قومی زبان

دل اختیار میں ہے نہ جاں اختیار میں

دل اختیار میں ہے نہ جاں اختیار میں ساقی نے کیا ملا دیا کیف بہار میں تھے چار دن جو زندگئ مستعار میں دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں ساقی کی اک نظر بھی اگر ہم پہ پڑ گئی توبہ کا خون کر کے رہیں گے بہار میں اس بت سے کر کے ذکر وفا ہائے کیا کیا اک پیچ ڈال دی دل بے اعتبار میں تھی کس کی ...

مزید پڑھیے

جان اک بت پہ فدا کرتے ہو کیا کرتے ہو

جان اک بت پہ فدا کرتے ہو کیا کرتے ہو پھر بھی امید وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو ہم سے پیمان وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو ترک دستور وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو وعدہ کرتے ہو وفا کرتے ہو کیا کرتے ہو جرم قانون جفا کرتے ہو کیا کرتے ہو کر کے کونین کو زنجیرئ گیسوئے دراز زلف پیچاں کو دوتا کرتے ہو کیا ...

مزید پڑھیے

نئے نظریے کی تخلیق

کانچ کی رنگین ٹوٹی چوڑیوں کو آئینے کے تین ٹکڑوں میں کسی بھی ڈھنگ سے رکھ دو نیا خاکہ بنے گا جس میں اک ترکیب ہوگی لاکھ جھٹکے دیجئے ہر بار یہ ترکیب اک ترکیب نو میں ہی ڈھلے گی جب بھی کچھ ٹوٹے ہوئے لوگوں میں اپنے تجربات خام کے قصے چھڑیں گے اک نظریہ جنم لے گا

مزید پڑھیے

سب نے مینا کو چوما

کل اپنے پائین باغ میں ہم نے مینا پکڑی تھی کالے مخمل جیسے اس کے پر تھے چونچ سنہری تھی اس کے واسطے ایمن اک پیتل کا پنجرا لائے تھے آپی نے بھی تین کٹورے چاندی کے منگوائے تھے بچے خوش تھے مینا سب سے باتیں کرنے والی ہے خوب مزے سے چیکو اور انگور کترنے والی ہے لیکن مینا پھڑ پھڑ کرتی ...

مزید پڑھیے

دہن میہمان میں کانٹے

دہن میہمان میں کانٹے پہلوئے میزبان میں کانٹے خون تھوکے گا جو بھی کھائے گا آپ کے خاص دان میں کانٹے خوب روؤں کا کیا بھروسا ہے آن میں پھول آن میں کانٹے گل رخسار کی حفاظت کو اس نے لٹکائے کان میں کانٹے چبھ رہے ہیں مرے خیالوں کو باغ‌ جنت نشان میں کانٹے مسکراتی خموشیاں اس کی میرے ...

مزید پڑھیے

بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو

بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو اگر یہ تختۂ گل ...

مزید پڑھیے

ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل

ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل ترے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل مسافروں کو برابر نہیں زمان و مکاں ہوا کا ایک قدم اور حباب کی منزل محبتوں کے یہ لمحے ...

مزید پڑھیے

جوانی مگر اس قدر مستیاں

جوانی مگر اس قدر مستیاں شب و روز شام و سحر مستیاں نہ دل میں ذرا بھی ندامت ہوئی مچاتے رہے رات بھر مستیاں ہواؤں میں لو تھرتھراتی رہی ادھر تھی حیا اور ادھر مستیاں ہوس کاریوں کو مسرت نہ کہہ محبت میں اتنی نہ کر مستیاں جوانی گنواتے ہیں جو زہد میں بڑھاپے میں کرتے ہیں خر ...

مزید پڑھیے

سنیے پیام شمس و قمر رقص کیجیے

سنیے پیام شمس و قمر رقص کیجیے اس دائرے میں شام و سحر رقص کیجیے پاکیزگی فضا کی ترنم نسیم کا کیا چاندنی ہے پچھلے پہر رقص کیجیے تالی بجا رہے ہیں شگوفے نئے نئے آواز دے رہے ہیں شجر رقص کیجیے کیا چھپ چھپا کے چھت کے تلے ناچ میں مزا عریاں نکل کے در سے بدر رقص کیجیے جی چاہتا ہے آج ...

مزید پڑھیے

سیدؔ تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں

سیدؔ تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی اس کو کہیں سے ڈھونڈھ کے لاؤ خبر نہیں دل میں ابل رہے ہیں وہ طوفاں کہ الاماں چہرے پہ وہ سکون ہے مانو خبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2430 سے 6203