عید ہے اور ساقئ نو خیز میخانے میں ہے
عید ہے اور ساقئ نو خیز میخانے میں ہے آج پینے کا مزہ پی کر بہک جانے میں ہے کیف و مستی جو تری آنکھوں کے خم خانے میں ہے وہ تری مینا میں ہے ساقی نہ پیمانے میں ہے ہے غم دیوار اس کو اور نہ فکر پیرہن کیا فراغت تیرے دیوانے کو ویرانے میں ہے گر جلانے میں جگر کا خوں ہے لطف انتظار ہجر کی لذت ...