قومی زبان

بات بے شک نہ کریں آپ ادھر دیکھیں تو

بات بے شک نہ کریں آپ ادھر دیکھیں تو لوگ کس حال میں ہیں ایک نظر دیکھیں تو خیر ہونا تو وہی ہے جو خدا چاہے گا پھر بھی کر سکتے ہیں ہم لوگ جو کر دیکھیں تو تم نے دیکھا ہے وہی خواب جو میں نے دیکھا اس کو کہتے ہیں محبت کا اثر دیکھیں تو آپ عشرت کدۂ غیر کی راکھی کر کے آئیں اور آ کے کبھی اپنا ...

مزید پڑھیے

نام بھی اچھا سا تھا چہرہ بھی تھا مہتاب سا

نام بھی اچھا سا تھا چہرہ بھی تھا مہتاب سا ہاں ہمیں کچھ یاد ہوتا ہے مگر کچھ خواب سا یہ مرے سینے میں دل رکھا ہے یا کوئی چکور چاندنی راتوں میں کیوں رہتا ہوں میں بیتاب سا ہو گیا کس ذکر سے یہ مرتعش سارا وجود تار ساز دل پہ آخر کیا لگا مضراب سا کچھ کتابیں اور قلم کاغذ کے کچھ پرزوں پہ ...

مزید پڑھیے

گمرہی میں نئے رابطے مل گئے

گمرہی میں نئے رابطے مل گئے راہ بھٹکے ہوئے قافلے مل گئے میری تنہا روی کا بھرم مٹ گیا ہم سفر راستوں میں نئے مل گئے جانے والے اسی موڑ پر ایک دن پھر ملیں گے اگر راستے مل گئے میں ترے اور نزدیک آ جاؤں گا قربتوں میں اگر فاصلے مل گئے تیری تصویر البم سے گم تھی مگر خط کئی تیرے لکھے ہوئے ...

مزید پڑھیے

جنون شوق کی دار و رسن کی بات چلی

جنون شوق کی دار و رسن کی بات چلی ہمارے بعد ہمارے چلن کی بات چلی غم حیات نے سب کچھ بھلا دیا تھا مگر تڑپ اٹھے جو تری انجمن کی بات چلی بیان موسم گل داستان رقص بہار بہ طرز نو اسی گل پیرہن کی بات چلی فضائے صبح گلستاں سے شام زنداں تک خلوص ہم نفسان وطن کی بات چلی شعاع درد سے جب سنگ بے ...

مزید پڑھیے

گلاب چہرہ پہ شب کا اعجاز بولتا ہے

گلاب چہرہ پہ شب کا اعجاز بولتا ہے وہ چپ ہے لیکن نظر کا انداز بولتا ہے میں جیسے خوشبو کی بارشوں میں نہا رہا ہوں ہوا کے ہونٹوں سے کوئی گلباز بولتا ہے مجھی میں روشن چراغ نغمہ مگر ابھی تک مجھے گماں ہے کہ پردۂ ساز بولتا ہے پکارتی ہے کوئی صدا مجھ کو دشت جاں سے یہ تو ہے یا میرا وہم ...

مزید پڑھیے

ہوا کی جلتی ہوئی ردا کو سحاب کر دے

ہوا کی جلتی ہوئی ردا کو سحاب کر دے سلگتی راتوں کی ساعتوں کو گلاب کر دے میں پیاس بن کر سمندروں کو پکار آیا جزا دے یا میری تشنگی کا حساب کر دے سراب و صحرا حباب و دریا مری کہانی ورق ورق نوچ کر مجھے بے کتاب کر دے لہو کی بارش زمین سے پیار کا صلہ ہے تو کاٹ دے میرا سر مجھے آفتاب کر ...

مزید پڑھیے

چھٹا غبار تو آنکھوں میں بھر گیا پانی

چھٹا غبار تو آنکھوں میں بھر گیا پانی ذرا سی دیر میں سر سے گزر گیا پانی نہ تھا خیال کہ چھت بھی ہے آسماں جیسی تڑپ رہے تھے کہ جانے کدھر گیا پانی لبوں پہ حرف دعا راکھ ہو گیا لیکن دلوں میں زخم کی صورت اتر گیا پانی اک اعتبار سی دیوار آب ہے ہر سو مرے وجود کو زنجیر کر گیا پانی وہ بھیگا ...

مزید پڑھیے

ساون آیا تم نہ آئے دن بیتے

ساون آیا تم نہ آئے دن بیتے ہم نے نینوں دیپ جلائے دن بیتے اموا کی چھاؤں میں بیٹھے یگ بیتا تم کو دل کی بات سنائے دن بیتے بادل پنچھی اور پردیس ہے ایک سمان ندیا تو کیوں نیر بہائے دن بیتے جانے کب سورج نکلا کب رین ہوئی ہم تو کچھ بھی جان نہ پائے دن بیتے ہونٹوں پر مسکان مگر دل میں ...

مزید پڑھیے

لکھ رہا ہے ہمارے چہروں پر

لکھ رہا ہے ہمارے چہروں پر روز اک خواب وقت کا خنجر وہ کہیں اور سو گیا جا کر رات بھر جاگتا رہا بستر تیز آندھی سے اور کچھ نہ ہوا لے گئی مجھ غریب کا چھپر دیکھ کر اس کو جھیل کی مانند پھینکنا ہی پڑا ہے مجھے کنکر گھر کی تعریف میں نہیں آتا پھر بھی کہنے کو ہے یہ میرا گھر اس نے پھینکا نہ ...

مزید پڑھیے

لفظ گونگے ہو گئے لہجے کی عیاری کے بعد

لفظ گونگے ہو گئے لہجے کی عیاری کے بعد وہ برہنہ ہو گیا اتنی اداکاری کے بعد چند بوسیدہ کتابیں کرم خوردہ کچھ ورق یہ صلہ بھی کم نہیں اک جرم فن کاری کے بعد رات کے منظر کھلی آنکھوں میں پتھر ہو گئے خواب میں جاگے ہوئے لگتے ہیں بیداری کے بعد آنسوؤں کو قہقہوں کا روپ دے جاتا ہے وہ اس طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2497 سے 6203