قومی زبان

درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی

درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی جاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگر ٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی دید کی آسودگی میں کون کیسے دیکھتا درمیاں کتنے حجابوں کی تھکن باقی رہی فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے درس گاہوں میں نصابوں ...

مزید پڑھیے

طاق ماضی میں جو رکھے تھے سجا کر چہرے

طاق ماضی میں جو رکھے تھے سجا کر چہرے لے گئی تیز ہوا غم کی اڑا کر چہرے جن کے ہونٹوں پہ طرب خیز ہنسی ہوتی ہے وہ بھی روتے ہیں کتابوں میں چھپا کر چہرے کرب کی زرد تکونوں میں کئی ترچھے خطوط کس قدر خوش تھا میں کاغذ پہ بنا کر چہرے مو قلم لے کے مرے شہر کی دیواروں پر کس نے لکھا ہے ترا نام ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو

میں سوچتا رہتا ہوں دماغوں میں نہیں جو ہے کون سا وہ پھول کہ باغوں میں نہیں جو ہوتی ہے کسی دیدۂ نمناک کی لو سے وہ روشنی کیسی ہے چراغوں میں نہیں جو دیکھو نہ مرا جسم مری روح جلی تھی یہ داغ ہے وہ جلد کے داغوں میں نہیں جو پانی میں زمینوں پہ ہوا میں اسے کھوجا وہ کیسا نشاں ہے کہ سراغوں ...

مزید پڑھیے

چھجے ہیں سائبان ہیں آگے بڑھے ہوئے

چھجے ہیں سائبان ہیں آگے بڑھے ہوئے گلیوں کے سب مکان ہیں آگے بڑھے ہوئے پس ماندگی عوام کے پیچھے پڑی ہوئی دو چار خاندان ہیں آگے بڑھے ہوئے رستہ تو رک گیا ہے سر منزل گماں قدموں کے کچھ نشان ہیں آگے بڑھے ہوئے گھیرا ہوا ہے چاروں طرف سے زمین کو حد سے یہ آسمان ہیں آگے بڑھے ہوئے خود چل کے ...

مزید پڑھیے

چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہے

چھاؤں پیتی ہے دھوپ کھاتی ہے شب سدا کی چڑیل جاتی ہے اک ستارے پہ آن بیٹھے ہیں ہاتھ میں چاند کی چپاتی ہے اور کچھ ہو نہ ہو زمانے میں ایک دائم سی بے ثباتی ہے میرے دکھ درد گو زمینی ہیں میری تنہائی کائناتی ہے جھیل کو تیرنا نہیں آتا اپنے پانی میں ڈوب جاتی ہے دیکھ کر گھر کی حالت ...

مزید پڑھیے

بس در و دیوار مل جاتے ہیں گھر ملتا نہیں

بس در و دیوار مل جاتے ہیں گھر ملتا نہیں ایسا دستاروں کا جمگھٹ ہے کہ سر ملتا نہیں خواہ دونوں ساتھ مل کر طے کریں یہ فاصلہ اے ہوا تجھ کو بھی کوئی ہم سفر ملتا نہیں قمقموں کی آنچ نے پگھلا دیے منظر تمام چاند اب کوئی کسی بھی بام پر ملتا نہیں اک تقاضا ہوں جو پورا ہی نہیں ہوتا کبھی سچ ...

مزید پڑھیے

زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں

زندہ رہنے میں ہوں شامل اور نہ مر جانے میں ہوں صورت تصویر میں بھی آئنہ خانے میں ہوں یا بہ شکل جنس ہوں حصہ کسی بازار کا یا کسی کردار کا مانند افسانے کا ہوں ایک پل ہوں سکۂ رائج بہ تزک و احتشام دوسرے پل کوڑیوں کے مول بک جانے کو ہوں ہے خسارہ ہی خسارہ ساری ہستی سب وجود میں بھی شامل ...

مزید پڑھیے

رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے

رستہ بھی ہمی لوگ تھے راہی بھی ہمیں تھے اور اپنی مسافت کی گواہی بھی ہمیں تھے جو جنگ چھڑی تھی اسے جیتے بھی ہمیں لوگ رن چھوڑ کے بھاگے وہ سپاہی بھی ہمیں تھے وہ شہر بسا بھی تھا ہماری ہی بدولت اس شہر تمنا کی تباہی بھی ہمیں تھے روشن بھی ہمی سے رہی تقدیر ہماری اور اپنے مقدر کی سیاہی ...

مزید پڑھیے

زخم سنتے ہیں لہو بولتا ہے

زخم سنتے ہیں لہو بولتا ہے چاک چپ ہے تو رفو بولتا ہے خامشی ایسی کہ دیکھی نہ سنی ہر طرف عالم ہو بولتا ہے خواب سمجھوں کہ حقیقت اس کو اک پرندہ لب جو بولتا ہے میں کہ مر کر بھی ابھی زندہ ہوں جسم پر ہر سر مو بولتا ہے اب تو اک نام عطا کر یا رب کس و ناکس مجھے تو بولتا ہے وہ نمازیں کہ ادا ...

مزید پڑھیے

خوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے

خوشنوائی تیرے نیرنگ سے ڈر لگتا ہے مرحبا سنیے تو آہنگ سے ڈر لگتا ہے ہو کھرا بانٹ تو تلنے سے نہیں کوئی گریز ہاں مگر جنبش پاسنگ سے ڈر لگتا ہے مصلحت کا یہ کفن رکھتا ہے بے داغ ہمیں اہل ایمان ہیں ہم رنگ سے ڈر لگتا ہے ہم جو تلوار اٹھا لیں تو قیامت آ جائے ہاں مگر یہ کہ ہمیں جنگ سے ڈر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2307 سے 6203