزادی کا نغمہ گا نہیں سکتا رگ گل سے بھی نازک تر ہیں تنکے آشیانے ...

مزید پڑھیے

طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیا

طوفاں کی زد پہ اپنا سفینہ جب آ گیا ساحل کو موج موج کو ساحل بنا گیا منہ تکتے تکتے تھک گئیں حرماں نصیبیاں ہر انقلاب شوق کی ہمت بڑھا گیا ذوق نظر کی جرأت بے باک الاماں رنگ حیات بن کے فضاؤں پہ چھا گیا تھرا کے شمع انجمن عیش بجھ گئی نیرنگ‌ نور صبح و منظر دکھا گیا عجز رہ نیاز کے قربان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 332 سے 6203