قومی زبان

عید ہے اور ساقئ نو خیز میخانے میں ہے

عید ہے اور ساقئ نو خیز میخانے میں ہے آج پینے کا مزہ پی کر بہک جانے میں ہے کیف و مستی جو تری آنکھوں کے خم خانے میں ہے وہ تری مینا میں ہے ساقی نہ پیمانے میں ہے ہے غم دیوار اس کو اور نہ فکر پیرہن کیا فراغت تیرے دیوانے کو ویرانے میں ہے گر جلانے میں جگر کا خوں ہے لطف انتظار ہجر کی لذت ...

مزید پڑھیے

کوئی نہیں کہ جسے آشنائے راز کریں

کوئی نہیں کہ جسے آشنائے راز کریں تو کیوں نہ پھر غم دل ہی سے ساز باز کریں بنا کے ان کو بھی خوگر نیاز پیہم کا وہ دن بھی آئے کہ ہم بھی بتوں سے ناز کریں حساب ہو چکا کوتاہ دستیوں کا تو اب خیال سلسلۂ گیسوئے دراز کریں اگر شراب میں مستی بھی ہے خمار بھی ہے تو کیوں نہ آرزوئے چشم نیم باز ...

مزید پڑھیے

وجہ‌‌ رنگینئ حیات گئی

وجہ‌‌ رنگینئ حیات گئی تم گئے ساری کائنات گئی موسم گل ہے فصل جامہ دری احتیاج تکلفات گئی جب سے لذت کش جفا ہے دل حاجت چشم التفات گئی صبح تک منتظر رہے انجم تم نہ آئے تمام رات گئی بڑھ گیا اور رنگ استغنا درد دل کہہ کے اپنی بات گئی ان کی آنکھوں سے ڈھل پڑے آنسو مایۂ حسن کی زکوٰۃ ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے مصیبت پر کبھی ماتم نہ کر

کون کہتا ہے مصیبت پر کبھی ماتم نہ کر موت ہے اک پل کی ساری زندگی ماتم نہ کر غم نہ کر ان کے دریچوں پر چراغاں ہو گیا چلتی پھرتی ہے سدا سے روشنی ماتم نہ کر کربلا سے لے کے ریگستان سینائی تلک مٹ نہیں سکتی ہماری تشنگی ماتم نہ کر پھر سے مومن آتش نمرود میں ڈالے گئے ہے یہی سنت خلیل اللہ کی ...

مزید پڑھیے

کام کوئی تو کبھی وقت سے آگے کر جا

کام کوئی تو کبھی وقت سے آگے کر جا اے دل زندہ مرے مرنے سے پہلے مر جا ساغر چشم کو زہراب سے خالی کر دے اور جو بھرتا ہے تو پیمانۂ ہستی بھر جا تشنگی کم ہو مگر دور نہ ہونے پائے اپنے پیاسے کو نہ سیراب محبت کر جا خاک سے تا بہ فلک خواب کا پھیلا دامن کوئی کوشش نہ کہیں اور تمنا ہر جا تو ...

مزید پڑھیے

کیا غم جو فلک سے کوئی اترا نہ سر خاک

کیا غم جو فلک سے کوئی اترا نہ سر خاک جز خاک نہیں کوئی یہاں چارہ گر خاک ملتی ہے شرابوں کی جگہ گرد بیاباں مے خانے کو جاتے ہیں تو کھلتا ہے در‌ خاک صحرا کو گلستان بڑے شوق سے کہہ لو یعنی شجر خاک سے توڑو ثمر خاک درمان‌ محبت ہے نشان کف پا بھی آنکھوں سے لگا کر کبھی دیکھو اثر‌ خاک آغوش ...

مزید پڑھیے

قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے

قطرے میں بھی چھپے ہیں بھنور رقص کیجیے قید صدف میں مثل گہر رقص کیجیے کیجے فسردگیٔ طبیعت کا کچھ علاج اس خاکداں میں مثل شرر رقص کیجیے اک نوجواں نے آج بزرگوں سے کہہ دیا ہوتی نہیں جو عمر بسر رقص کیجیے سوجے ہیں پاؤں آنکھ سے ہی تال دیجئے الجھا ہوا ہے تار نظر رقص کیجیے گردش میں اک ...

مزید پڑھیے

زمین روند چکے آسمان باقی ہے

زمین روند چکے آسمان باقی ہے ابھی کہیں نہ کہیں یہ جہان باقی ہے یہ دور پیسے کا ہے کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون بک گیا کس کی زبان باقی ہے کریں وہ لاکھ جتن پھر بھی کچھ نہیں ہوگا ابھی زمین پہ اس کا مکان باقی ہے ہمیں مٹا دو مگر حق تو چھپ نہیں سکتا گلا کٹا ہے ابھی تو زبان باقی ہے یہ کہہ کے ...

مزید پڑھیے

مجھے ہر زخم وہ اچھے لگے ہیں

مجھے ہر زخم وہ اچھے لگے ہیں تری جانب سے جو مجھ پہ لگے ہیں وہ میرے گھر بھلا آئے بھی کیسے مرے دروازے پہ تالے لگے ہیں کسی نے دل ہمارا توڑ ڈالا تبھی تو ہم غزل کہنے لگے ہیں گنوں میں ہجر کی راتوں کو کیسے یہ کچھ دن سال کے جیسے لگے ہیں نئے کچھ زخم دے دو پھر سے مجھ کو پرانے زخم اب بھرنے ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں ہوگا اب بیاں جاناں

کچھ نہیں ہوگا اب بیاں جاناں ختم ہوتی ہے داستاں جاناں کیسے بولوں کہ تیرے جانے سے لٹ گیا میرا کارواں جاناں اب ملوں گا نہیں کبھی تم کو میں چلا سوئے آسماں جاناں یہ جو تم دور ہو گئے مجھ سے آ گیا کون درمیاں جاناں بن تمہارے یہ حال ہے میرا آب بن جیسے مچھلیاں جاناں تم نے بولا تھا یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2429 سے 6203