قومی زبان

پانی میں گم خواب

خواب اور خواہش میں فاصلہ نہیں ہوتا عکس اور پانی کے درمیان آنکھوں میں آئینہ نہیں ہوتا سوچ کی لکیروں سے شکل کیا بناؤ گے درد کی مثلث میں زاویہ نہیں ہوتا بے شمار نسلوں کے خواب ایک سے لیکن نیند اور جگراتا ایک سا نہیں ہوتا جوہری نظاموں میں نام بھول جاتے ہیں کوڈ یاد رہتے ہیں ایٹمی ...

مزید پڑھیے

مرگ پیچ

مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے دوڑتا پھرتا ہوں سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے پہاڑوں اور جھیلوں کی خموشی سے قدیمی گیت سننے ہیں پرانے داستانی بھید لینے ہیں درختوں سے نموکاری کی بابت پوچھنا ہے نت نئی شکلیں بناتے بادلوں کو دیکھنا ہے خوش نوا اچھے پرندوں سے اڑن پھل کا پتا ...

مزید پڑھیے

دیوار قہقہہ

دیکھو دیکھو!! اوپر سے نیچے تک دیکھو آگے سے پیچھے تک دیکھو جنگل اور پہاڑ سے لے کر گھر کے باغیچے تک دیکھو چڑیا باز ہما اور ققنس ہر پنچھی کی بینائی سے حد فلک کی پہنائی سے اڑتے غالیچے تک دیکھو شہروں میں دیہات میں دیکھو دن میں دیکھو رات میں دیکھو رستوں کی اطراف میں دیکھو گدلے میں شفاف ...

مزید پڑھیے

بے خوابی کی آکاس بیل پر کھلی خواہش

مجھ کو سونے دو صدیوں جیسی گہری لمبی نیند جس میں کوئی خواب نہ ہو مجھ کو سونے دو اس لڑکی کی نیند جو اپنی آنکھیں میری آنکھوں میں رکھ کر بھول گئی ہے! مجھ کو سونے دو ان لوگوں کی نیند جن کی آنکھوں میں بادل اور پرندے اڑتے ہیں دریا بہتے ہیں لیکن وہ پیاسے رہتے ہیں مجھ کو سونے دو چاروں ...

مزید پڑھیے

اپنے قاتل کے لیے ایک نظم

اگر میرے سینے میں خنجر اتارو تو یہ سوچ لینا ہوا کا کوئی جسم ہوتا نہیں ہے ہوا تو روانی ہے عمروں کے بہتے سمندر کی لمبی کہانی ہے آغاز جس کا نہ انجام جس کا اگر میرے سینے میں خنجر اتارو تو یہ سوچ لینا ہوا موت سے ماورا ہے ہوا ماں کے ہاتھوں کی تھپکی ہوا لوریوں کی صدا ہے ہوا ننھے بچوں کے ...

مزید پڑھیے

ایک ساحلی دن

سمندر بے کرانی کا انوکھا سلسلہ ہے آسماں بھی اپنے نیلے پن سے اکتایا ہوا ہے پانیوں پر چلتے چلتے نم ہوا کے پاؤں بھی شل ہو چکے ہیں بادباں سونے لگے ہیں ساحلوں پر آفتابی غسل کرتی لڑکیاں بھی لوٹ کر اپنے گھروں کو جا چکی ہیں ریت پر پھیلے ہوئے ہیں ان کے قدموں کے نشاں جسموں کی ننگی ...

مزید پڑھیے

شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے

شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے تہ بہ تہ منجمد تھکن جاگی جسم انگڑائیوں میں چیخ اٹھے دھوپ جب آئینہ بدست آئی عکس بینائیوں میں چیخ اٹھے میں سمندر ہوں کوئی تو سیپی میری گہرائیوں میں چیخ اٹھے رت جگے تن گئے دریچوں پر خواب انگنائیوں میں چیخ اٹھے جب پہاڑوں پہ ...

مزید پڑھیے

عکس ٹوٹا ہے بارہا میرا

عکس ٹوٹا ہے بارہا میرا سنگ خارا ہے آئنہ میرا ساری دنیا مری مخالف ہے ایک بچہ ہے ہم نوا میرا تیز بارش کا میں پرندہ ہوں بادلوں میں ہے گھونسلہ میرا گھر میں مہماں ہوئی ہے تنہائی بھر گیا ہے برآمدہ میرا دو چراغوں سے رات روشن ہے ایک تیرا ہے دوسرا میرا اوپر اوپر سے ٹھیک لگتا ہے زخم ...

مزید پڑھیے

ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے

ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے دیا بھی طاق میں رکھا ہوا ہے کہیں وہ رات بھی مہکی ہوئی ہے کہیں وہ چاند بھی چمکا ہوا ہے ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے کسی بادل کو چھو کر آ رہی ہے ہوا کا پیرہن بھیگا ہوا ہے زمیں بے عکس ہو کر رہ گئی ہے فلک کا آئنہ میلا ہوا ...

مزید پڑھیے

مال اٹھا اور دکان خالی کر

مال اٹھا اور دکان خالی کر یہ زمان و مکان خالی کر جا کہیں اور کر شکار اپنا چھوڑ جنگل مچان خالی کر جا کنارے پہ جا کے بیٹھ کہیں اے ہوا بادبان خالی کر اب کسی اور کو بھی باری دے اے پرندے اڑان خالی کر روشنی کے لئے جگہ تو بنا رات کا درمیان خالی کر منتظر ہیں امیدوار نئے کمرۂ امتحان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2306 سے 6203