قومی زبان

اگر خود اپنے مراتب سے آشنا ہو جائے

اگر خود اپنے مراتب سے آشنا ہو جائے ذرا سی دیر میں انسان کیا سے کیا ہو جائے نہ جانے کتنے دلوں سے امنڈ پڑے آنسو خدا کرے یہ مرا ساز بے صدا ہو جائے کسی کتاب کسی رہنما کی حاجت کیا ہر ایک نقص اگر شعر میں روا ہو جائے عجیب رسم زمانہ ہے اس کو کیا کہئے جو دوسروں کو ملائے وہی برا ہو ...

مزید پڑھیے

نہ کلیاں مسکراتی ہیں نہ پھولوں پر نکھار آئے

نہ کلیاں مسکراتی ہیں نہ پھولوں پر نکھار آئے بڑی بے کیفیوں کے ساتھ ایام بہار آئے کوئی قیمت نہیں ایسے وفا کے عہد و پیماں کی مجھے جس پر یقیں آئے نہ ان کو اعتبار آئے جہاں کے چپے چپے پر گماں ہوتا تھا منزل کا مری منزل میں ایسے مرحلے بھی بے شمار آئے حقیقت اس کے دل سے پوچھئے جذب محبت ...

مزید پڑھیے

جو کسی پر نہ ہوا ہو وہ ستم ہو تو کہو

جو کسی پر نہ ہوا ہو وہ ستم ہو تو کہو اب نرالا کوئی افسانۂ غم ہو تو کہو رہنما جب نہ مرا نقش قدم ہو تو کہو میری رفتار کہیں راہ میں کم ہو تو کہو شرح اندوہ محبت پہ تبسم کیسا یہ کوئی زاویۂ لطف و کرم ہو تو کہو ہر جفا غم ہے مرے ظرف کی پہنائی میں میرے ہونٹوں پہ کبھی ذکر ستم ہو تو کہو میں ...

مزید پڑھیے

فروغ ظلمت شب تک ہی جگمگائیں گے

فروغ ظلمت شب تک ہی جگمگائیں گے سحر ہوئی تو ستارے نظر نہ آئیں گے دوام صرف حقیقت کو ہے زمانے میں جو داستاں ہے اسے لوگ بھول جائیں گے بھٹک رہے ہیں جو منزل کی جستجو میں ابھی وہی سفر کے نئے زاویے بنائیں گے حریف موج و تلاطم ہوں سب یہ نا ممکن نحیف ہیں جو سفینے وہ ڈوب جائیں گے ہمارے ذہن ...

مزید پڑھیے

خام ہے میری محبت ورنہ یہ عالم نہ ہو

خام ہے میری محبت ورنہ یہ عالم نہ ہو وہ خلش بھی کیا خلش ہے دل میں جو پیہم نہ ہو راز سر بستہ نہ کھل جائے ہنسی کے بعد بھی ان کی محفل میں کوئی فطرت شناس غم نہ ہو دے سکے اب تک نہ دستور وفا ترتیب تم کیا رکے دیوار جب بنیاد مستحکم نہ ہو جاتے جاتے بزم اہل غم پہ ہو یہ بھی کرم آپ اس انداز سے ...

مزید پڑھیے

بھٹک رہے ہیں بھٹکتے رہیں گے فرزانے

بھٹک رہے ہیں بھٹکتے رہیں گے فرزانے قریب آ گئے منزل کے تیرے دیوانے بہت قریب تھے جلوے انہیں نہ پہچانے کہاں گیا تھا شعور نظر خدا جانے زباں پہ حرف تمنا نہ آئے کیا پروا سمٹ کے آ گئے نظروں میں دل کے ویرانے حضور حسن جو آئے ہیں بہر عرض مراد انہیں سناؤ مری خامشی کے افسانے گزر گئی مری ...

مزید پڑھیے

خوشا یہ ظرف کہ ہونٹوں پہ ہے تبسم بھی

خوشا یہ ظرف کہ ہونٹوں پہ ہے تبسم بھی لئے ہوئے ہیں تہ چشم سیل قلزم بھی یہ انقلاب محبت یہ اجتناب ترا ہے ناگوار نگاہوں کا اک تصادم بھی اسی چمن میں ہیں ایسے ہزار ہا غنچے نصیب ہو نہ سکا جن کو اک تبسم بھی یہ کیا ضرور کہ اس نے کیا ہو یاد مگر کبھی کبھی تو مزہ دے گیا توہم بھی ہے ترجمان ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہے تھے کہ اب شب گئی سحر آئی

سمجھ رہے تھے کہ اب شب گئی سحر آئی ترے دیار میں وہ روشنی نظر آئی نشاط و غم کا تعلق بھی کیا تعلق ہے ابھی ہنسے بھی نہ تھے ہم کہ آنکھ بھر آئی منا رہے ہیں منانا تھا جن کو جشن بہار مرے نصیب میں تزئین بام و در آئی یہ اور بات کہ سب کچھ کہا ہو سچ تو نے مجھے ہنسی تو تری بات بات پر آئی کمال ...

مزید پڑھیے

غم عطا کر کہ شادمانی دے

غم عطا کر کہ شادمانی دے جو بھی دے مجھ کو جاودانی دے مسکراتے ہیں چوٹ کھا کر بھی کچھ تو انعام زندگانی دے رہ گیا کون قدرداں باقی کس کو آواز خوش بیانی دے ہم سے ان کا گریز ہے جائز کیا مزہ دکھ بھری کہانی دے دھیان کیا دے کوئی تری جانب لطف کب تک غزل پرانی دے آج تک کتنے پھل دئے اس ...

مزید پڑھیے

عتاب میں جو تمہارے دہن سے نکلے ہیں

عتاب میں جو تمہارے دہن سے نکلے ہیں وہ تیر تھے کہ شرارے بدن سے نکلے ہیں فسون جلوہ گری کا کوئی اثر نہ ہوا بہ قید ہوش تری انجمن سے نکلے ہیں کوئی مقام اماں اب نظر نہیں آتا بھری بہار میں شعلے چمن سے نکلے ہیں غم حیات نے بخشی فسردگی کیسی یہ آدمی ہیں کہ مردے کفن سے نکلے ہیں نہ جانے کب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2318 سے 6203