قومی زبان

ایک دفعہ جو ترے زیر اثر اندھا ہوا

ایک دفعہ جو ترے زیر اثر اندھا ہوا اگلی دفعہ بھی وہی ہوگا اگر اندھا ہوا میرے اندر روشنی تھی خون تو تھا ہی نہیں وار کرنے والا پہلے وار پر اندھا ہوا وہ نظر آتا ہے تو پھر کچھ نظر آتا نہیں اس کو جس جس نے بھی دیکھا عمر بھر اندھا ہوا سب اسی کو دیکھ کر آئے ہیں راہ عشق پر جس کا آغاز سفر ...

مزید پڑھیے

وہی آتی وہی جاتی وہی رکتی وہی بڑھتی

وہی آتی وہی جاتی وہی رکتی وہی بڑھتی اسی سے دوستی ہوتی اسی سے دشمنی بڑھتی مجھے جانے دیا ہوتا تو تم اتنی نہیں بجھتیں مری رفتار بڑھتی اور تمہاری روشنی بڑھتی میں کوئی راستہ تھوڑی تھا منزل تھا محبت کی اگر پہلی نظر انداز کرتی دوسری بڑھتی گلے پر نیزہ رکھ کر سر جھکانے کو کہا اس ...

مزید پڑھیے

دنیا کو شاندار کا مطلب نہیں پتا

دنیا کو شاندار کا مطلب نہیں پتا مطلب ہمارے یار کا مطلب نہیں پتا میں نے کہا تلاش کروں گا کہاں تمہیں اس نے کہا قطار کا مطلب نہیں پتا وہ وقت پر ملے نہ ملے فائدے میں ہوں وہ یوں کہ انتظار کا مطلب نہیں پتا اللہ کرے تم آنکھیں دکھاؤ کبھی اسے جس شخص کو خمار کا مطلب نہیں پتا بے باک آدمی ...

مزید پڑھیے

کس کو روشن بنا رہے ہو تم

کس کو روشن بنا رہے ہو تم اتنا جو بجھتے جا رہے ہو تم لوگ پاگل بنائے جا چکے ہیں اب نیا کیا بنا رہے ہو تم گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہی ہیں شہر میں گل کھلا رہے ہو تم ایک تو ہم اداس ہیں اس پر شاعروں کو بلا رہے ہو تم اور کس نے تمہیں نہیں دیکھا اور کس کے خدا رہے ہو تم پھول کس نے قبول کرنے ...

مزید پڑھیے

تجھے میری خموشی سے بھی اندازہ نہیں ہوتا

تجھے میری خموشی سے بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ میں اب صرف باتوں سے تر و تازہ نہیں ہوتا ترا آنا بھی دیکھے گا ترا جانا بھی ہر کوئی محل کی طرح گھر میں چور دروازہ نہیں ہوتا نتیجوں سے بھری دنیا میں پیدا ہونے والوں کا بھروسہ تو بہت ہوتا ہے خمیازہ نہیں ہوتا تری آواز بھاری ہوتی تو سنتا ...

مزید پڑھیے

مجھے بتائیں کہ ٹینشن کیا ہے

مجھے بتائیں کہ ٹینشن کیا ہے جانا ہے جائیں ٹینشن کیا ہے ایک اور ایک دو ہوئے جیسے ہم بھی ہو جائیں ٹینشن کیا ہے سارے دھوکے ہی ایک جیسے ہیں کوئی بھی کھائیں ٹینشن کیا ہے سمجھیں بیکار نوکری ہوں میں چھوڑ کر جائیں ٹینشن کیا ہے میری آنکھیں ہیں میں جدھر دیکھوں دائیں یا بائیں ٹینشن کیا ...

مزید پڑھیے

چراغ جل تو رہے ہیں مگر اندھیرا ہے

چراغ جل تو رہے ہیں مگر اندھیرا ہے نہ جانے شہر میں کیا اور ہونے والا ہے اندھیرا گھر سہی لیکن بہت اجالا ہے نہ جانے آج یہاں کون آنے والا ہے یہ شخص دیکھنے میں اجنبی نہیں لگتا نہ جانے کون سی بستی کا رہنے والا ہے نہ گفتگو میں تسلی نہ خامشی میں صدا سلوک دوست کا انداز ہی نرالا ہے وہ جس ...

مزید پڑھیے

جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلک

جانے لگے ہیں اب دم سرد آسماں تلک ٹھنڈی سڑک بنی ہے یہاں سے وہاں تلک جلتے ہیں غم سے جان و دل و سینہ و جگر چاروں طرف ہے آگ بجھاؤں کہاں تلک بیمار ہو گیا ہوں میں قحط شراب سے للہ لے چلو مجھے پیر مغاں تلک مسجد سے دور ہے یہ دکاں مے فروش کی آتی نہیں ہے کان میں بانگ اذاں تلک نکلا جو دم تو ...

مزید پڑھیے

باغ میں پھول کھلے موسم سودا آیا

باغ میں پھول کھلے موسم سودا آیا گرم بازار ہوا وقت تماشہ آیا سارباں ناقۂ لیلیٰ کو نہ دوڑا اتنا پاؤں مجنوں کے تھکے ہاتھ ترے کیا آیا ایک نالہ نے مرے کام کئے باغ میں وہ گل کو تپ آئی تو شبنم کو پسینہ آیا رو کے میں نے جو کہا آپ کی ہے چاہ مجھے ہنس کے بولے کہ بڑا چاہنے والا آیا جھاڑ دی ...

مزید پڑھیے

کس طرح آئے تری بزم طرب میں آئنہ

کس طرح آئے تری بزم طرب میں آئنہ ہے نظر بند آج کل شہر حلب میں آئنہ ہند سے اس تک جو لے جائے کوئی تصویر یار شرم سے لیلیٰ نہ دیکھے پھر عرب میں آئنہ بزم میں بلوائے جلدی کہ اک مدت سے ہے اشتیاق زلف و خط و چشم و لب میں آئنہ نوکری بھی کی تو حیرانی فقط ہم کو ملی آرسی تنخواہ میں پائی طلب میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2440 سے 6203