قومی زبان

سلسلہ رکھتا ہے دل سے اس طرح پیہم کوئی

سلسلہ رکھتا ہے دل سے اس طرح پیہم کوئی میری آنکھوں میں سجاتا ہے نئے موسم کوئی وہ مخاطب اس طرح ہوتا ہے مجھ سے خواب میں صبح دم جیسے بکھیرے پھول پر شبنم کوئی دل کی منزل دوسری ہے ذہن کے رستے الگ اس لئے ہوتا نہیں ہے فیصلہ باہم کوئی دل کی بربادی پہ اکثر نوحہ خواں رہتی ہے رات روز کرتا ...

مزید پڑھیے

جس نے باندھے ہیں سارے پر میرے

جس نے باندھے ہیں سارے پر میرے اس کے ہی گرد ہیں سفر میرے ایک خواہش نے کتنا توڑ دیا کھو گئے مجھ سے سب ہنر میرے غم یہ جاتے نہیں کسی جانب ہو گئے ہیں کچھ اس قدر میرے غیر محسوس بیڑیاں ہیں کئی یوں بندھے تجھ سے سب سفر میرے یوں تو کتنی دعائیں تھیں لیکن بے ثمر ہی رہے شجر میرے دے کے ...

مزید پڑھیے

ستم کی بات جہاں حرف معتبر ٹھہرے

ستم کی بات جہاں حرف معتبر ٹھہرے نوائے درد وہاں کیوں نہ بے اثر ٹھہرے ہزار حیف کہ جو آگہی کے دشمن تھے ہمارے شہر میں وہ لوگ دیدہ ور ٹھہرے تمام عمر ستاتا رہا بس ایک خیال وہ خواب کاش ان آنکھوں میں عمر بھر ٹھہرے کبھی تو دل کو میسر سکون ہو یا رب کہیں تو جا کے یہ بھٹکی ہوئی نظر ...

مزید پڑھیے

نگری نگری گھوم کے دیکھا ہم کو لگے انجانے لوگ

نگری نگری گھوم کے دیکھا ہم کو لگے انجانے لوگ اپنی اپنی سب کو پڑی ہے درد سے ہیں بیگانے لوگ کیسے کیسے گل ہیں کھلائے اہل خرد کی حکمت نے کون سنے گا بات ہماری ہم ٹھہرے دیوانے لوگ آگ لگانا کھیل تھا جن کا درد کے لالہ زاروں میں شعلۂ سوزاں سے لرزاں ہیں آج وہی فرزانے لوگ کس کی تمنا کون سے ...

مزید پڑھیے

لہو جلا کے اجالے لٹا رہا ہے چراغ

لہو جلا کے اجالے لٹا رہا ہے چراغ کہ زندگی کا سلیقہ سکھا رہا ہے چراغ وفور شوق میں لیلئ شب کے چہرے سے نقاب زلف پریشاں اٹھا رہا ہے چراغ ہمارے ساتھ پرانے شریک غم کی طرح عذاب ہجر کے صدمے اٹھا رہا ہے چراغ یہ روشنی کا پیمبر ہے اس کی بات سنو صداقتوں کے صحیفے سنا رہا ہے چراغ شب سیاہ کا ...

مزید پڑھیے

وہ سردی سے ٹھٹھرتا ہے نہ گرمی ہی ستاتی ہے

وہ سردی سے ٹھٹھرتا ہے نہ گرمی ہی ستاتی ہے یہ موسم ہار جاتے ہیں غریبی جیت جاتی ہے مرے رہبر ہٹا چشمہ تجھے منظر دکھاتا ہوں یہ ٹولی بھوکے بچوں کی غضب تھالی بجاتی ہے مرے رب چاند پونم کا ذرا چورس ہی کر دے تو گولائی دیکھتا ہوں میں تو روٹی یاد آتی ہے یہ منظر دیکھتا ہوں میں تو آنکھیں ...

مزید پڑھیے

اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا

اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا دوسرا کوئی بچھڑنے کا بہانہ بھی نہ تھا کاغذی ناؤ میں سامان مرا لاکھوں کا اور دریا کے سوا کوئی ٹھکانا بھی نہ تھا کاٹ کر پیڑ مکاں اپنا بنانا تھا مگر ان پرندوں کے مکانوں کو گرانا بھی نہ تھا انقلاب آئے گا سنتے ہیں ضرور آئے گا تھک گئی آنکھ ...

مزید پڑھیے

اپنی تو محبت کی اتنی سی کہانی ہے

اپنی تو محبت کی اتنی سی کہانی ہے ٹوٹی ہوئی کشتی ہے ٹھہرا ہوا پانی ہے اک پھول کتابوں میں دم توڑ گیا لیکن کچھ یاد نہیں آتا یہ کس کی نشانی ہے بکھرے ہوئے پنوں سے یادیں سی جھلکتی ہیں کچھ تیری کہانی ہے کچھ میری کہانی ہے ساون کی بہاروں میں نغمہ ہیں نہ جھولے ہیں آکاش کی آنکھوں میں روتا ...

مزید پڑھیے

عشق اب جاوداں نہیں ملتا

عشق اب جاوداں نہیں ملتا یہ فرشتہ یہاں نہیں ملتا آپ لاکھوں میں ایک ہیں صاحب میرے جیسا کہاں نہیں ملتا آپ نے لکھ تو دی کتابیں سو کوئی مصرع رواں نہیں ملتا راہ کے پتھروں سے یاری کر روز تو کارواں نہیں ملتا تم گماں میں ہو تو رہو کچھ روز سبھی کو یہ سماں نہیں ملتا خاک اپنی جبیں پہ مل ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھ جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے والا

ڈھونڈھ جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے والا اب تو سورج سے اندھیرا نہیں جانے والا ہر کسی کو نہ دکھا اپنے غموں کے زیور کانچ کی آنکھ میں آنسو نہیں آنے والا میرے احباب مرے حال پہ روتے ہیں مگر کاش ہوتا کوئی گرتے کو اٹھانے والا تیرے چہرے پہ جو رونق ہے مرے عشق سے ہے صرف غازے سے نہیں نور یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2473 سے 6203