قومی زبان

خود مجھ کو بھی معلوم نہیں ہے کہ میں کیا ہوں

خود مجھ کو بھی معلوم نہیں ہے کہ میں کیا ہوں اب تک تو خود اپنی ہی نگاہوں سے چھپا ہوں حالات کے نرغے میں کچھ اس طرح گھرا ہوں محسوس یہ ہوتا ہے تجھے بھول چکا ہوں سمجھا تھا کہ روداد نئے دور کی ہوگی آیا ہے ترا نام تو میں چونک اٹھا ہوں شاید کبھی بچپن میں کہیں ساتھ رہا ہے آئنے میں اک شکل ...

مزید پڑھیے

کس خواب کا اثر ہے جو اب تک نظر میں ہے

کس خواب کا اثر ہے جو اب تک نظر میں ہے منزل کی ایک شبیہ غبار سفر میں ہے سمجھو کہ ایک پرتو منظر نہیں تمام ہے تیرگی وہ راز جو تاب گہر میں ہے دریا کی وسعتوں سے جو خائف رہے وہ لوگ سمجھے نہیں کہ ایک کنارہ بھنور میں ہے ہم منزل یقیں پہ نہ ٹھہرے یہ جان کر خلق خدا کے ساتھ خدا بھی سفر میں ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں سے مگر منحرف رہا نہ گیا

حقیقتوں سے مگر منحرف رہا نہ گیا سو شہر خواب سے اپنا بھی آب و دانہ گیا حریف ذات عجب تھے کہ عمر بھر خود کو برا سمجھتے رہے پر برا کہا نہ گیا جو منتشر ہوں تو حیرت نہ کر کہ دریا میں بھنور کے بعد کسی لہر میں بہا نہ گیا عجیب لمس تھا اب کے جنوں کے ہاتھوں میں قبائے رنگ میں خوشبو سے پھر رہا ...

مزید پڑھیے

وہ ایک پل کا ساتھ بوقت نماز ہے

وہ ایک پل کا ساتھ بوقت نماز ہے محمود آسماں پہ زمیں پر ایاز ہے جینے میں کیا کشش ہے مگر دیکھتے ہیں ہم کتنی تمہارے ظلم کی رسی دراز ہے مانا کہ التفات کے عادی نہیں ہو تم لیکن برائے مشق ستم کیا جواز ہے اس انجمن میں بات نہیں بن سکی مگر اللہ کو سنا ہے بڑا کارساز ہے اپنی کہو ہماری سنو ...

مزید پڑھیے

دریائے شب کے پار اتارے مجھے کوئی

دریائے شب کے پار اتارے مجھے کوئی تنہائی ڈس رہی ہے پکارے مجھے کوئی گو جانتا ہوں سب ہی نشانے پہ ہیں یہاں پاگل ہوں چاہتا ہوں نہ مارے مجھے کوئی مٹھی صدف نے بھینچ رکھی ہے کہ چھو کے دیکھ موتی پکارتا ہے ابھارے مجھے کوئی کانٹوں میں رکھ کے پھول ہوا میں اڑا کے خاک کرتا ہے سو طرح سے اشارے ...

مزید پڑھیے

خشک آنکھوں سے نکل کر آسماں پر پھیل جا

خشک آنکھوں سے نکل کر آسماں پر پھیل جا اے غبار آرزو تا حد منظر پھیل جا موتیوں کی آبروئیں لوٹنے والے بہت سیپ کے قیدی سمندر در سمندر پھیل جا یوں پلک پر جگمگانا دو گھڑی کا عیش ہے روشنی بن کر مرے اندر ہی اندر پھیل جا آ مرے سینے سے لگ جا تو اگر سیلاب ہے اور خوشبو ہے تو جا بستی میں گھر ...

مزید پڑھیے

جاں بہ لب ویسے ہی تھے اور ہمیں مار چلا

جاں بہ لب ویسے ہی تھے اور ہمیں مار چلا دھوپ کے ساتھ کہاں سایۂ دیوار چلا باز گشتوں کے تعاقب سے پریشاں ہو کر میں بھی آواز کے جنگل میں دھواں دھار چلا میں نے ہم زاویہ قابو نہیں پایا اب تک اے تمنا مرے سینے میں نہ تلوار چلا یہ سفر وہ ہے جہاں سانس کے پر جلتے ہیں تجھ کو ضد ہے تو پھر اے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ویرانی سی ہے پلکیں بھیگی بال کھلے

آنکھوں میں ویرانی سی ہے پلکیں بھیگی بال کھلے تو بے وقت پشیماں کیوں ہے ہم پر بھی کچھ حال کھلے ترک وفا پر سوچا تھا حافظ صاحب سے بات کروں اب ڈرتا ہوں جانے کیسی الٹی سیدھی فال کھلے لاکھوں کا حق مار چکے ہو چین کہاں سے پاؤ گے پیدل آگے سرکاؤ تو فرزیں کی بھی چال کھلے باتوں سے تو ناصح کو ...

مزید پڑھیے

کئی سوکھے ہوئے پتے ہرے معلوم ہوتے ہیں

کئی سوکھے ہوئے پتے ہرے معلوم ہوتے ہیں ہمیں دیکھو کہیں سے دل جلے معلوم ہوتے ہیں مہینوں سے جو خالی تھا وہ کمرہ اٹھ گیا شاید یہ الہڑ پن یہ معصومی نئے معلوم ہوتے ہیں سمٹ آتی تھی کس اپنائیت کے ساتھ وہ کٹیا عمارت میں تو ہم دبکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں غموں پر مسکرا لیتے ہیں لیکن مسکرا ...

مزید پڑھیے

زلف رخ پہ سوار کرتے ہوئے

زلف رخ پہ سوار کرتے ہوئے مار ڈالا سنگھار کرتے ہوئے چومنے کو غلط نہ جانیں آپ پیار ہوتا ہے پیار کرتے ہوئے کیوں مرا اعتبار کرتے نہیں وہ مرا اعتبار کرتے ہوئے رابطہ ٹوٹنے لگا اس سے رابطہ استوار کرتے ہوئے توڑ بیٹھے وجود اپنا ہم عشق کو پائیدار کرتے ہوئے

مزید پڑھیے
صفحہ 2437 سے 6203