قومی زبان

بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر

بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر اتنا جھکا دیا ہے ترے ہجر نے مجھے بچہ بھی سر سے لے گیا دستار کھینچ کر کردار بھی دکھاتا اگر شکل کی طرح دے مارتے زمیں پہ مجھے یار کھینچ کر یہ کائنات میرے تخیل سے چھوٹی ہے دیکھا ہے اس کو میں نے کئی بار کھینچ ...

مزید پڑھیے

اگر کہنے سے پہلے ہو رہا ہے

اگر کہنے سے پہلے ہو رہا ہے نہ پوچھو کس طرح سے ہو رہا ہے محبت وقت سے پہلے تو کر لی گھڑی کا شوق کیسے ہو رہا ہے ہمارے دل میں کچھ اس کی وجہ سے وہ مانے یا نہ مانے ہو رہا ہے تماشا دیکھنے آئی ہو میرا کہ کیسے چاند ٹکڑے ہو رہا ہے تری فوٹو بنا کر کیا بتاؤں کہ کیا کچھ کیمرے پے ہو رہا ...

مزید پڑھیے

چشم کا کر رہا ہوں تر تبدیل

چشم کا کر رہا ہوں تر تبدیل ہو نہیں پا رہا مگر تبدیل اک ضرورت کو دوسری کے ساتھ لوگ کرتے ہیں عمر بھر تبدیل وہاں پھر عشق کے ہوئے مطلب جہاں ہوتے تھے صرف گھر تبدیل یہ تو بس تھان ہے رکھو تم ہاتھ ہونے لگ جائے دل کا بر تبدیل ایک لڑکی بھی اس میں رہتی ہے دل کرو مجھ سے سوچ کر تبدیل جب بھی ...

مزید پڑھیے

حسین عورتوں کو چھوڑ کر عجب سب تھے

حسین عورتوں کو چھوڑ کر عجب سب تھے کوئی ہمارا نہ تھا صاحب نسب سب تھے میں صرف اس لئے زندہ ہوں جب عذاب آئے تو اس سے آنکھیں ملا کر کہوں کہ سب سب تھے حسین عورتیں لشکر میں بھرتی کر دی گئیں شکست ہو گئی دشمن کو کیونکہ اب سب تھے قیامت آئی تو شکوے کے طور پر میں نے مذاق اڑایا کہاں رہ گئی ...

مزید پڑھیے

یہ جو تمہاری محبت سے خوف آتا ہے

یہ جو تمہاری محبت سے خوف آتا ہے مجھے ضرور ضرورت سے خوف آتا ہے سنا ہے حشر میں بھی تو مری نہیں سنے گا سنا ہے جب سے قیامت سے خوف آتا ہے تمہاری دید لیے دیکھ لیتا ہوں تم کو اگرچہ ایسی بصارت سے خوف آتا ہے میں اپنے شہر کا پہلا دریدہ صورت ہوں کچھ اس لیے بھی جراحت سے خوف آتا ہے

مزید پڑھیے

مری عبادتیں جگ پر عیاں نہ ہو جائیں

مری عبادتیں جگ پر عیاں نہ ہو جائیں یہ اس کا در ہے جبیں پر نشاں نہ ہو جائیں کچھ اس لیے بھی ضرورت تھی ہم کو مرہم کی کہیں یہ زخم ہماری زباں نہ ہو جائیں ہم ایسے خواب میں بھی یہ خیال رکھتے ہیں کہ تیری آنکھ سے آنسو رواں نہ ہو جائیں ہم اس لیے بھی نہیں دیکھتے جی بھر ان کو گماں ہوا وہ کہیں ...

مزید پڑھیے

ایک وہ بھی وقت کیا خوب رہے ہیں میاں

ایک وہ بھی وقت کیا خوب رہے ہیں میاں خواب کہ اب آنکھوں میں ڈوب رہے ہیں میاں ایسا نہیں ہے فقط ہجر کا چرچا ہوا وصل سے بھی پہلے منسوب رہے ہیں میاں لفظ ترے حسن کی طرح حسیں لفظ دوست شاعری کرنے کو مطلوب رہے ہیں میاں ہجر کے حامی تو دونوں ہی نہیں تھے مگر وصل میں بھی ہم کہ معیوب رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

موت کی کب رکی ہے گاڑی دوست

موت کی کب رکی ہے گاڑی دوست چاہے تھوڑی بھی ہو سواری دوست وہ وسیلے سے خواب میں آئی پہلی دیکھی گئی تھی اس کی دوست لڑکے کی دوستی کی باتیں ہیں لڑکی ہوتی ہے سب سے اچھی دوست ہم دو بندے ہیں اور سگریٹ ایک اب خبر ہوگی دوستی کی دوست جتنی تم نے سنا دی مجھ کو بات اتنی برداشت مجھ میں تھی بھی ...

مزید پڑھیے

مسافر کو سفر کا مسئلہ ہے

مسافر کو سفر کا مسئلہ ہے اگر تو ہے مگر کا مسئلہ ہے صحافی کو ترے کچے مکاں سے ہے لینا کیا خبر کا مسئلہ ہے میں صاحب مارنے آیا ہوں تم کو یہ میرے اپنے سر کا مسئلہ ہے گھڑی پر وقت دیکھو کیا ہوا ہے مجھے جانا ہے گھر کا مسئلہ ہے یہ ہفتے یا مہینے کا نہیں ہے محبت عمر بھر کا مسئلہ ہے نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی عشق میں اتنی ہی دیر ٹکتا ہے (ردیف .. ت)

کوئی بھی عشق میں اتنی ہی دیر ٹکتا ہے کہ جیسے سامنے سوئی کے کچھ غبارے دوست اب اپنی عمر سے باتیں بڑی نہیں کرنی مجھے بزرگ سمجھنے لگے ہیں سارے دوست میں اس کو فون کروں اور وہ کہے جی کون یہ دل کی ضد ہے کہ فوری کہوں تمہارے دوست یہ عاشقی ہے جو کرتی ہے دل کو دریا بھی پھر اس کے بعد دکھائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2439 سے 6203