ایک دفعہ جو ترے زیر اثر اندھا ہوا
ایک دفعہ جو ترے زیر اثر اندھا ہوا اگلی دفعہ بھی وہی ہوگا اگر اندھا ہوا میرے اندر روشنی تھی خون تو تھا ہی نہیں وار کرنے والا پہلے وار پر اندھا ہوا وہ نظر آتا ہے تو پھر کچھ نظر آتا نہیں اس کو جس جس نے بھی دیکھا عمر بھر اندھا ہوا سب اسی کو دیکھ کر آئے ہیں راہ عشق پر جس کا آغاز سفر ...