قومی زبان

ہجوم ہم نفساں چارۂ الم نہ ہوا

ہجوم ہم نفساں چارۂ الم نہ ہوا کہ اس طرح غم تنہا روی تو کم نہ ہوا نہ پوچھ دشت طلب میں متاع دامن زیست یہ تار تار تو ہوتا رہا پہ نم نہ ہوا لکھی گئی ہیں جنوں کی حکایتیں کیا کیا مگر وہ قصۂ غم جو کبھی رقم نہ ہوا ملی نہ آبلہ پایان شوق کو منزل کہ فاصلوں کی طرح حوصلہ بھی کم نہ ہوا رہ طلب ...

مزید پڑھیے

کیوں خلوت غم میں رہتے ہو کیوں گوشہ نشیں بے کار ہوئے

کیوں خلوت غم میں رہتے ہو کیوں گوشہ نشیں بے کار ہوئے آخر تمہیں صدمہ کیا پہنچا کیا سوچ کے خود آزار ہوئے کیوں صاف کشادہ رستوں پر تم ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہو کیوں تیرہ و تار سی گلیوں میں تم ان کے خوش رفتار ہوئے کیا اٹھتے بیٹھتے سوچتے ہو کیا لکھتے پڑھتے رہتے ہو اس عمر میں یہ بے کیفی ...

مزید پڑھیے

کام کچھ آ نہ سکی رسم شناسائی بھی

کام کچھ آ نہ سکی رسم شناسائی بھی شامل بزم تھی شاید مری تنہائی بھی کاش تو اپنی طلب میں کبھی پہنچے مجھ تک تیرا ہی آئنہ ہے چشم تماشائی بھی سہل مت سمجھو مرے شوق کی ناکامی کو مفت ملتی ہے کہیں عزت رسوائی بھی چشم بے خواب میں ہے خواب کی صورت اک شخص خود سے غافل بھی ہے اور محو خود آرائی ...

مزید پڑھیے

دل کے سکوں کے واسطے بھٹکے کہاں کہاں

دل کے سکوں کے واسطے بھٹکے کہاں کہاں ٹوٹے ہزار مرتبہ بکھرے کہاں کہاں آخر تو بہہ گیا مری آنکھوں سے زار زار اشکوں کا آبشار ہے سمٹے کہاں کہاں جب حادثے ہی حادثے اپنا نصیب ہیں کس کس پہ روئے آنکھ یہ برسے کہاں کہاں خوشبو ہماری پا کے وہ لوٹ آئے گا کبھی برسوں اسی امید میں مہکے کہاں ...

مزید پڑھیے

میں نکل کے آ گیا ہوں تری بندگی سے آگے

میں نکل کے آ گیا ہوں تری بندگی سے آگے ابھی کتنا راستہ ہے مری زندگی سے آگے تری شمع چھوڑ آیا تری مسجدوں میں یا رب میں تجھی کو ڈھونڈتا ہوں تری روشنی سے آگے مرا حال ہو کچھ ایسا تجھے پا کے بھول جاؤں کوئی ایسی بے خودی ہو مری بے خودی سے آگے جہاں موت سمجھوں اپنی وہیں زندگی جواں ہو کوئی ...

مزید پڑھیے

میں تم کو سوچ رہا ہوں مگر اداس نہیں

میں تم کو سوچ رہا ہوں مگر اداس نہیں تو آبشار سکوں ہے بدن کی پیاس نہیں بنا چھوئے ہی مرے خواب چوم لیتا ہو بہت قریب ہو حالانکہ میرے پاس نہیں خزاں کی رت میں بھی خوشبو سنبھال رکھی ہے میں تم سے دور ہوا ہوں مگر اداس نہیں قریب آن کے بیٹھو مگر گلے نہ لگو دوا جو دل کے لئے ہے بدن کو راس ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈ جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے والا

ڈھونڈ جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے والا اب تو سورج سے اندھیرا نہیں جانے والا ہر کسی کو نہ دکھا اپنے غموں کے زیور کانچ کی آنکھ میں آنسو نہیں آنے والا میرے احباب مرے حال پہ روتے ہیں مگر کاش ہوتا کوئی گرتے کو اٹھانے والا تیرے چہرے پہ جو رونق ہے مرے عشق سے ہے صرف غازہ سے نہیں نور یہ آنے ...

مزید پڑھیے

اک حسیں خواب جو آنکھوں میں بسا ہے وہ ہے

اک حسیں خواب جو آنکھوں میں بسا ہے وہ ہے مجھ سے تنہائی میں جو بول رہا ہے وہ ہے جب کبھی میں نے پڑھی عمر گزشتہ کی کتاب ایک سایا سا جو آہٹ پہ رکا ہے وہ ہے زندگی نے تو کبھی کچھ نہ دیا غم کے سوا عشق نے مجھ کو جو اک روپ دیا ہے وہ ہے میری قسمت کے ستارے ہیں اسی سے روشن چاند بن کر جو مرے دل ...

مزید پڑھیے

جتنے دھاگے یادوں کے تھے بڑھتے بڑھتے جال ہوئے

جتنے دھاگے یادوں کے تھے بڑھتے بڑھتے جال ہوئے آج کا دن پھر لوٹ آیا ہے ہم پھر سے بے حال ہوئے کتنی بہاریں گزریں جانے کتنی خزائیں بیت گئیں کون گنے اب موسم اتنے اس سے بچھڑے سال ہوئے ایک یہی تھی دولت اپنی وہ بھی کس نے چھینی ہے کیا بتلائیں اس کو کھو کر ہم کیسے کنگال ہوئے جانے کس نے ...

مزید پڑھیے

میں چاہتی ہوں اب کے پریشان وہ بھی ہو

میں چاہتی ہوں اب کے پریشان وہ بھی ہو دل کے معاملات میں حیران وہ بھی ہو میں تو تمام عمر ہی تنہا رہی مگر کچھ روز محفلوں میں تو ویران وہ بھی ہو کیوں میں بھی خواب عشق کی قیدی رہوں سدا اک بار بزم عشق کا مہمان وہ بھی ہو اس کے بغیر کیسے کٹی زندگی مری یہ سوچ کر کبھی تو پشیمان وہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2472 سے 6203