قومی زبان

خموشی کی گرہ کھولے سر آواز تک آئے

خموشی کی گرہ کھولے سر آواز تک آئے اشارہ کوئی تو سمجھے کوئی تو راز تک آئے کوئی انجام کب سے منتظر ہے اک حاضر کا کوئی رخت سفر باندھے کوئی آغاز تک آئے زمین دل یہ جم جانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا غبار شوق سے کہہ دو ذرا پرواز تک آئے کوئی محفل بڑی خاموش ہے یادوں سے پھر کہہ دو رباب جاں ...

مزید پڑھیے

رونق ارض و سما شمس و قمر میں ہی ہوں

رونق ارض و سما شمس و قمر میں ہی ہوں غور سے دیکھیے تاحد نظر میں ہی ہوں ہو لیے سارے تماشائی کسی منزل کے رہ گیا میں سو سر راہ گزر میں ہی ہوں مجھ سے مت پوچھ کہ کس طرح سے اجڑی بستی مجھ کو بس دیکھ لے روداد و خبر میں ہی ہوں میں بھی محتاج مسیحائی ترا ہوں لیکن مت ادھر آ کہ مری جان ادھر میں ...

مزید پڑھیے

خدا بھی کیسا ہوا خوش مرے قرینے پر

خدا بھی کیسا ہوا خوش مرے قرینے پر مجھے شہید کا درجہ ملا ہے جینے پر کھنڈر کے گنبد و محراب جاگ اٹھیں گے اسے کہو کہ وہ دھیرے سے آئے زینے پر لکیر ہے نہ کوئی رنگ ہے نہ کلمہ ہے یہ کیسا نقش بنایا ہے میرے سینے پر ابھی امید نئی وسعتوں کی قائم ہے ابھی وہ لوٹ کے آیا نہیں سفینے پر چھتیں بھی ...

مزید پڑھیے

یقین آج بھی وہم و گمان میں گم ہے

یقین آج بھی وہم و گمان میں گم ہے زمین جیسے کہیں آسمان میں گم ہے یہ آفتاب بھی کس زاویے سے ڈھلتا ہے ذرا سی دھوپ لیے آن بان میں گم ہے دریچے دور ہوئے جاتے ہیں مکینوں سے صبا بھی صرف طواف مکان میں گم ہے میں ایک بت ہوں عجائب گھروں میں رکھا ہوا مرا وجود مری داستان میں گم ہے نتیجہ پھر سے ...

مزید پڑھیے

کس نے دیکھی ہے بہاروں میں خزاں میرے سوا

کس نے دیکھی ہے بہاروں میں خزاں میرے سوا کون کر سکتا ہے یہ قصہ بیاں میرے سوا کس کو معلوم ہے صحرا کی ہواؤں کا مزاج ریت پر کون بنائے گا مکاں میرے سوا سب فقیران شب ہجر وطن چھوڑ گئے کون اب دے گا بیاباں میں اذاں میرے سوا تھپکیاں کون سر دشت مجھے دیتا ہے کیا کوئی اور بھی رہتا ہے یہاں ...

مزید پڑھیے

غم دروں کا کوئی ترجماں نہیں نہ سہی

غم دروں کا کوئی ترجماں نہیں نہ سہی جو زخم دل بھی دہان فغاں نہیں نہ سہی یہ کم نہیں ہے کہ آنکھوں میں دل اتر آیا تمہارے سامنے منہ میں زباں نہیں نہ سہی یہاں تو کوئی نہیں جس کا دل ہلا دو گے جگر میں طاقت ضبط فغاں نہیں نہ سہی تجھی سے شکوۂ درد نہاں کریں اے دل ترے سوا جو کوئی راز داں نہیں ...

مزید پڑھیے

محبت اک غم نا اختتام ہوتی ہے

محبت اک غم نا اختتام ہوتی ہے نہ صبح ہوتی ہے اس کی نہ شام ہوتی ہے مئے شباب و غرور شباب کیا کہنا بس ایک گھونٹ میں ترکی تمام ہوتی ہے جو راہ عقل و خرد کے لئے ہے لا محدود جنون عشق میں بس ایک گام ہوتی ہے

مزید پڑھیے

جو دم میں دم ہے تو ساقی کی جستجو ہی سہی

جو دم میں دم ہے تو ساقی کی جستجو ہی سہی نہیں شراب تو سودائے آرزو ہی سہی جو باندھنا ہے تصور ہی اپنی آنکھوں میں تو پھر پیالہ و ساغر ہی کیوں سبو ہی سہی صلوٰۃ شرع نہیں جس کا اہتمام کریں نماز عشق ہے اے دل تو بے وضو ہی سہی جنوں میں چاک ہے دامن تو فکر سوزن کیا جو بن گیا ہے گریباں تو بے ...

مزید پڑھیے

آج پھر بند و سلاسل کا خیال آیا ہے

آج پھر بند و سلاسل کا خیال آیا ہے زلف پر پیچ کا اور دل کا خیال آیا ہے پھر بگولے ہیں رواں بہر‌‌ قدم بوسئ شوق قیس کو لیلئ محمل کا خیال آیا ہے پھر مہ گنبد گرداں سے لگی ہے بازی ہم کو اپنے مہ کامل کا خیال آیا ہے آج پھر آنکھ سے ٹپکا ہے کوئی قطرۂ خوں بعد مدت ہمیں پھر دل کا خیال آیا ...

مزید پڑھیے

رہ خرد میں جہاں سر ہے درد سر بھی ہے

رہ خرد میں جہاں سر ہے درد سر بھی ہے کہ گو مگو بھی اگر بھی ہے اور مگر بھی ہے فقیہ شہر معزز بھی معتبر بھی ہے مگر مراسم الفت سے بے خبر بھی ہے تری نظر کہ نظر بھی نہیں نظر بھی ہے جسے ہماری خبر بھی نہیں خبر بھی ہے یہاں کی قید سے گھبرا رہا ہے دیوانہ کہ اس دیار میں دیوار بھی ہے در بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2428 سے 6203