قومی زبان

جب ذرا ہوئی آہٹ شاخ پر ہلے پتے

جب ذرا ہوئی آہٹ شاخ پر ہلے پتے پیڑ سو گئے لیکن جاگتے رہے پتے سیکڑوں پرندوں نے اوڑھ لی ردا جیسے رات کی سیاہی میں اوٹ بن گئے پتے سرخ خون شاخوں کا ہے وجود میں شامل دیکھ کر فضا لیکن سبز ہو گئے پتے جیسے ان کے دامن پر دھول تھی نہ دھبہ تھا اک ذرا سی بارش سے کیسے دھل گئے پتے جب بھی لو ...

مزید پڑھیے

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح جسم سلگا ہے تری یاد میں ایندھن کی طرح لوریاں دی ہیں کسی قرب کی خواہش نے مجھے کچھ جوانی کے بھی دن گزرے ہیں بچپن کی طرح اس بلندی سے مجھے تو نے نوازا کیوں تھا گر کے میں ٹوٹ گیا کانچ کے برتن کی طرح مجھ سے ملتے ہوئے یہ بات تو سوچی ہوتی میں ترے دل میں ...

مزید پڑھیے

موج در موج نظر آتا تھا سیلاب مجھے

موج در موج نظر آتا تھا سیلاب مجھے پاؤں ڈالا تو یہ دریا ملا پایاب مجھے بت تو دنیا نے بہ ہر گام تراشے لیکن سر جھکانے کے نہ آئے کبھی آداب مجھے شدت کرب سے کمھلا گئے چہرے کے خطوط اب نہ پہچان سکیں گے مرے احباب مجھے ایک سایہ کہ مجھے چین سے سونے بھی نہ دے ایک آواز کہ کرتی رہے بیتاب ...

مزید پڑھیے

گلشن گلشن خاک اڑی اور ویرانوں میں پھول کھلے

گلشن گلشن خاک اڑی اور ویرانوں میں پھول کھلے اب کے برس یوں موسم بدلا زندانوں میں پھول کھلے خوشبو رت نے جاتے جاتے دل پر ایسی دستک دی بھولی بسری یادیں جاگیں گل دانوں میں پھول کھلے جوئے لہو آنکھوں سے پھوٹی کشت وفا سیراب ہوئی خون گلو جب دشت پہ چمکا افسانوں میں پھول کھلے ڈوب سکو تو ...

مزید پڑھیے

دیکھتے کیا دید کے قابل کوئی منظر نہ تھا

دیکھتے کیا دید کے قابل کوئی منظر نہ تھا پاؤں دھرتی پر نہ تھے اور آسماں سر پر نہ تھا خود ہمیں کو خودکشی کا شوق تھا چارہ گرو دوستوں کی آستینوں میں کوئی خنجر نہ تھا ہر پڑاؤ ایک شب کے واسطے منزل بنا جس کی خاطر در بدر بھٹکے ہمارا گھر نہ تھا قرض مٹی کا تھا مٹی کے حوالے کر دیا وہ جو ہم ...

مزید پڑھیے

نہ جانے کس نے پلٹ کر یہ دی صدا مجھ کو

نہ جانے کس نے پلٹ کر یہ دی صدا مجھ کو سجھائی دیتا نہیں آگے راستہ مجھ کو میں اس کے بارے میں سوچوں غرض نہیں لیکن وہ دیکھنے میں تو اچھا بھلا لگا مجھ کو ستم کی ناگ پھنی ڈس رہی تھی تنہائی ترے بغیر اکیلے میں ڈر لگا مجھ کو اسی کے لمس کی خوشبو بسی ہے سانسوں میں اے کاش وہ بھی تو اپنے میں ...

مزید پڑھیے

اندھیرا رات کا اس وقت بوڑھا ہونے والا ہے

اندھیرا رات کا اس وقت بوڑھا ہونے والا ہے دریچے کھول کر دیکھو سویرا ہونے والا ہے بکھیرا ہے فلک نے زعفرانی رنگ دھرتی پر درختوں کا ہر اک پتا سنہرا ہونے والا ہے وہ اپنی دسترس سے اب مجھے آزاد کر دے گا امیر شہر کے ہاتھوں اجالا ہونے والا ہے حویلی کا ہر اک گوشہ گلابوں سے مہکتا ہے کسی ...

مزید پڑھیے

ذرا سی بات پہ ناراضگی اگر ہے یہی

ذرا سی بات پہ ناراضگی اگر ہے یہی تو پھر نبھے گی کہاں دوستی اگر ہے یہی تمہیں دعا بھی ہم آسودگی کی کیسے دیں جو ہم نے دیکھی ہے آسودگی اگر ہے یہی ہمیں بکھرنا تو ہے کل نہیں تو آج سہی ہمارا کیا ہے تمہاری خوشی اگر ہے یہی ابھی نہ جانے ہمیں کتنے دوست کھونے پڑیں ہماری باتوں میں بے ساختگی ...

مزید پڑھیے

اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے

اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے گر حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے ایسے ہی اگر مونس و غم خوار ہو میرے یارو مجھے مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے اب شدت غم سے مرا دم گھٹنے لگا ہے تم ریشمی زلفوں کی ہوا کیوں نہیں دیتے فردا کے دھندلکوں میں مجھے ڈھونڈنے والو ماضی کے دریچوں سے صدا ...

مزید پڑھیے

ہمارے قول و عمل میں تضاد کتنا ہے

ہمارے قول و عمل میں تضاد کتنا ہے مگر یہ دل ہے کہ خوش اعتقاد کتنا ہے کہ جیسے رنگ ہی لے آئے گا لہو اپنا وفا پہ اپنی ہمیں اعتماد کتنا ہے یہ جانتا ہے کہ وعدہ شکن ہے وہ پھر بھی دل اس کے وعدۂ فردا پہ شاد کتنا ہے وہ جس نے مجھ کو فراموش کر دیا یکسر وہ شخص مجھ کو مگر اب بھی یاد کتنا ہے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2496 سے 6203