خوشبو کا جسم نور کا پیکر بدل گیا
خوشبو کا جسم نور کا پیکر بدل گیا شبنم کی سرد آگ سے پتھر پگھل گیا تتلی کے پیچھے دوڑتے بچے کو کیا ملا ہاتھوں میں رنگ رہ گیا پاؤں پھسل گیا آنچل میں دھوپ زلف میں شعلوں کی آنچ ہے جائیں کہاں کہ پیار کا موسم بدل گیا ماضی کی خانقاہ سے باہر تو دیکھیے خوابوں کی رت چلی گئی سکہ بدل ...