قومی زبان

تمہارے سینے میں دل کے جیسا جو ایک پتھر دھڑک رہا ہے

تمہارے سینے میں دل کے جیسا جو ایک پتھر دھڑک رہا ہے وہ ایک پتھر نہ جانے کتنے دلوں کا مرکز بنا ہوا ہے یہ چاند سے بھی حسین تر ہے جو چاند جیسا چمک رہا ہے فراق کی شب میں آسماں پر تمہارا چہرا ٹنگا ہوا ہے دل شکستہ کے حوصلوں نے ہر ایک منزل کو سر کیا ہے تمہارے در تک بھی آن پہنچے پر اس سے ...

مزید پڑھیے

کام اک یہ ترے عاشق نے بڑا خوب کیا

کام اک یہ ترے عاشق نے بڑا خوب کیا خون سے لکھ کے روانہ تجھے مکتوب کیا یہ بھی کیا کم ہے تری بزم کے ہر سامع نے میرے شعروں کو تری ذات سے منسوب کیا اک مرے قتل پہ واویلا مناسب تو نہیں شر پسندوں نے تو عیسیٰ کو بھی مصلوب کیا جسم پھولوں سا تھا سینے میں رکھا تھا پتھر حوصلہ دیکھیے میں نے ...

مزید پڑھیے

تعلق

وہ مجھ سے سخت نالاں تھی سو اس نے مجھ کو لکھ بھیجا تعلق ختم ہے ناصر مجھے اب کال مت کرنا کوئی میسج اگر آیا تو تم کو بلاک کر دوں گی اگر ملنے کی سوچو گے تو پھر تم سوچ لینا اب سو میں نے بھی یہ لکھ بھیجا کہ جاناں ہم محبت کی اب اس منزل پہ آ پہنچے جہاں سے واپسی کا اب کوئی بھی راستہ کب ہے تعلق ...

مزید پڑھیے

جگر میں درد تو ہے دل میں اضطراب تو ہے

جگر میں درد تو ہے دل میں اضطراب تو ہے تمہارے غم میں مری زندگی خراب تو ہے میں صرف تیرہ شبی پر یقیں نہیں رکھتا ابھی زمیں پہ چمکنے کو آفتاب تو ہے ابھی سرور کے اسباب پائے جاتے ہیں کہ مے کدے میں صراحی تو ہے شراب تو ہے ہر ایک شخص زمانے میں انقلابی ہے کہ انقلاب نہیں فکر انقلاب تو ...

مزید پڑھیے

ان سے مایوس التفات نہیں

ان سے مایوس التفات نہیں گو بظاہر توقعات نہیں عشق ہی وجہ مشکلات نہیں یوں بھی غم سے کہیں نجات نہیں عشق کی عظمتیں بجا لیکن عشق ہی مقصد حیات نہیں جن کو آسائشیں میسر ہیں وہ بھی آسودۂ حیات نہیں عشق ہے تاب آزما لیکن آپ چاہیں تو کوئی بات نہیں وہ خفا اور اک جہاں دشمن اب کوئی صورت ...

مزید پڑھیے

اتنا مانوس ہے دل آپ کے افسانے سے

اتنا مانوس ہے دل آپ کے افسانے سے اب کسی طور بہلتا نہیں بہلانے سے جام و مینا کے تعین سے ہے بالا ساقی ظرف دیکھا نہیں جاتا کسی پیمانے سے آؤ تجدید وفا پھر سے کریں ہم ورنہ بات کچھ اور الجھ جائے گی سلجھانے سے ہے سمجھنا تو محبت سے گزر اے ہمدم بات آئے گی سمجھ میں نہ یوں سمجھانے سے اب ...

مزید پڑھیے

رہ جنوں میں غم زندگی کو مار دیا

رہ جنوں میں غم زندگی کو مار دیا یہ نشہ تلخ تھا ہم نے مگر اتار دیا اب انتظار کی شب جانے کس نگر میں کٹے یہ دن تو ہم نے ترے شہر میں گزار دیا نہ اس نے آپ ہی سوچا فغان دل کا علاج نہ مجھ کو اشک بہانے کا اختیار دیا اک اور سال کا غم دل پہ اشک بن کے گرا اک اور سال ترے ہجر میں گزار دیا دیار ...

مزید پڑھیے

کلی کلی کو دیا باغباں لہو ہم نے

کلی کلی کو دیا باغباں لہو ہم نے کیا ہے تجھ کو گلستاں میں سرخ رو ہم نے خدا کے واسطے اس بے وفا کا نام نہ لو کیا ہے چاک گریباں ابھی رفو ہم نے خزاں کے داغ مٹے کب گلوں کے دامن سے تجھے بھی دیکھ لیا موسم نمو ہم نے خموش رہ کے ترے تند و تلخ لہجے پر بدل دیا ترا انداز گفتگو ہم نے چمن کا رنگ ...

مزید پڑھیے

تو خود کہاں ہے قافلۂ سالار دیکھنا

تو خود کہاں ہے قافلۂ سالار دیکھنا اب ہم کہاں ہیں عالم رفتار دیکھنا ہم چل پڑے ہیں منزل مقصود کے لئے اب سنگ دیکھنا ہے نہ دیوار دیکھنا تزئین گلستاں سے نہیں واسطہ جنہیں ان کے گھروں میں پھول کے انبار دیکھنا جب اذن عرض حال دیا ہے تو چپ رہو اب ناروا ہے تلخیٔ گفتار دیکھنا اے باغباں ...

مزید پڑھیے

بنتی بگڑتی تقدیروں سے رشتہ ہے

بنتی بگڑتی تقدیروں سے رشتہ ہے میرے خواب کا تعبیروں سے رشتہ ہے میرے سر کو نسبت ہے دیواروں سے اور پیروں کا زنجیروں سے رشتہ ہے اس رستے پر گھاس نہیں آئے گی اب اس رستے کا رہ گیروں سے رشتہ ہے دل میں عکس ہے جانے کتنے چہروں کا اس البم کا تصویروں سے رشتہ ہے ہیر کے دل کا رشتہ ہے بس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2319 سے 6203