میاں زمانے سے لہجہ جدا نہیں تیرا
میاں زمانے سے لہجہ جدا نہیں تیرا یقین کر کہ یقیں اب رہا نہیں تیرا کسی بھی دل کو سلامت نہیں رکھا تو نے کہ کام کوئی بھی اچھا رہا نہیں تیرا وہی ہے خوشبو نئے ہاتھ کی حنا میں مگر ابھی تک آنکھ سے نقشہ مٹا نہیں تیرا مرے خلاف گلی میں ہوئیں تھیں باتیں بہت مگر وہاں کوئی چہرہ دکھا نہیں ...