قومی زبان

میاں زمانے سے لہجہ جدا نہیں تیرا

میاں زمانے سے لہجہ جدا نہیں تیرا یقین کر کہ یقیں اب رہا نہیں تیرا کسی بھی دل کو سلامت نہیں رکھا تو نے کہ کام کوئی بھی اچھا رہا نہیں تیرا وہی ہے خوشبو نئے ہاتھ کی حنا میں مگر ابھی تک آنکھ سے نقشہ مٹا نہیں تیرا مرے خلاف گلی میں ہوئیں تھیں باتیں بہت مگر وہاں کوئی چہرہ دکھا نہیں ...

مزید پڑھیے

اس حوالے سے اسے پند شکیبائی ہو

اس حوالے سے اسے پند شکیبائی ہو تیرے زخموں کی میاں اتنی تو گہرائی ہو کیسے پھر مجھ کو خیال آئے ملاقات کا دوست جب ترا نام بھی لینے میں رسوائی ہو جب بیاں ہونے لگیں پوریں زباں چھو جائیں میری تکلیف کی کچھ ایسی پذیرائی ہو تیری حرکت کی بدولت ہے عبادت میری تو جہاں پیر رکھے میری جبیں ...

مزید پڑھیے

اس سے کیوں کوئی پوچھتا ہی نہیں

اس سے کیوں کوئی پوچھتا ہی نہیں وہ اگر مجھ کو سوچتا ہی نہیں کہنے کو تو وہ جان ہے میری کہنے کا مجھ کو حوصلہ ہی نہیں میری منزل رکھی گئی ہے وہاں جس طرف کوئی راستہ ہی نہیں اس کے ہر پل کی ہے خبر مجھ کو ان دنوں جس سے رابطہ ہی نہیں اس کے اندر چبھا ہوا ہوں میں جانے کیوں مجھ کو ڈھونڈھتا ہی ...

مزید پڑھیے

ہر جگہ اس طرح ہوا ہوں میں

ہر جگہ اس طرح ہوا ہوں میں جیسے کوئی میاں خدا ہوں میں گر تو بھی جانتی نہیں مجھ کو تو بتا کس سے پوچھوں کیا ہوں میں اس کو تو خود کشی نہ سمجھو تم جینے کے واسطے مرا ہوں میں وہ مجھے بے وفا سمجھتا تھا اس لیے بے وفا ہوا ہوں میں ہجر کا فیصلہ ہو تم جاناں وصل کی ایک التجا ہوں میں خود ہی ...

مزید پڑھیے

رات کے پردے میں اک نور کا سیلاب بھی ہے

رات کے پردے میں اک نور کا سیلاب بھی ہے دشت ظلمت میں کہیں وادیٔ مہتاب بھی ہے بہر پرسش ہی سہی آج ترا آ جانا ایک ہی وقت میں تعبیر بھی ہے خواب بھی ہے اصلیت دیکھ مرے چاک گریباں پہ نہ جا عشق چاہے تو بہت صاحب اسباب بھی ہے تو نے سوچا ہے کبھی جلوۂ ارزاں کے اسیر جس کو مہتاب سمجھتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

مجھی میں ڈوب گیا دشمنی نبھاتے ہوئے

مجھی میں ڈوب گیا دشمنی نبھاتے ہوئے خدا بھی ہار گیا مجھ کو آزماتے ہوئے بھٹک نہ جائے وہ دن رات کے اندھیرے میں میں بجھ رہا ہوں جسے راستہ دکھاتے ہوئے گزر رہے ہیں شکستوں کے بھیس میں ہم بھی نئے سفر کے لئے منزلیں بناتے ہوئے الجھ رہا ہے وہ مجھ سے حقیقتوں کی طرح میں جھوٹ بول رہا ہوں اسے ...

مزید پڑھیے

سکوں اگر ہے تو بس لطف انتظار میں ہے

سکوں اگر ہے تو بس لطف انتظار میں ہے کہ بے بسی تو بہ ہر حال اختیار میں ہے یہ خوف بھی ہے کہ اشکوں میں ڈھل نہ جائے کہیں وہ ایک آہ جو نغمے کی انتظار میں ہے تھکا دیا ہے خود اپنی تلاش نے مجھ کو کہ میرا اصل مرے جھوٹ کے حصار میں ہے وہ دشمنوں کا ہو لشکر کہ دوستوں کا ہجوم یہ راز ہے جو ابھی ...

مزید پڑھیے

خود سے اکتائے ہوئے اپنا برا چاہتے ہیں

خود سے اکتائے ہوئے اپنا برا چاہتے ہیں بس کہ اب اہل وفا ترک وفا چاہتے ہیں ان کے ایماں پہ رہا ہے تری قدرت کا مدار یہی عشاق جو معتوب ہوا چاہتے ہیں ہم کہ خود‌ سوز ہیں جینے نہیں دیتے خود کو تو میسر ہے تو کچھ تیرے سوا چاہتے ہیں پتھرو آؤ کہ نادم ہیں شبیہیں خود پر آئنے اپنی جسارت کی سزا ...

مزید پڑھیے

مجھ سے بہتر تو مل گیا ہے تمہیں

مجھ سے بہتر تو مل گیا ہے تمہیں اور اللہ سے کیا گلہ ہے تمہیں ہم اکٹھے نہیں رہیں گے کبھی میرے بچوں کا تو پتا ہے تمہیں میں تمہیں دیکھ بھی نہیں سکتا دیکھنا بھی تو مسئلہ ہے تمہیں یعنی تم اتنی خوب صورت ہو چھوٹا بچہ بھی دیکھتا ہے تمہیں میں تمہارا اگر بتا بھی دوں لوگ پوچھیں گے اور کیا ...

مزید پڑھیے

آدمی آدمی کے بس کا نہیں

آدمی آدمی کے بس کا نہیں اور یہ قصہ سو برس کا نہیں صرف تصویر کھینچ سکتا ہے دکھ ترے کیمرے کے بس کا نہیں جب یہ آتی ہے تو نہیں جاتی آگہی ہے حضور چسکا نہیں جلتی بتی ہے وہ ہوا ہوں میں مسئلہ صرف دسترس کا نہیں رکشے والے نے اس کو بتلایا یہ ترا منتظر ہے بس کا نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 2438 سے 6203