دل اختیار میں ہے نہ جاں اختیار میں
دل اختیار میں ہے نہ جاں اختیار میں ساقی نے کیا ملا دیا کیف بہار میں تھے چار دن جو زندگئ مستعار میں دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں ساقی کی اک نظر بھی اگر ہم پہ پڑ گئی توبہ کا خون کر کے رہیں گے بہار میں اس بت سے کر کے ذکر وفا ہائے کیا کیا اک پیچ ڈال دی دل بے اعتبار میں تھی کس کی ...